ٹرمپ کے پاکستان بارے خیالات کو مثبت لینا چاہیے،ذاتی مفادات کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دی جائے،مجیب الرحمان شامی

ٹرمپ کے پاکستان بارے خیالات کو مثبت لینا چاہیے،ذاتی مفادات کے بجائے قومی ...
ٹرمپ کے پاکستان بارے خیالات کو مثبت لینا چاہیے،ذاتی مفادات کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دی جائے،مجیب الرحمان شامی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے عمران خان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کے پاکستان بارے خیالات کو مثبت لینا چاہیے،ذاتی مفادات کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دی جائے،جنگ اچھی چیز نہیں مسائل حل ہونے کے بجائے اضافہ ہوتاہے،مسائل کو مذاکرات کی میز پر حل کرنا چاہیے۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام” نقطہ نظر“ میں تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈٹرمپ نے ٹیلیفونک رابطے پر نواز شریف کو جس طریقے سے پاکستان کے حق میں جواب دیا ہے پوری دنیا ہل چکی ہے،نواز شریف کے کلنٹن سے بھی اچھے تعلقات رہے ہیں،اردن میں پریس کانفرس تھی کہ ایک صبح کلنٹن نواز شریف کو ڈھونڈتے ہوئے ان کے کمرے تک آگئے ، ایک سوال کے جواب میں تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ مستقبل میں جیسے حالات ہیں پاکستان کو امریکہ کی سپورٹ کی ضرورت ہوگی، مگر کچھ لو گ ایسے ہیں جو ڈونلڈٹرمپ کے خون کے پیاسے ہیں ،عمران خان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ بھی نواز شریف کو نہیں بچا سکتا،عمران خان صاحب کو ذاتی اور قومی مفاد کو الگ الگ رکھنا چاہیے۔

مردم شماری پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا اصولی موقف درست ہے، مردم شماری بہت پہلے ہونی چاہیے تھی اگر فوج تیار ہوجاتی ہے تو ان کے تعاون سے مردم شماری ممکن ہے،مجیب شامی کا پاک بھارت تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان میں اللہ تعالی نے جس شخص کو بھی عقل دی وہ مذاکرات پر یقین رکھتا ہے،جنگ اچھی چیز نہیں اس سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مسائل میں اضافہ ہوتاہے،مسائل کو مذاکرات کی میز پر حل کرنا چاہیے۔

اسدی فوج کے خلاف برسر پیکارحلب کے باغی دھڑے متحد،ترک صدر نے بھی ”یوٹرن“لے لیا

انہوں نے لاہور میں جاری میگا پروجیکٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اورنج لائن ٹرین منصوبے نے لاہوریوں کی ناک میں دم کر رکھا ہے لوگ دھول مٹی کے باعث سانس کی بیماریوںمیں مبتلا ہورہے ہیں،سپریم کورٹ کو چاہیے کہ اعتراضات کے باعث رکے ہوئے منصوبے کا جلد از جلد فیصلہ کرے حالانکہ منصوبے پر لگے اعتراضات کو پہلے ہی نمٹا لینا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا اور اب اعتراضات کی وجہ سے منصوبہ التوا کا شکار ہورہاہے،جو تاریخی مقامات متاثر ہوئے ہیں وہ دوبارہ تعمیر نہیں ہوسکتے مگر بچے ہوئے مقامات کی حفاظت کے اقدامات کیے جائیں۔

مزید : قومی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...