’سعودی عرب کی اس جیل میں یہ انتہائی خوفناک کام کیا جارہا ہے‘ سب سے خطرناک الزام لگ گیا، پکڑے جانے والے سعودی نے ایسی بات کہہ دی کہ امریکی بھی گھبراگئے

’سعودی عرب کی اس جیل میں یہ انتہائی خوفناک کام کیا جارہا ہے‘ سب سے خطرناک ...
’سعودی عرب کی اس جیل میں یہ انتہائی خوفناک کام کیا جارہا ہے‘ سب سے خطرناک الزام لگ گیا، پکڑے جانے والے سعودی نے ایسی بات کہہ دی کہ امریکی بھی گھبراگئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک)شدت پسندوں کو راہ راست پر لانے کے لئے سعودی دارالحکومت میں قائم کیا گیا بحالی مرکز ”پرنس محمد بن نائف کونسلنگ اینڈ کیئر سنٹر“ روز اول سے ہی عالمی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ اس وسیع وعریض بحالی مرکز کا شاندار ماحول، پرآسائش سہولیات اور جدید طرز کے تربیتی پروگرام دنیا کے لئے حیرت کا باعث بنے رہے، لیکن اب القاعدہ کے ایک سابق سینئر رکن نے اس مرکز کے بارے میں انتہائی خطرناک دعویٰ کرکے دنیا میں ہلچل مچادی ہے۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق گوانتاناموبے میں قید القاعدہ کے سابق رکن غسان عبداللہ الشربی نے امریکی حکام کو حالیہ تحقیقات کے دوران بتایا کیا ہے کہ سعودی دارالحکومت میں قائم بحالی مرکز دہشتگردوں کو سدھارنے کی بجائے شدت پسندی کی تربیت کا مرکز بن چکا ہے۔ امریکی حکام الشربی کو بھی بحالی کے لئے سعودی مرکز میں بھیجنا چاہتے تھے مگر اس نے یہ کہہ کر جانے سے انکار کردیا ہے کہ بظاہر بحالی کا مرکز نظر آنے والی جگہ اصل میں نئی طرز کے شدت پسند تیار کرنے کا ادارہ بن چکی ہے۔

خواتین اپنے شوہر کی مرضی کے بغیر سفر نہیں کر سکتیں:سعودی عالم دین

ویب سائٹ آر ٹی کی رپورٹ کے مطابق دارالحکومت میں واقع یہ مرکز 10 فٹ بال میدانوں کے برابر رقبے پر محیط ہے اور اس میں اولمپک سائز سوئمنگ پول، ٹیبل ٹینس، سوانا باتھ، جم اور ٹیلی ویژن ہال جیسی جدید ترین سہولیات دستیاب ہیں۔ یہاں مقیم شدت پسندوں کو اچھے رویے کا مظاہرہ کرنے پر خصوصی اپارٹمنٹس میں قیام کی اجازت دی جاتی ہے جہاں وہ اپنی بیگمات کے ساتھ وقت گزارسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق الشربی نے اپنے الزامات میں کہا ہے ”آپ لوگ مجھے واپس سعودی عرب بھیجنا چاہتے ہیں کیونکہ آپ سمجھتے ہیں کہ وہاں شدت پسندوں کی بحالی کا پروگرام جاری ہے۔ اگرچہ بظاہر ایسا ہی ہے لیکن حقیقت یہ نہیں ہے۔ دراصل وہاں شدت پسند بنانے کا پروگرام جاری ہے۔ وہ تمہیں بظاہر یہی بتاتے ہیں کہ وہ دہشتگردی کے خلاف لڑیں گے۔ لیکن حقیقت میںا س کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کی حمایت کریں گے ۔ آپ کثیر تعدادمیں انسانوں کو قتل کرنے والے شخص کا ذہن اسے ٹیبل ٹینس کھلا کر تبدیل نہیں کرسکتے۔ سعودی یہ تاثر دے رہے ہیں کہ وہ کچھ کررہے ہیں، جو امریکیوں کو کچھ اچھا لگتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ شام، لیبیا اور دیگر جگہوں پر شدت پسندی پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ اتنی تبدیلی ضرور پیدا کرتے ہیں کہ وہاں جانے والوں کو اپنی مرضی کا جنگجو بنادیتے ہیں، جو مختلف خطوں میں جاکر ان کی لڑائی لڑے۔“

مزید : عرب دنیا