’انتہائی خوفناک تباہی آنے والی ہے اور آپ کو بھاگنے کے لئے صرف 15 منٹ ملیں گے کیونکہ۔۔۔‘

’انتہائی خوفناک تباہی آنے والی ہے اور آپ کو بھاگنے کے لئے صرف 15 منٹ ملیں گے ...
’انتہائی خوفناک تباہی آنے والی ہے اور آپ کو بھاگنے کے لئے صرف 15 منٹ ملیں گے کیونکہ۔۔۔‘

  

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) سورج کی سطح پر خوفناک طوفان اٹھتے رہتے ہیں جن کے متعلق اب ماہرین نے خوفناک پیش گوئی کر دی ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ”سورج کی سطح پر اٹھنے والے ان طوفانوں کی لہریں اب کسی بھی وقت زمین تک پہنچ سکتی ہیں اور ہمیں اس کی صرف 15منٹ پیشگی وارننگ مل سکے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری زمین کے ماحول کے ساتھ ساتھ خلاءکے موسم میں بھی انتہائی شدید تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، جن کی وجہ سے ان شمسی طوفانوں کے زمین تک پہنچنے کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے اور اگر یہ زمین تک پہنچ گئے تو زمین کا مقناطیسی مدار، ہمارے بجلی کے گرڈ سٹیشن اور ہر طرح کا کمیونی کیشن نظام تباہ و برباد ہو جائے گا۔“

اگر کوئی تابکاری حملہ ہو یا کوئی بڑی قدرتی آفت آجائے تو بچنے کے لئے سب سے پہلے یہ کام کریں، ماہرین نے انتہائی اہم مشورہ دے دیا

ایک ماہر ڈاکٹر میلینی ونڈریج کا کہنا ہے کہ ”شمسی مقناطیسی طوفان کا زمین تک پہنچنے کا خدشہ اس قدر زیادہ ہو چکا ہے کہ یہ تباہ کن حادثہ کسی بھی وقت رونما ہو سکتا ہے اور ہمارے پاس اس سے محفوظ رہنے کے لیے صرف 15منٹ کا وقت ہو گا۔ “ ان کا کہنا تھا کہ ”ہماری ٹیکنالوجی جتنی جدید تر ہوتی جا رہی ہے اتنا ہی ہم خلائی موسم کے نشانے پر آتے جا رہے ہیں۔ اگر یہ خوفناک شمسی لہریں زمین تک پہنچ جاتی ہیں تو اس سے ہمارا جی پی ایس نظام بھی تباہ ہو جائے گا اور یہ فضائی سفر کو بھی ناممکن بنا دے گا۔اس کی طاقتور لہریں گرڈ سٹیشنوں میں کرنٹ کی صورت داخل ہو کر انہیں ناکارہ بنا دیں گی اور پوری دنیا تاریکی میں ڈوب جائے گی اور تمام کاروبار بند ہو جائیں گے۔“

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

رپورٹ کے مطابق 1859ءمیں اس طرح کا ایک واقعہ رونما ہو چکا ہے، جب طاقتور شمسی مقناطیسی طوفان زمین سے ٹکرا گیا تھا اور ہر طرح کی کمیونی کیشن کا نظام درہم برہم ہو گیا تھا۔میلینی کا کہنا ہے کہ ”اس دور میں انسان اس قدر ٹیکنالوجی پر انحصار نہیں کرتا تھا لیکن آج صورتحال مختلف ہے۔ آج اگر ویسا ہی واقعہ ہوتا ہے تو ہماری زندگیاں قطعی طور پر مفلوج ہو جائیں گی۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس