ماحولیات اور اسلامی تعلیمات

ماحولیات اور اسلامی تعلیمات
 ماحولیات اور اسلامی تعلیمات

  

نسل انسانی کو اپنی بقا کے لئے سب سے بڑا خطرہ ماحولیاتی آلودگی سے ہے، جس کا سبب بھی خود حضرت انسان ہی ہے۔ جس نے کرۂ ارض کے حسن اور خوبصورتی کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیاں، درجہ حرارت میں اضافہ، سیلاب، خشک سالی اور دیگر قدرتی آفات سے ہمارا پالا پڑ رہا ہے۔ تحفظ ماحول کے لئے عملی اقدامات کے حوالے سے جرمنی کے شہر بون میں رواں ماہ دو ہفتے تک جاری رہنے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں تقریباً پچیس ہزار مندوبین مختلف سیشنز میں شریک ہوئے۔ کانفرنس کا مقصد ماحولیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنا تھا۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ تحفظ ماحول کا موضوع مزید اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ تمام عالمی رہنماؤں نے اپنے خطاب کے دوران ضرررساں گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اقوام متحدہ کے رکن 195 ممالک عالمی درجہ حرارت کو 1.5 یا دو سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کی خاطر کسی سمجھوتے پر پہنچنے کی کوششوں میں مصروف عمل رہے۔ کانفرنس میں زیادہ توجہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ریاستوں پر رکھی گئی۔ کانفرنس کا دوسرا اہم موضوع 2020ء کے بعد سبز مکانی گیسوں کے اخراج میں کمی کے حوالے سے نئے ضابطے طے کرنا بھی تھا۔ اس موقع پر تحفظ ماحول کے لئے سرگرم کارکنان جرمن چانسلر انجیلا مرکل سے کوئلے کے استعمال کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کرتے رہے۔

گزشتہ سو سال میں زمین کے اوسط درجہ حرارت میں 0.8 درجے کا اضافہ ہوا ہے۔ اس میں سے 0.6 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ گزشتہ تین عشروں میں دیکھنے میں آیا ہے۔ مصنوعی سیاروں سے حاصل شدہ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ حالیہ عشروں میں سمندر کی سطح تین ملی میٹر سالانہ اونچی ہو گئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پانی گرم ہو کر پھیل جاتا ہے۔ تیزی سے آباد ہوتے کئی بڑے شہر خطرے میں ہیں۔ 1990ء میں چین کا '' پوڈونگ '' نامی خطہ ایک زرعی علاقہ تھا۔ اب اس شہر میں پانچ ملین سے زائد انسان بستے ہیں۔ مالدیپ سمیت کئی جزیروں کا وجود خطرے میں ہے۔ نصف بلین کے قریب انسان موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہجرت پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ ساحلی علاقوں میں سمندر کا کھارا پانی زمین کو بنجر بنا رہا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے کا سبب صرف صحرا ہی نہیں بن رہے۔ '' آرال '' سی دنیا کی چوتھی سب سے بڑی جھیل تھی۔ یہ اب مکمل طور پر خشک ہو چکی ہے۔ افریقہ میں '' خطہ ساحل '' میں زمین تیزی سے بنجر ہو رہی ہے۔ خطے کے انسان زندہ رہنے کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ جنگل ختم ہو رہے ہیں۔ ایمازون کے جنگلوں میں ہر تین سیکنڈ میں سو درخت ختم ہو جاتے ہیں۔ برازیل کا برساتی جنگل راستے اور ڈیم بنانے کے لئے ختم ہی کر دیا گیا۔ جنگلوں اور درختوں کے خاتمے کا مطلب فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ میں اضافہ بھی ہے۔ اور زمین کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ بھی۔

ماحولیاتی مسائل کی وجہ سے نسل انسانی کو اپنی بقا کا مسلہ درپیش ہے۔ دین اسلام جو ایک مکمل اور آخری دین ہے، اس نے ان مسائل اور معاملات کے بارے میں اہم تعلیمات دی ہیں۔ رب العزت نے کائنات کی تخلیق کے بعد اس کی حفاظت کا نظام بھی بنایا جس طرف سورہٓ رحمان کی ساتویں اور آٹھویں آیت میں اس کا اشارہ کیا ہے۔ اگر زمین کے گرد کرۂ ہوائی نہ ہوتا تو زمین کا درجہ حرارت منفی 15 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا۔ کرۂ ہوائی ایک ہزار میل تک اوپر جاتا ہے۔ پہلی تہہ Troposphere سطح زمین سے سات میل اوپر ہے۔ Stratosphere دوسری تہہ ہے ، اس میں ہوا گردش نہیں کرتی، اس لئے یہ گرم ہے۔ Meshophere تیسری تہہ ہے، یہ بہت اہم ہے، اس میں اوزون گیس ہے، جسے قرآن مجید نے میزان سے تعبیر کیا ہے۔ یہ زیادہ توانائی کی لہروں کو آسمان سے زمین تک نہیں پہنچنے دیتی۔ انسانی کارروائیوں سے گرین ہاؤس گیسوں کے بے انتہا اخراج سے اس تہہ کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ جس کی وجہ سے دنیا میں تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ چوتھی تہہ Lonosphere اس سے اوپر خلا میں ہے، جہاں درجہ حرارت 1600 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ سورۂ ملک کی آیت تین اور چار میں کائنات کے نظام اور حفاظت کو سائنسی اور عقلی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

ارشاد ہوتا ہے کہ جس نے سات (یا متعدد) آسمانی کرے باہمی مطابقت کے ساتھ (طبق در طبق) پیدا فرمائے، تم خدائے (رحمان) کے نظام تخلیق میں کوئی بے ضابطگی اور عدم تناسب نہیں دیکھو گے، سو تم نگاہ (غورو فکر) پھیر کر دیکھو، (ہر بار) نظر تمہاری طرف تھک کر پلٹ آئے گی، اور وہ (کوئی بھی نقص تلاش کرنے میں) ناکام ہو گی۔ اگر زمین پر دباؤ نہ ہوتا تو ہم یہاں عدم توازن کی وجہ سے زندہ ہی نہیں رہ سکتے۔ صرف ایک منٹ دماغ کو آکسیجن نہ ملے تو اس کے خلیات مرنا شروع ہو جاتے ہیں اور اگر یہ سلسلہ تین منٹ تک جاری رہے تو موت واقعہ ہو سکتی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعلیمات میں درختوں کو کاٹنے کی واضح ممانعت آئی ہے۔ حتیٰ کہ جنگ میں بھی درخت کاٹنے سے منع کیا گیا ہے۔ مسلمان فوجوں کو اس بات کی ہدایت تھی کہ وہ شہروں اور فصلوں کو تباہ نہ کریں۔ یہ ہماری انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم زمین اور اس کی فضا کو آلودگی سے بچائیں، اس میں اپنا کردار ادا کریں اور ہر اس عمل سے اجتناب کریں جس سے زمین کے حسن اور ماحولیات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔

مزید : کالم