رسولِ رحمتؐ اور حقوقِ نسواں

رسولِ رحمتؐ اور حقوقِ نسواں
 رسولِ رحمتؐ اور حقوقِ نسواں

  

نبی اکرم ؐجس معاشرے میں مبعوث ہوئے، وہ مکمل طور پر ’’جس کی لاٹھی، اس کی بھینس‘‘کا نمونہ پیش کرتا تھا۔ طاقت ور قبائل اپنے سے کمزور قبائل کو دبا لیتے اور ان کے حقوق سے انہیں محروم کر دیتے۔ اسی طرح شخصیات کا معاملہ تھا۔ جو شخص جتنی قوت اپنے پاس رکھتا تھا، اتنا ہی معتبر، معزز اور قابلِ احترام شمار ہوتا تھا۔ انسان اپنی انسانیت کھو بیٹھا تھا اور احترامِ انسانیت کی بات کرنے والوں کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ معاشرے میں زیادہ مظلوم وہ لوگ تھے، جنہیں غلام اور لونڈیاں کہا جاتا تھا۔ اس کے ساتھ بحیثیت مجموعی عورت بھی حقیر اور کمتر شمار ہوتی تھی۔ بیٹیوں کو عار سمجھا جاتا اور انہیں زندہ درگور کر دیا جاتا۔ اللہ کا ارشاد ہے: ’’یہ خدا کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں، سبحان اللہ! اور اُن کے لئے وہ جو یہ خود چاہیں؟ جب اِن میں سے کسی کو بیٹی کے پیدا ہونے کی خوش خبری دی جاتی ہے تو اُس کے چہرے پر کَلَونس چھا جاتی ہے اور وہ بس خون کا سا گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے۔ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے کہ اس بری خبر کے بعد کیا کسی کو منہ دکھائے۔ سوچتا ہے کہ ذِلّت کے ساتھ بیٹی کو لئے رہے یا مٹی میں دبا دے‘‘؟۔۔۔(النحل16: 59-57) ۔۔۔ سورۃ الزخرف آیات 16 تا18 میں بھی اس مضمون کو بیان کیا گیا ہے۔

نبی اکرم ؐ نے عورت کو بے انتہا عزت و احترام دیا۔ آپؐ جب بھی کوئی لشکر کفار کے مقابلے پر بھیجتے، صحابہ کو تلقین فرماتے کہ وہ کسی کمزور بوڑھے، بچے اور خاتون پر ہر گز ہاتھ نہ اٹھائیں۔ غزوۂ احد میں حضرت ابو دجانہؓ کو اپنی تلوار مبارک دی تو تاکید کی کہ کسی خاتون پر اسے نہ چلائیں۔ ایک جنگ میں کفار کی لاشوں کے درمیان آپؐ نے ایک کافر عورت کی لاش دیکھی تو سخت ناراضی کے عالم میں فرمایا: ’’لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ عورت بھی ان کے ہاتھ سے نہیں بچی؟ اسلام میں عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی چاروں حیثیتوں میں اتنا اعزاز و اکرام بخشا گیا ہے کہ دنیا کی کسی تہذیب، مذہب اور معاشرے میں اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ ماں کے متعلق آنحضورؐ نے ارشاد فرمایا: معاویہ بن جاہمہ سے روایت ہے کہ میرے والد جاہمہ رسول اللہ ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : میرا ارادہ جہاد میں جانے کا ہے اور میں آپ سے اس بارے میں مشورہ لینے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ آپؐ نے اُن سے پوچھا: کیا تمہاری ماں ہے؟ انہوں نے عرض کیا: ہاں ! آپؐ نے فرمایا: تو پھر انہی کے پاس اور انہی کی خدمت میں رہو، اُن کے قدموں میں تمہاری جنت ہے۔(مسند احمد، سنن نسائی بحوالہ معارف الحدیث ج6، ص 51)

اللہ و رسولؐ کے نزدیک ماں کا مقام و درجہ اتنا عظیم ہے کہ بڑے گناہوں کی معافی ماں کی خدمت سے مل جاتی ہے اور پھر اگر ماں نہ ہو تو خالہ، پھوپھی وغیرہ کی خدمت کا بھی وہی درجہ ہے۔ یہاں تک کہ ایک حدیث میں تو یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ ماں باپ موجود نہ ہوں تو ان سے دوستی رکھنے والے دوست اور سہیلیاں بھی اسی طرح عزت و احترام کے مستحق ہیں، جس طرح والدین کا معاملہ ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: حضرت! میں نے ایک بہت بڑا گناہ کیا ہے تو کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے (اور مجھے معافی مل سکتی ہے) آپ نے پوچھا: تمہاری ماں زندہ ہے؟ اس نے عرض کیا کہ : ماں تو نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: تو کیا تمہاری کوئی خالہ ہے؟ اس نے عرض کیا کہ ہاں خالہ موجود ہے۔ آپ نے فرمایا: تو اس کی خدمت اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو (اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے تمہاری توبہ قبول فرمالے گا اور تمہیں معاف فرما دے گا۔۔۔ (جامع ترمذی)

بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کی بھی آنحضورؐنے بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے، حتیٰ کہ اپنے آخری ایام میں بھی آپؐ بیویوں اور غلاموں کے حقوق پر زور دیتے رہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐنے فرمایا: لوگو! بیویوں کے ساتھ بہتر سلوک کے بارے میں میری وصیت مانو ( میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ اللہ کی ان بندیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو، نرمی اور مدارات کا برتاؤ رکھو) ان کی تخلیق پسلی سے ہوئی ہے (جو قدرتی طور پر ٹیڑھی ہوتی ہے) اور زیادہ کجی پسلی کے اوپر کے حصے میں ہوتی ہے، اگر تم اس ٹیڑھی پسلی کو (زبردستی) بالکل سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو وہ ٹوٹ جائے گی، اور اگر اُسے یونہی اپنے حال پر چھوڑ دو گے (اور درست کرنے کی کوئی کوشش نہ کرو گے) تو پھر وہ ہمیشہ ویسی ہی ٹیڑھی رہے گی، اس لئے بیویوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی میری وصیت قبول کرو۔۔۔ (بخاری ومسلم)

آنحضورؐہر معاملے میں امت کے لئے اسوۂ حسنہ ہیں۔ اس حوالے سے آپؐ نے اپنی مثال دے کر ارشاد فرمایا: حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐنے فرمایا: وہ آدمی تم میں زیادہ اچھا اور بھلا ہے جو اپنی بیوی کے حق میں اچھا ہو۔ (اسی کے ساتھ فرمایا) اور میں اپنی بیویوں کے لئے بہت اچھا ہوں۔ (جامع ترمذی) جہاں تک بیٹیوں اور بہنوں کا تعلق ہے، ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور محبت کو جنت کا پروانہ قرار دیا گیا ہے۔ عرب معاشرے میں بیٹیوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا تھا، اس کا تذکرہ اوپر ہوچکا ہے۔ اس کے مقابلے میں اسلام نے انہیں اتنی عزت اور احترام دیا، جس کا تصور بھی قدیم و جدید دور کے کسی اور معاشرے میں محال ہے۔ زندہ درگور کی جانے والی بچیوں کے بارے میں اللہ نے ارشاد فرمایا: ’’اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری گئی‘‘؟۔۔۔ (التکویر 81:9-8)

عربوں کے ہاں بعض قبائل میں بچیوں کی پیدایش کے خدشے ہی سے ان کی ماؤں کی زچگی کے دوران گڑھے کھود دیئے جاتے تھے۔ اگر کسی طریقے سے وہ بچی بچ جاتی تو بھی باپ موقع کی تلاش میں رہتا کہ کب اسے ٹھکانے لگا دیا جائے۔ ایک دفعہ ایک شخص نے نبی مہربانؐ کے سامنے اپنے زمانۂ کفر کا ایک دردناک واقعہ بیان کیا۔ اس نے کہا: ’’میری ایک بیٹی تھی جو مجھ سے بہت مانوس تھی۔ جب میں اس کو پکارتا تو دوڑی دوڑی میرے پاس آتی تھی۔ ایک روز میں نے اس کو بلایا اور اپنے ساتھ لے کر چل پڑا۔ راستے میں ایک کنواں آیا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کنویں میں دھکا دے دیا۔ آخری آواز جو اس کی میرے کانوں میں آئی وہ تھی ہائے ابّا، ہائے ابّا۔ یہ سن کر رسول اللہ ؐرو دیے اور آپ کے آنسو بہنے لگے۔ حاضرین میں سے ایک نے کہا: اے شخص! تو نے حضورؐ کو غمگین کر دیا۔ حضورؐنے فرمایا: ’’اسے مت روکو، جس چیز کا اسے سخت احساس ہے، اس کے بارے میں اسے سوال کرنے دو‘‘۔ پھر آپؐ نے اس سے فرمایا کہ اپنا قصہ پھر بیان کر۔ اس نے دوبارہ اسے بیان کیا اور آپؐ سن کر اس قدر روئے کہ آپ کی ڈاڑھی آنسوؤں سے تر ہوگئی۔ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا کہ جاہلیت میں جو کچھ ہوگیا اللہ نے اسے معاف کر دیا، اب نئے سرے سے اپنی زندگی کا آغاز کر۔۔۔ (تفہیم القرآن ج6، ص 265)۔۔۔اسی معاشرے میں جس کی جھلک اوپر آپ نے دیکھی، نبی اکرم ؐنے بیٹیوں کو اللہ کی رحمت قرار دیا۔ آپؐ کا ارشاد ہے: جس نے دو لڑکیوں کو پرورش کیا، یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں تو قیامت کے روز میرے ساتھ وہ اس طرح آئے گا، یہ فرما کر حضورؐنے اپنی انگلیوں کو باہم جوڑ کر دکھایا۔۔۔ (صحیح مسلم)

آنحضورؐکی ایک اور حدیث میں بیٹیوں کے ساتھ بہنوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے: جس شخص نے تین بیٹیوں یا بہنوں کو پرورش کیا، ان کو اچھا ادب سکھایا اور ان سے شفقت کا برتاؤ کیا، یہاں تک کہ وہ اس کی مدد کی محتاج نہ رہیں تو اللہ اس کے لئے جنت واجب کردے گا۔ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور دو۔ حضورؐنے فرمایا: اور دو بھی۔ حدیث کے راوی ابن عباس کہتے ہیں کہ اگر لوگ اس وقت ایک کے متعلق پوچھتے تو حضورؐاس کے بارے میں بھی یہی فرماتے۔۔۔ (شرح السنۃ بروایت ابن عباسؓ)۔۔۔کسی کی بیٹی یا بہن اگر بیوہ یا مطلقہ ہو کر اس کے پاس آجائے تو اسے بھی بوجھ نہیں سمجھنا چاہیے۔ نبی اکرم ؐنے اس کے بارے میں حضرت سراقہؓ بن مالک بن جعشم سے فرمایا: میں تمہیں بتاؤں کہ سب سے بڑا صدقہ (یا فرمایا: بڑے صدقوں میں سے ایک) کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: ضرور بتائیے یا رسول اللہ۔ فرمایا تیری وہ بیٹی جو (طلاق پا کر یا بیوہ ہوکر) تیری طرف پلٹ آئے اور تیرے سوا کوئی اس کے لئے کمانے والا نہ ہو۔۔۔ (بخاری فی الادب المفرد) ۔۔۔مغربی معاشرے نے بے خدا تہذیب کے زیرِ اثر ترقی و روشن خیالی کے نام پر ایسے ایسے گھناؤنے جرائم کئے ہیں کہ انسانیت و شرافت سرپیٹ کے رہ جاتی ہے۔ عورت کو نام نہاد آزادی کے جھوٹے خواب دکھا کر اسے شمع محفل بنا دیا گیا۔ بے چاری سادہ لوح عورت سمجھی کہ اسے اعزاز بخشا جارہا ہے، مگر ظالم شیطانی تہذیب نے اس سے اس کی حیا چھینی، اسے بازار کا بکاؤ مال بنایا، پھر اس سے مطالبہ کیا کہ وہ معاشی دوڑ میں بھی مرد کے ساتھ برابر کی شریک ہو۔ معاش کمانے کے لئے اس کے گلے میں بھی جوا ڈال کر اسے مرد کے ساتھ جوت دیا گیا۔ اسلام نے عورت کو وراثت میں حصہ دیا، مگر معاشی بوجھ سے اسے بری قرار دیا گیا۔ وہ اپنی دولت و ثروت میں سے حسبِ ظروف و ضرورت رضا کارانہ خرچ کرسکتی ہے، مگر بطور ماں، بیوی، بہن اور بیٹی اس کی معاشی کفالت بیٹے، خاوند، بھائی اور باپ کے ذمے ہے۔ آج بھی مغرب میں خواتین کے اسلام قبول کرنے کی شرح مردوں سے زیادہ ہے تو اس کا سب سے بڑا عامل اسلام میں خواتین کو دی گئی عزت اور تحفظ کی ضمانت ہی ہے۔ خواتین کے حقوق کے سب سے بڑے ضامن رسولِ رحمت اور محفوظ ترین قلعہ دینِ اسلام ہی ہے۔

مزید : کالم