مستقبل عذر قبول نہیں کرتا

مستقبل عذر قبول نہیں کرتا
 مستقبل عذر قبول نہیں کرتا

  

دوران فیض آباد دھرنا سندھ میں دو بڑے جلسے ہوئے۔ ایک جلسہ سکھر میں ہوا۔ پیر پگارو اس کے بڑے مقرر تھے۔ دوسرا لاڑکانہ میں منعقد ہوا جس میں موالانا فضل الرحمان بڑے مقرر تھے۔ دونوں جلسوں کو وہ تشہیر نہیں مل سکی، جس کے وہ حقدار تھے۔ بلاشبہ دونوں بڑے جلسوں میں شمار کئے جاسکتے ہیں۔ سکھر والا جلسہ صوبہ سندھ میں متحرک سیاسی جماعتوں اور عناصر کے تشکیل کردہ گرینڈ ڈیموکریٹک آلائنس (جی ڈی اے) کی طرف سے منعقد کیا گیا تھا۔ جی ڈی اے گزشتہ انتخابات سے قبل بھی تشکیل دیا گیا تھا، لیکن آپس میں نااتفاقی کی وجہ سے نتائج حاصل نہیں کرسکا تھا۔ ہر جماعت کا امیدوار اس خوش فہمی کا شکار تھا کہ بس وہ ہی کامیابی حاصل کرے گا۔ جس کی وجہ سے کئی ایسی نشستیں ہاتھ سے نکل گئیں جہاں کامیابی یقینی ہوسکتی تھی۔ اس مرتبہ جی ڈی اے ایک ایسے انتخابی اتحاد کی صورت میں تشکیل دیا گیا ہے جو ایک انتخابی نشان کے تحت انتخابات میں حصہ لے گا، اتحاد کے سربراہ پیر پگارو ہیں۔ پیر پگارو کے مریدوں کی حر جماعت صوبہ بھر میں پھیلی ہوئی ہے اور طاقت ور بھی ہے۔ جی ڈی اے میں شامل جماعتیں اور افراد اپنی انفرادی حیثیت اور اپنی اپنی جماعتی حیثیت میں ایک ہی نکتہ پر احتجاج کرتے چلے آرہے ہیں۔ وہ نکتہ پاکستان میں آج کل کی سیاست کا نہایت ہی مجرب نسخہ ہے ، کرپشن اور کرپشن۔

سندھ میں تو کرپشن کے الزام کا ہدف پیپلز پارٹی ہی ہوتی ہے۔ پیپلز پارٹی مخالف تمام ہی سیاست دان اسی ایک ہی نکتہ پر متحد ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ پیپلز پارٹی نے سندھ کو تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔ پیرپگارو کا بھی یہ ہی کہنا ہے کہ ’’زرداری حکومت نے سندھ کو تباہ کردیا ہے۔ ادی (فریال تالپور کی طرف اشارہ) اور ادا (آصف زرداری کی طرف اشارہ) صوبہ کو کمیشن پر چلا رہے ہیں ۔ زرداری کے ساتھی کروڑ پتی بن گئے ہیں اور سندھ کو پیپلز پارٹی سے نجات حاصل کرنا ہوگی)۔ جلسہ میں کئی مقررین تھے سب ہی یہی رونا رو رہے تھے۔ کرپشن کی شکایت اپنی جگہ درست سہی لیکن کیا پیپلز پارٹی کی حکومت کا خاتمہ یا انتخابات میں اس کی ناکامی سندھ میں کرپشن ختم کرنے کا سبب بنے گی؟ کسی کے پاس کوئی حل موجود نہیں ہے اور اگر ہوگا بھی تو شائد رہنماؤں نے اسے اپنے سینوں میں اسی طرح چھپا رکھا ہے جیسے سب ایک دوسرے کی کرپشن کی کہانی چھپائے بیٹھے ہیں۔ سب ہی ایک دوسرے کے راز سے واقف ہیں لیکن پردہ پوشی بھی کرتے ہیں کہ مقصود یہ ہوتا ہے کہ کل کے لئے بچا کے رکھو۔ کون نہیں جانتا کہ سندھ میں شکر بنانے کے کارخانے کیوں طے شدہ وقت پر کام شروع نہیں کرتے؟ کون نہیں جانتا ہے کہ شکر کے کارخانوں کو سبسیڈی دینے کا فائدہ کسے ہوتا ہے؟ گنے کے کاشتکار شہر شہر دھرنے دے کر دہائی دے رہے ہیں کہ شکر کے کارخانے چلاؤ، لیکن کوئی سنتا ہی نہیں ہے۔ یہ ہی کاشتکار انتخابات میں ووٹوں کے ’’سپلائر‘‘ بھی ہوتے ہیں، کیوں نہیں وہ اپنے ووٹ کسی اور ’’بیوپاری‘‘ کو ’’سپلائی‘‘ کرتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ سب ہی کو علم ہے کہ سارے ’’بیوپاری‘‘ ایک جیسی ہی خصلت رکھتے ہیں۔

جی ڈی اے جلسے کے جواب میں پیپلز پارٹی بھی اپنا یوم تاسیس دھوم دھام سے منانے میں جتی ہوئی ہے۔ اس کا بھی پروگرام ہے کہ سکھر میں ہی بڑا جلسہ کیا جائے تاکہ جی ڈی اے کے جلسہ کا جواب دیا جاسکے۔ سندھ یونائٹڈ پارٹی کے جلال محمود شاہ (سائیں جی ایم سید کے پوتے) اور قادر مگسی وغیرہ بھی ایک ڈھیلا ڈھالا اتحاد کر رہے ہیں۔ کراچی میں جلال محمود شاہ کے گھر حیدر منزل پر سندھ یونائیٹیڈ پارٹی کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی۔ سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی، جسقم کے سینئر وائس چیئرمین ڈاکٹر نیاز کالانی، ڈاکٹر میر عالم مری و دیگر شرکا نے تمام قوم پرست جماعتوں پر مشتمل سندھ ایکشن کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا۔ سندھ کی یہ قوم پرست جماعتیں غیر ملکیوں کو مستقل شہریت دینے کی مخالفت کو بنیاد بناکر تحریک چلا رہی ہیں۔ سندھ ایکشن کمیٹی بنائی گئی ہے جو 9 دسمبر کو سندھ کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹر میں علامتی بھوک ھڑتال کا اہتمام کرے گی۔ جلال محمود شاہ نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ پیپلز پارٹی نے سندھ کو تباہ کردیا ہے، لاڑکانہ تک کو کھنڈرات بنا دیا گیا۔ ڈاکٹر قادر مگسی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے لئے عوام کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما کراچی میں غیر ملکیوں کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔

’’تاریخ کبھی عذر قبول نہیں کرتی‘‘ کے عنوان سے سوشل میڈیا پر گشت کرتی ایک تحریر پاکستانی سیاسی رہنماؤں کو ضرور پڑھنا چاہئے۔ ’’تاریخِ اسلام کا کتنا عبرت ناک منظر تھا کہ عباسی خلیفہ معتصم باللہ لعین جب آہنی زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑا چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان کے سامنے کھڑا تھا!کھانے کا وقت آیا توہلاکو خان نے خود سادہ برتن میں کھانا کھایا اورخلیفہ کے سامنے سونے کی طشتریوں میں ہیرے، جواہرات رکھ دیئے ۔۔۔! پھر معتصم سے کہا: جو سونا، چاندی تم جمع کرتے تھے اُسے ہی کھاؤ۔۔۔ بغداد کا تاج دار بے چارگی و بے بسی کی تصویر بنا کھڑا تھا بولا! میں سونا کیسے کھاؤں۔ ہلاکو نے فوراً کہا۔ پھر تم نے یہ سونا اور چاندی جمع کیوں کیا تھا۔ وہ مسلمان جسے اُس کا دین ہتھیار بنانے اور گھوڑے پالنے کے لئے ترغیب دیتا تھا کچھ جواب نہ دے سکا۔ ہلاکو خان نے نظریں گھما کر محل کی جالیاں اور مضبوط دروازے دیکھے اور سوال کیا کہ تم نے اِن جالیوں کو پگھلا کر آہنی تیر کیوں نہ بنائے؟ تم نے یہ جواہرات جمع کرنے کے بجائے اپنے سپاہیوں کو رقم کیوں نہ دی تاکہ وہ جانبازی اور دلیری سے میری افواج کا مقابلہ کرتے؟ خلیفہ نے تاسف سے جواب دیا اللہ کی یہی مرضی تھی۔ ہلاکو نے کڑک دار لہجے میں کہا کہ پھر جو تمہارے ساتھ ہونے والا ہے وہ بھی خدا ہی کی مرضی ہوگی۔ پھر ہلاکو خان نے معتصم باللہ کو مخصوص لبادے میں لپیٹ کر گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روند ڈالا اور بغداد کو قبرستان بنا ڈالا۔۔۔ ہلاکو نے کہا! آج میں نے بغداد کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا ہے اور اب دنیا کی کوئی طاقت اسے پہلے والا بغداد نہیں بناسکتی‘‘ اور تاریخ میں ایسا ہی ہوا۔۔۔‘‘۔

اس تماش گاہ میں سب ہی متحرک ہیں کہ انتخابات سر پر کھڑے ہیں۔ حالیہ سیاست کی بنیاد پر گفتگو کرنے والے آپس میں گُتھم گُتھا ہی رہتے ہیں اسی لئے انتخابات میں ناکامی کا سامنا بھی کرتے ہیں۔ پھر یہ بات بھی تو ہے کہ استثنی کے بغیر سیاست دانوں کے محلات جیسے مکانات، لباس، ہیرے جواہرات اور انواع و اقسام کے لذیذ کھانے، سفر کے لئے مہنگی سے مہنگی گاڑیاں، ملازمین کی قطاریں، تصور کریں ہمیں کہاں لے جارہی ہیں۔ ہمارے اَربابِ اختیار شراب و کباب اور چنگ و رباب سے مدہوش پڑے ہیں! تن آسانی، عیش کوشی اور عیش پسندی نے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ ہمارا بوسیدہ اور دیمک زدہ نظام پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ مستقبل کو اِس بات سے کوئی غرض نہیں ہوگی کہ حکمرانوں کی تجوریاں بھری ہیں یا خالی؟ شہنشاہوں کے تاج میں ہیرے جڑے ہیں یا نہیں؟ شام کے وقت لگنے والے درباروں میں خوشامدیوں، مراثیوں، طبلہ نوازوں، رقاصاؤں، طوائفوں، وظیفہ خوار دو نمبری سیاست دانوں اور جی حضوریوں کا جھرمٹ تھا یا نہیں؟ مستقبل کو صرف اس بات سے غرض ہوگی کہ پاکستان کے عوام کن حالات میں زندگی گزار رہے تھے۔ مستقبل کبھی عذر قبول نہیں کرتا تو پھر ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں کا عذر کیوں کر قابل قبول ہوگا؟ علامہ اقبال نے کچھ سوچ کر ہی فرمایا ہے:

وطن کی فکر کر ناداں، مصیبت آنے والی ہے

تیری بربادیوں کے مشورے ہیں، آسمانوں میں

مزید : کالم