پنشنروں کی مالی مشکلات اور سپریم کورٹ کے ریمارکس

پنشنروں کی مالی مشکلات اور سپریم کورٹ کے ریمارکس

پاکستان سپریم کورٹ نے نیشنل ہائی وے ملازمین کی پنشن سے متعلق سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے وزارتِ خزانہ کی اپیل کو مسترد کردیا ہے۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سنایا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 900روپے پنشن سے پنشنرز کی گزراوقات کیسے ہوتی ہے؟ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے۔ بعض اوقات تو پنشنرز کی اولاد میں سے کوئی بھی گھر کو سنبھالنے کے قابل نہیں ہوتا پنشنروں کی مالی مشکلات دیرینہ مسئلہ ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے اور چیف جسٹس کے ریمارکس پنشنروں کے لئے اطمینان کا باعث ہیں۔ بیشتر سرکاری اور نیم سرکاری محکموں کے ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن پر گزراوقات اس لئے سنگین مسئلہ بنتی ہے کہ اپنی زندگی کے بہترین ایام(پچیس سے 35سال تک) اپنی ملازمت کے لئے وقف کرنے والوں کو پنشن کی رقم اتنی کم ملتی ہے کہ اس سے پنشنر اپنے علاج معالجہ یا خوراک کا بندوبست بھی نہیں کرسکتا جبکہ اُسے پورے خاندان کے اخراجات میں سے زیادہ بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے ہاں ملازمتی ڈھانچے کو آزادی کے 70سال بعد بھی بہتر نہیں بنایا جاسکا پنشنروں کے لئے بھی انسانی ہمدردی کے تحت مناسب فیصلہ نہیں ہوا چھوٹے سکیل کے ملازمین کو تنخواہ بھی نسبتاً کم ملتی ہے اور پھر ریٹائرمنٹ کی عمر تک پہنچنے پر (جب اسے علاج، خوراک، سواری اور کپڑوں کے لئے زیادہ رقم کی ضرورت ہے) پنشن اتنی کم ملتی ہے کہ ہر سال بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے گزر اوقات کرنا بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔

ایسے مسائل کا احساس کرتے ہوئے وزیر اعظم اور کابینہ کے ارکان پنشنروں کی مشکلات کم کرنے کی طرف توجہ کم دیتے ہیں۔ بجٹ کے موقع پر پنشن میں بھی برائے نام اضافہ کردیا جاتا ہے۔ جبکہ اعلیٰ گریڈ حاصل کرنے والے بیوروکریٹس بھی ان کی پریشانی کی پروا نہیں کرتے کیونکہ ان کی اپنی تنخواہیں اور دیگر مراعات اس قدر زیادہ ہوتی ہیں کہ انہیں مہنگائی اور علاج معالجہ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہوتا۔ ہر چار چھ ماہ بعد ادویات کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ پنشنر معمولی رقم سے گھریلو اخراجات پورے کریں یا اپنا علاج کروائیں، اپنے لئے موسم کے مطابق کپڑوں کا (ایک یا دو جوڑے) بندوبست کریں یا ضرورت پڑنے پر آمد ورفت کے اخراجات برداشت کریں۔ اعلیٰ عدالتوں کی طرف سے پنشن دوگنا کرنے کے فیصلے موجود ہیں لیکن ان پر مختلف وجوہ سے کئی محکموں میں عملدرآمد نہیں ہوا اور مالی مشکلات کا شکار پنشنرز اس اُمید پر دن گزار رہے ہیں کہ جب ان کی پنشن دوگنا ہو جائے گی تو زندگی کچھ آسان ہو جائے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں پنشنرز کے سنگین مالی مسائل کو حل کرنے کے لئے سنجیدگی سے فوری فیصلے کریں۔ انسانی ہمدردی کے تحت بھی اس ایشو پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ پنشن کی رقم کم از کم اتنی تو ہونی چاہئے کہ پنشنرز تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کا مقابلہ کرسکیں۔

مزید : اداریہ