وائٹ ہاؤس نے وزیر خارجہ ٹلرسن کو فارغ کرنے کی تیاری کر لی

وائٹ ہاؤس نے وزیر خارجہ ٹلرسن کو فارغ کرنے کی تیاری کر لی

واشنگٹن(اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) معلوم ہوا ہے صدر ٹرمپ کے قریبی وفادار ساتھیوں نے موجودہ وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کو تبدیل کر کے ان کی جگہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیک پومپیو کو لے کر آنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ مسٹر پومپیو اسوقت صدر کے انتہائی وفادار اور سیا سی اعتبار سے قابل اعتماد عہدیداروں میں شمار ہوتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے معتبر ذرائع نے بتایا ہے یہ منصوبہ وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف جنرل جان کیلی نے تیار کیا ہے جسے صدر ٹرمپ نے منظور کر لیا ہے اور اس پر آئندہ چند ہفتوں میں عملدرآمد ہو سکتا ہے۔ چیف آف سٹاف جنرل جان کیلی حال ہی میں اپنی تقرری کے بعد وائٹ ہاؤس کی سب سے موثر قوت بن چکے ہیں جو وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کو پسند نہیں کرتے ۔ ویسے بھی مسٹر ٹلرسن کے صدر ٹرمپ کیساتھ تعلقات اتنے خوشگوار بھی نہیں ہیں جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس تبدیلی کا منصو بہ تیار کیا گیا ہے۔ مسٹر ٹلرسن نے کچھ عرصہ قبل سفید فام نسل ہرستوں کی حمایت میں صدر ٹرمپ کے بیان کی تائید کرنے سے انکار کرتے ہو ئے انہیں "احمق"قرار دیا تھا۔ اسوقت سے امریکی وزیر خارجہ کی صدر ٹرمپ کیساتھ کشیدگی ہی آرہی ہے۔چیف آف سٹاف کے منصوبے کے مطابق اگر سی آئی اے کے موجودہ ڈائریکٹر وزیر خارجہ بن گئے تو پھر ان کی جگہ ارکشاس ریاست سے ری پبلکن سینیٹر ٹام کاٹن کو سی آئی اے کا ڈائریکٹر بنا دیا جائیگا۔سینیٹر کاٹن بھی صدر ٹرمپ کے وفادار ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ خارجہ امور پر مشاورت میں شامل رہتے ہیں۔ "واشنگٹن پوسٹ" میں اس نوعیت کی خبریں شائع ہوتی رہی ہیں لیکن وائٹ ہاؤس ذرائع نے پہلے مرتبہ اس منصوبے کی تصدیق کی ہے۔ تبدیلی کا معاملہ صدر ٹرمپ تک بھی جا پہنچا ہے۔ جنہوں نے ایک رپورٹر کے پوچھنے پر صرف اتنا سا کہا کہ"ریکس ٹلرسن اپنے عہدے پر موجود ہیں"۔ وائٹ ہاؤس کے سرکاری ترجمانوں نے ابھی تک تبدیلی کے منصوبے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس

مزید : علاقائی