میرا پیغمبر

میرا پیغمبر

جب تاریک راہوں میں بھٹکتی

بے اماں انسانیت

راستہ ڈھونڈ رہی تھی

رحمتِ یزداں کی ایال تھامے

پیامبر کتابِ روشن لے کر

ابھرا امید کا ستارا بن کر

اترا سب کا سہارا بن کر

اندھیرے مٹانے لگا

نگر نگر پھیلانے لگا،

حرف حرف خدا کا

لفظ لفظ جدا سا

اسکی جہدِ مسلسل سے

فروغِ پیغامِ مکمل سے

پاتال سے نکل کر انسان

رفعتوں سے روشناس ہوا

اشرف المخلوقات ہے وہ

اس کو اب احساس ہوا

پیامبر آخر کامراں ہوا

جب انساں انساں ہوا

تیرہ و تار راتوں کو اجالا دیکر

مضمحل آدمیت کو سنبھالا دیکر

پیامبر آخر روانہ ہوا

سوئے ربِ ذوالجلال

مطمئن، مسرور و مشکور

نوید الہٰی

مزید : ایڈیشن 1