عظمت ہی عظمت

عظمت ہی عظمت

تابناکی ہی تابناکی

سید سلیمان ندویؒ

سیدناابوذرؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ رات کو میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ ایک راستہ سے گزر رہا تھا، راہ میں آپؐ نے فرمایا ’’ابوذر اگر احد کا یہ پہاڑ میرے لئے سونا ہو تو میں کبھی پسند نہ کروں گا کہ تین راتیں گزر جائیں اور اس میں سے ایک دینار بھی میرے پاس رہ جائے۔‘‘

دوستو! یہ رسول اللہﷺ کے صرف خوشنما الفاظ نہ تھے بلکہ یہ آپؐ کے عزم صادق کا اظہار تھا اوراسی پر آپؐ کا عمل تھا، بحرین سے ایک دفعہ خراج کا لدا ہوا خزانہ آیا، فرمایا کہ صحن مسجد میں ڈال دیا جائے، صبح کی نماز کے بعد ڈھیر کے پاس بیٹھ گئے اور تقسیم کرنا شروع کر دیا، جب سب ختم ہو گیا تو دامن جھاڑ کر اس طرح کھڑے ہوگئے کہ گویا یہ کوئی غبار تھا جو دامن مبارک پر پڑ گیا تھا۔

ایک دفعہ فدک سے چار اونٹوں پر غلہ آیا، کچھ قرض تھا وہ ادا ہو گیا، کچھ لوگوں کو دیا گیا، سیدنا بلالؓ سے دریافت کیا کہ ’’بچ تو نہیں رہا؟‘‘ عرض کی کہ اب کوئی لینے والا نہیں اس لئے کچھ بچ گیا ہے فرمایا جب تک دنیا کا یہ مال باقی ہے میں گھر نہیں جا سکتا۔ چنانچہ رات مسجد میں بسر کی، صبح کو سیدنا بلالؓ نے آ کر بشارت دی کہ اللہ نے آپؐ کو سبکدوش کر دیا یعنی جو کچھ تھا وہ تقسیم ہو گیا، آپؐ نے اللہ کا شکر ادا کیا۔۔۔ ایک دفعہ عصر کی نماز کے بعد خلاف معمول فوراً اندر تشریف لے گئے اور پھر باہر آگئے، لوگوں کو تعجب ہوا، فرمایا ’’مجھ کو نماز میں یاد آیا کہ سونے کا چھوٹا سا ٹکڑا گھر میں پڑا رہ گیا ہے، خیال ہوا کہ ایسا نہ ہو کہ رات آ جائے اور وہ محمدﷺ کے گھر میں پڑا رہ جائے۔‘‘۔۔۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ آپؐ مرض الموت میں ہیں، بیماری کی سخت تکلیف ہے، نہایت ہی بے چینی ہیں، لیکن اسی وقت یاد آتا ہے کہ کچھ اشرفیاں گھر میں پڑی ہیں، حکم ہوتا ہے کہ انہیں خیرات کر دو، کیا محمدﷺ اپنے رب سے اس طرح ملے گا کہ اس کے پیچھے اس کے گھر میں اشرفیاں پڑی ہوں‘‘۔ یہ تھی اس باب میں آپ کی زندگی کی عملی مثال۔

آپؐ نے زہد و قناعت کی تعلیم دی لیکن اس راہ میں آپؐ کا طرز عمل کیا تھا؟ عرب کے گوشہ گوشہ سے جزیہ، خراج، عشر اور زکوٰۃ و صدقات کے خزانے چلے آتے تھے، مگر امیر عرب کے گھر میں وہی فقر تھا اور وہی فاقہ تھا، آپؐ کی وفات کے بعد سیدہ عائشہ صدیقہؓ کہا کرتی تھیں کہ رسول اللہﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے مگر دو وقت بھی سیر ہو کر کھانا نصیب نہ ہوا۔ وہی بیان کرتی ہیں کہ جب آپؐ نے وفات پائی تو گھر میں اس دن کے کھانے کے لئے تھوڑے سے جو کے سوا کچھ موجود نہ تھا اور چند سیر جو کے بدلہ میں آپؐ کی زرہ ایک یہودی کے ہاں رہن تھی۔

آپؐ کو اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہؓ اور سیدنا حسینؓ سے بڑی محبت تھی، مگر یہ محبت امیر عرب نے بیش قیمت کپڑوں اور سونے اور چاندی کے زیور کے ذریعے سے ظاہر نہیں فرمائی۔۔۔ ایک دفعہ سیدنا علیؓ کا دیا ہوا ایک سونے کا ہار سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گلے میں دیکھا تو فرمایا! اے فاطمہ تم کیا لوگوں سے یہ کہلوانا چاہتی ہو کہ محمدﷺ کی بیٹی اپنے گلے میں آگ کا ہار ڈالے ہوئے ہے، سیدہ فاطمہؓ نے اسی وقت وہ ہار بیچ ڈالا اور اس کی قیمت سے ایک غلام خرید کر آزاد کیا، اسی طرح ایک دفعہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سونے کے کنگن پہنے تو اتروا دیئے کہ محمدﷺ کی بیوی کو یہ زیبا نہیں، فرمایا کرتے تھے کہ ’’انسان کے لئے دنیا میں اتنا ہی کافی ہے جس قدر ایک مسافر کو زادراہ‘‘۔

مزید : ایڈیشن 1