جماعت اسلامی کے تحت آج ملک بھر میں ’’یوم عزم تحفظ ختم نبوتؐ‘‘ منایا جائے گا

جماعت اسلامی کے تحت آج ملک بھر میں ’’یوم عزم تحفظ ختم نبوتؐ‘‘ منایا جائے گا

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے اعلان کیا ہے کہ 12ربیع الاول جمعہ کے روز ملک بھر میں ’’یوم عزم تحفظ ختم نبوت ‘‘ منایا جائے گا ، ملک اور قوم کو درپیش تمام مسائل کا حل اور بحرانوں سے نجات کا واحد راستہ نظام مصطفیٰ کا نفا ذہے ، پاکستان نظام مصطفیؐ کے نفاذ کے لیے حاصل کیا گیا اور اس نظام کے عدم نفاذ کے باعث ہی ملک دو لخت ہوا اور آج ملک اور قوم مہنگائی ، بے روزگاری ، کرپشن اور دیگر مسائل کا شکار ہیں ،صرف ایک وزیر کے استعفیٰ سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، ختم نبوت ؐکے قوانین میں ترامیم کے حوالے سے جو مسئلہ پیدا ہوا ہے اس کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے اور اس سازش کی پشت پر جو افراد اور عناصر ہیں ان کو بے نقاب کیا جائے ،حکومت قانون توہین رسالت ؐ میں ترمیم کے امریکی مطالبے کو مسترد کرے اور امریکی وزیر دفاع کی آمد پر ان سے قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا مطالبہ کرے ، اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد اگر کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کی کھل کر مدد کا اعلان کرے تو پوری امت خوش ہوگی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز ادارہ نورحق میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر جنرل سیکریٹری جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ ، امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ، نائب امرا ء کراچی مظفر احمد ہاشمی ، برجیس احمد ، ڈاکٹر اسامہ رضی ،مسلم پرویز ، محمد اسحاق خان ، محمد اسلام ڈپٹی سکریٹری کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ ، عبد الواحد شیخ ، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ،مرکزی میڈیا کوآرڈینیٹرسرفراز احمد ،اور دیگر بھی موجود تھے۔سراج الحق نے مزید کہا کہ 12ربیع الاول کے موقع پر ہم پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہیں ، کل جمعہ کو ’’یوم عزم تحفظ ختم نبوت ‘‘منائیں گے ، قوم کو ہماری دعوت ہے کہ ہمارے تمام مسائل کا حل نظام مصطفی ؐ میں ہے ، نظام مصطفیؐ کے نفاذ کے بغیر ہمارے مسائل حل نہیں ہوسکتے، اس نظام کے نہ ہونے کی وجہ سے ہی ملک دولخت ہوا اور ملک میں بے روزگاری ، مہنگائی ، کرپشن اور دیگر مسائل نے جنم لیا ، ہماری پوری قوم سے اپیل ہے کہ سب مل کر نئے عزم و حوصلوں کے ساتھ نظام مصطفیؐ کے لیے جدوجہد کریں ، 70سالوں میں نہ ہماری عدالتوں میں اسلامی نظام آسکا ، نہ معیشت ، ریاست اور حکومت میں اسلامی نظام نافذ ہوسکا ۔ عدل و انصاف اور مساوات صرف نظام مصطفیؐ ہی میں ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ختم نبوت کے حوالے سے جو مسئلہ پیدا ہوا اس کے تمام ذمہ داروں کو عوام کے سامنے لایا جائے صرف ایک وزیر کے استعفیٰ سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، اس معاملے کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے ، ان وزیر موصوف کی پشت پر کون لوگ تھے اور کس کی ایماء پر یہ سازش کی گئی ؟۔ انہوں نے کہا کہ 3دسمبر کو امریکی وزیر دفاع کی آمد ہے ، امریکہ ہم سے مطالبہ کررہا ہے کہ توہین رسالت ؐ کے قانون میں ترمیم کی جائے ۔ حکومت اس مطالبہ کو مسترد کردے ، حکومت امریکہ سے قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور پاکستان حوالگی کا مطالبہ کرے ، امریکی وزیر دفاع کے سامنے یہ بات رکھے کہ پاکستان اپنی سلامتی اور خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا ۔ سراج الحق نے کہا کہ ہمارا عزم ہے کہ ہم ملک میں ہر طرح کی کرپشن کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ملک میں اخلاقی ، مالی اور معاشی کرپشن موجود ہے اور کرپشن نے ہی ملک کو تباہ و برباد کیا ہے ۔ کرپشن فری پاکستان اوراسلامی نظام کے قیام تک جماعت اسلامی کی جدوجہد جاری رہے گی ۔انہوں نے کہا کہ ربیع الاول کے مبارک مہینے میں ضروری ہے کہ ہم اللہ کے آخری نبی ؐ کی تعلیمات پر دل و جان سے عمل کریں اورآج کے دن اور شب زیادہ سے زیادہ درود و سلام بھیجیں ۔20دن کے دھرنے کے بعد حکومت نے جب مطالبات مان لیے تو یہ کام پہلے ہی کیوں نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ختم نبو ت کے حوالے سے پیدا ہونے والی حالیہ صورتحال کے خاتمے کے لیے ایسے اقدامات کرے جو نظر آئیں ، اس پورے مسئلے کی مکمل اور تفصیلی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ میں اگر کوئی عام اور کم اثر فرد ذمہ دار ہو تا تو ابھی تک اس کا نام سامنا آچکا ہوتا ۔ثابت ہوتا ہے کہ اس کے ذمہ داربڑے اور با اثر لوگ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر اسلامی فوج اور اسلامی اتحاد کشمیریوں اور فلسطینیوں کی مدد کا کھل کر اعلان کرے تو پوری امت کو خوشی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی مجرم ہے یا نہیں وہ پاکستانی ہے اور ڈاکٹر عافیہ بھی پاکستانی ہے ایک پاکستانی کے بدلے دوسرے پاکستانی کو کس طرح حوالے کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ فیض آباد دھرنے کے مسئلے کے حل کے لیے فوج خود نہیں آئی ہے بلکہ حکومت کی درخواست پر آئی ہے اس معاملے پر حکومت نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی جس کی وجہ سے یہ مسئلہ خراب ہوا ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھارت نہتے مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھارہا ہے ۔ حکومت نے جس طرح کلبھوشن کی والدہ کو اس سے ملاقات کی دعوت دی ہے اسی طرح ہمارا مطالبہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھی ایک وفد جائے اور جائزہ لے اور مظالم کی اصل صورتحال عالمی سطح پر سامنے لائی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کی سینیٹر نسرین جلیل کی سربراہی میں سینیٹ کی کمیٹی نے توہین رسالت کے قانون میں ایف آئی آر درج کرانے کے حوالے سے اور جو دیگر ترامیم کی سفارشات پیش کی ہیں ان سفارشات کو واپس لیا جائے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول