سخاکوٹ میں کھلی کچہری ،ضلع ناظم اور ڈپٹی کمشنر کی موجودگی

سخاکوٹ میں کھلی کچہری ،ضلع ناظم اور ڈپٹی کمشنر کی موجودگی

سخاکوٹ(نمائندہ پاکستان) ضلع ناظم اور ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ کے موجودگی میں ہونیوالی کھلی کچہری میں مسائل کے شکار عوام نے دل کی بھڑاس نکال دی اور محکموں کے سست روی اور غیر سنجیدگی سے متعلق شکایات کے انبار لگادئیے کئے موقع پر موجود ضلعی افسران نے مسائل کے فوری حل کی یقین دہانیاں کرائی ۔عوامی مسائل جلد از جلد اور اسان طریقے سے حل کرنے کے لئے چیف سیکرٹری کے ہدایت پر ملاکنڈ کے ضلعی حکام نے سخاکوٹ میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا ۔جس میں ضلع ناظم ملاکنڈ سید احمد علی شاہ ،ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ سلمان خان لودھی،تحصیل ناظم عبدالرشید بھٹو،اسسٹنٹ کمشنر محمد عارف خان اور فضل حق پی ایس ٹو ایم پی اے سید محمد علی شاہ سمیت عوامی نمائندوں ،عوام اور تمام محکموں کے ضلعی افسران نے شرکت کی اس موقع پر عوام نے محکمہ واپڈا،سی اینڈ ڈبلیو، ایریگیشن،ہیلتھ،ایجوکیشن،فوڈ،پبلک ہیلتھ سمیت دیگر تمام محکموں کے خلاف شکایات کے انبار لگادئیے اس موقع پر علاقے میں بڑھتے ہوئے منشیات فروشی ،جعلی ڈاکٹروں کی بھرمار، درگئی ہسپتال میں کارپارکنگ کے مسئلے اور میڈیسن کی کمی،ٹرانسفارمروں کی خرابی کے صورت میں مرمت کے لئے عوام سے پیسے لینے،مذبحہ خانہ اور بازاروں کے صفائی ،بریکرز، واپڈاکمپلینٹ افس میں سٹاف کی عدم موجودگی،نادرا افس میں خواتین کے لئے مرد فوٹوگرافر کی جگہ خاتون فوٹو گرافر کی تعیناتی،ترقیاتی کاموں کے لئے چیک اینڈ بیلنس ،سکولوں میں سٹاف کی کمی اور الات کی عدما فراہمی،الیفے کلے ٹیوب ویل سے پانی کی سپلائی،نکاسی اب ، نہروں کی صفائی سمیت سوئی گیس کی پریشر سے متعلق مسائل بیان کئے گئے اور اس کے حل کے مطالبات کئے گئے اس موقع پر ضلع ناظم سید احمد علی شاہ اور ڈپٹی کمشنر سلمان خان لودھی نے یقین دلایا کہ عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لئے اسی طرح کھلی کچھریاں منعقد کی جائیگی کیونکہ یہ مسائل کے حل کا بہترین فورم ہے انہوں نے کہا کہ منشیات کو جڑ سے ختم کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے اور اور اس لعنت کے خاتمے کے لئے چار چیک پوسٹ بھی قائم کئے ہیں جبکہ جانوں سے کھیلنے والے جعلی داکٹروں کے خلاف تادیبی کارروائی ہورہی ہے اور ساتھ ساتھ بریکر بنانے والے عناصر کو گرفتار کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ انہوں نے کھلی کچہری میں بیان کئے گئے تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر