امریکہ کی پاکستانی امداد میں کمی ، سرحدی نگرانی متاثرہونے کا خدشہ

امریکہ کی پاکستانی امداد میں کمی ، سرحدی نگرانی متاثرہونے کا خدشہ
امریکہ کی پاکستانی امداد میں کمی ، سرحدی نگرانی متاثرہونے کا خدشہ

  

واشنگٹن(این این آئی) امریکا کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی معاشی اور فوجی امداد کے حوالے سے کانگریس کی رپورٹ جاری کردی گئی، جس کے اعداد و شمار کے مطابق  امریکا کی پاکستانی امداد میں کمی افغانستان میں سرحد پار دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے واشنگٹن کی خواہش کو متاثر کر سکتی ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق کانگریس ریسرچ سروس ( سی آر ایس ) کی رپورٹ میں بتایاگیاکہ پاکستان کے لیے امریکی اقتصادی اور فوجی امدادنائن الیون کے بعد دو ارب 20 کروڑ ڈالر سالانہ سے کم ہو کر 35 کروڑ ڈالر سالانہ رہ گئی تاہم سب سے زیادہ متاثر کوالیشن سپورٹ فنڈ (سی ایس ایف) ہوا، جو پاکستان کو 2200 کلو میٹر طویل افغان بارڈر کی مانیٹرنگ کے لیے دیا جاتا ہے، پاکستان نے افغان سرحد پر طالبان عسکریت پسندوں کی نقل و حمل دیکھنے کے لیے ہزاروں فوجی تعینات کیے ہوئے ہیں۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

واشنگٹن کا کہنا تھا کہ پاکستان ان لوگوں کے خلاف کامیاب رہا جنہوں نے ریاست پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی لیکن سرحد پار سے امریکا اور افغان فورسز پر حملہ کرنے والے افغان طالبان سے لڑنے میں پاکستان نے زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی جبکہ پاکستان نے امریکا کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان اور افغان طالبان کو نشانہ بنا رہا ہے۔پاکستان کے جواب سے مطمئن نہ ہونے پر امریکا نے سی ایس ایف کے ذریعے رقم کی ادائیگی کے لیے شرائط لاگو کردیں، جس کے مطابق اگر پاکستان مکمل رقم چاہتا ہے تو اسے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی۔

مزید : بین الاقوامی