قطری شہزادے کا پاکستان آنا

قطری شہزادے کا پاکستان آنا
قطری شہزادے کا پاکستان آنا

  

عدلیہ نے پانامہ کیس میں تحقیقات کے لئے جب قطری شہزادے کو طلب کرنا چاہا تھا تو انہوں نے عذر پیش کردیا کہ وہ نہیں آسکتے مگر یہی شہزادہ صاحب دوروز پہلے پہلے تشریف لائے ہیں اور جناب نواز شریف نے ان کا دیدہ و دل فرش راہ کرکے استقبال کیا ہے،ان کا ماتھا بھی چوما ہے،گلے لگایا ہے ۔وارفتگی اور گرم جوشی لاجواب دیکھنے کو ملی۔۔۔۔۔۔

سعودی اور قطری شہزادوں کا پاکستان آنا سیر و تفریح، شکاراور عیش و عشرت کی محفلوں میں شرکت کرنا ہماری ملک کی سیاہ تاریخ کا باب ہے جو شاید کبھی بھی بند نہ ہو پائے گا۔ پانامہ کیسں کی مشہور مثال گواہی چسست اور مدعی سست کا چرچا دوبارہ ہونے لگا قطری شہزادے حمد بن جاسم جو پاکستان کی سپریم عدالت کے سامنے پیش ہونے پر تو اپنی توہین سمجھتے ہیں لیکن پاکستان سے بزنس اور کاروبار بڑھانا اپنا حق تسلیم کرتے ہیں اس لئے موصوف آج کل اپنے کاروباری معاملات کی خاطر پاکستان آن پہنچے ہیں۔ شہزادہ حمد بن جاسم اپنے 13 رکنی وفد کے ساتھ جب اپنے اسپیشل طیارے کے ذریعے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پہنچے تو ان کے استقبال کے لئے حکومتی جماعت کا فل پروٹوکول موجود تھا ۔ حکومت پنجاب نے شہزادہ حمد بن جاسم کو سخت سیکورٹی حصار میں فل سرکاری پروٹوکول کے سے ساتھ جاتی امرا پہنچایا جہاں بعد میں نواز شریف نے اپنے مہمان کی خوب خاطر مدارت فرمائی اس دوران شریف فیملی کے دیگر ممبران کے ساتھ شہباز شریف، حمزہ شہباز، مریم نواز ، کے ساتھ ساتھ مشہور و معروف کاروباری مڈل مین سابق چئیرمین نیب سیف الرحمن بھی شریک ہوئے۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف کے ساتھ ملاقات میں شہزادہ حمد بن جاسم نے انہیں یقین دلایا کہ قطر پنجاب میں جاری تعلیم اور صحت کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے گا۔ شہزادہ حمد بن جاسم کے اس دورے کا بظاہر مقاصد پورٹ قاسم ٹرمینل کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرنا تھا لیکن معاملہ اتنا سادہ اور آسان نہیں جتنا نظر آتا ہے۔

ماضی میں شریف فیملی نے پانامہ کیس کے اندر لندن فلیٹس کے حوالے سے قطری شہزادے حمد بن جاسم کا وہ مشہور و معروف خط پیش کیا جس کو معزز عدلیہ نے ردی کا کاغذ قراردیا جو نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کی طرف سے کیس کی دستاویزات کا حصہ بنایا گیاتھا۔ قطری شہزادہ نے اپنے اس خط میں لکھا کہ نواز شریف کے والد متحرم مرحوم میاں شریف نے 1980 میں قطر میں ایک کروڑ بیس لاکھ قطری ریال کی سرمایہ کاری کی ،اس حوالے سے شہزادہ حمد بن جاسم کے ذمے شریف فیملی کے 80 لاکھ امریکی ڈالر واجب الادا ہیں جو 2005 میں نیلسن اور نیکسول کمپنیوں میں شیئر کی صورت میں ادا ہوئے۔ قطری وفد کی آمد کے نتیجے میں ملک میں جاری سیاسی انتشار اور پاناما لیکس سے متعلق جاری مقدمات کے حوالے سے کوئی اہم ڈیل یا پیش رفت کا قوی امکان موجود ہے۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

ملک کے اند ر احتساب عدالت ونیب کو سو موٹو ایکشن لیتے ہوئے قطری شہزادے حمد بن جاسم تک رسائی حاصل کرنی چاہئے تھی اور ان سے قطری معاہدوں کے ساتھ ساتھ پانامہ کیس کے دستاویزات بھی طلب کرنی چاہیں تھے۔ ماضی میں نیب کی کاردکردگی زیرو رہی ہے جو چوروں ، ڈاکو وں اور کرپشن کرنے کے لئے بارش میں چھتری کا کردار ادا کرتی رہی ہے جس کا منشور ایسا لگتا ہے ’’میں کھاؤں اور تو بھی کھا ۔۔۔ مک مکا ، مک مکا‘‘۔ چوری پکڑی جانے پر ڈیل کرکے دوبارہ جرائم کے لئے پسندیدہ شخصیات کے سرٹیفکیٹ جاری ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔ نیب کے نئے آنے والے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال سے بہت سی امید وابستہ ہیں کہ وہ اس ادارے کے اندر کرپٹ عناصر اور کالی بھیڑوں جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات کو ملک کی سلامتی و خوشحالی پر ترجیح دے رکھی ہے ان کو فورا کک آوٹ کریں گے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ