ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 26

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 26
ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 26

  

سلیمانیہ مسجد

سلیمانیہ مسجد گرینڈ بازار سے قریب تھی۔ تھوڑ ی دیر بعد ہم گرینڈ بازار سے مسجد کے لیے روانہ ہوئے ۔ لیکن یہ قریب کا فاصلہ چڑ ھائی کا فاصلہ تھا۔ سلیمانیہ مسجد ترکی کی سات پہاڑ یوں میں سے تیسری پہاڑ ی پرتھی۔ اس چڑ ھائی کا ہمیں اندازہ نہیں تھا۔ خیر بمشکل تمام ہم وہاں پہنچے ۔

لیکن سچی بات یہ ہے کہ جب مسجد پہنچے تو وہاں کا جمال اور کمال دیکھ کر ساری تکان دور ہوگئی۔یہ شہرکی سب سے بڑ ی اور شاندار مسجد تھی۔عصر کی نماز کا وقت قریب تھا ا س لیے ہم پہلے سیدھا مسجد گئے ۔ غیرمسلم خواتین کو مسجد میں داخلے کی اجازت تھی۔ لیکن ان کو لانگ ا سکرٹ اور ا سکارف دیا جا رہا تھا۔ تاکہ وہ برہنہ ٹانگوں اورننگے سر مسجد میں داخل نہ ہوں ۔

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 25  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

خواتین اور مسجد

اس مسجد میں جا کر مجھے اور اہلیہ کو جو سکون ملا اس کی کچھ تفصیل آگے آ رہی ہے ۔ میری اہلیہ کو یہاں اور اس سے قبل ترکی کی ہر مسجد میں بہت سکون ملا تھا۔ مگر ہماری یہ بدقسمتی ہے کہ ہم نے عورتوں کے اوپر مسجد کے دروازے بند کر دیے ہیں ۔ اس دور میں تو ا ب یہ عملی ضرورت بھی بن گئی ہے کہ سفر اور ملازمت پر نکلنے والی خواتین مسجد میں جگہ نہ ہونے کی بنا پر نماز قضا کر دیتی ہیں ۔ مگر ہمارے ہاں لوگ خواتین کو مسجد میں داخلے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ۔ اس ممانعت کے حوالے سے جو کچھ پیش کیا جاتا ہے وہ یا تو کسی خاص موقع محل کی بات ہے یا اس کا تعلق خواتین کی اپنی ترجیحات سے ہے ۔ کوئی شخص ایک حدیث پیش نہیں کرسکتا جس سے یہ ثابت کیا جا سکے کہ خواتین کا مسجد میں داخلہ منع ہے ۔

دو باتیں جوخواتین میں مسجد میں جانے کی ممانعت کے حوالے سے پیش کی جاتی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ خواتین کی گھر میں نماز باعث فضیلت ہے ۔ مگر گھر کی فضیلت سے مسجد کی ممانعت کیسے ثابت ہوتی ہے ؟اس لیے ہر مسجد میں خواتین کے لیے جگہ ہونی چاہیے ۔ خاص کراس مسجد میں جس میں عید کی نما ز ہوتی ہے کیوں کہ صحیح حدیث کے مطابق حضورصلی اللہ علیہ وسلم  نے عیدکی نماز کے لیے خواتین کا مسجد میں آنا ضروری قرار دیا ہے ۔ تاریخی طورپر بھی ہم جانتے ہیں کہ دور رسالت اور خلافت راشدہ دونوں میں خواتین مساجد میں جاتی تھیں ۔  

ایک اور بات یہ کہی جاتی ہے کہ خواتین زیب و زینت کے ساتھ مسجد جاتی ہیں جس سے فتنہ کا اندیشہ ہوتا ہے ۔ ہمارے نزدیک اگر کوئی ایسی بات ہے تو اس کادرست طریقہ یہ ہے کہ ان کو سمجھایا جائے کہ وہ مسجد میں اللہ کی حدود کی پابندی کر کے آئیں ۔ ممانعت کر دینا تو کوئی طریقہ ہی نہیں ، نہ اس سے کوئی خیر پیدا ہو گا۔ویسے بھی حضور کے زمانے میں جب صفیں آگے پیچھے ہوتی تھیں تب یہ کوئی فتنے والی بات تھی۔ اب تو بڑ ی سہولت یہ ہوگئی ہے کہ مسجدوں میں خواتین کا حصہ مردوں سے بالکل الگ بنایا جا سکتا ہے ۔اب اس اعتراض کا تو ویسے ہی کوئی محل نہیں رہا۔ پھر بھی خواتین کو توجہ دلاتے رہنا چاہیے ۔

قرآن اور رمضان

سلیمانیہ مسجد روایتی ترکی طرز پر بنی ایک عالیشان مسجد تھی۔یعنی پہلے بڑ ا سا صحن اور پھر مرکزی حصہ جو گنبد کی شکل میں تھا۔ اس مسجد کا مرکزی حصہ بھی اتنا ہی شاندار اور وسیع تھا۔مرکزی حصے پر وہی بلند گنبد والی چھت۔ چھت پر خوبصورت نقش ونگارتھے ۔ چھت اور دیواروں پر کھڑ کیاں موجود تھیں جن پر لگے شیشوں سے اندر آنے والی روشنی دن میں مسجد کو روشن رکھتی تھی۔ مرکزی گنبد کی چھت سے لٹکتا ہوابڑ ا سا فانوس جو زمین سے تقریبا دس فٹ اوپر موٹے تاروں کی مدد سے معلق تھا ، اس میں لگے درجنوں بلبوں سے روشنی پھوٹ رہی تھی۔اس کے علاوہ بے شمار چھوٹے چھوٹے فانوس بھی معلق تھے ۔ ہر فانوس میں دودرجن سے زیادہ بلب تھے ۔ زمین پر دبیز قالین بچھا تھا۔

آج پہلاروزہ تھا۔ ہم مسجد پہنچے ایک قاری صاحب رمضان کے حوالے سے آیات کی تلاوت کر رہے تھے ۔اس خوبصورت ماحول میں خوبصورت تلاوت کا اثر ویسے ہی بہت زیادہ تھا، مگر رمضان کی آمد کے احساس نے ایسی کیفیت پیدا کر دی کہ جسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ترکی کی ہر مسجد نے مجھے بہت مسحور کیا۔ مگر یہاں آ کر جو کیفیت ہوئی وہ ناقابل بیان تھی۔ایسی روحانیت، ایسا سکون، ایسا اطمینان۔ سچی بات ہے کہ دل چاہتا تھا کہ نہ لمحے ختم ہوں ، نہ یہ وقت گزرے ، نہ یہ شام کبھی غروب ہو، نہ کبھی ہم یہاں سے رخصت ہوں ۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

مگر وقت ہمارا غلام نہیں ہے ۔ وہ ا پنے پیدا کرنے والے کی مرضی کا تابع ہے ۔چنانچہ یہ وقت بھی گزرگیا۔ جماعت کھڑ ی ہوئی۔ ہم نے عصر کی نماز ادا کی۔ اور قبلے کی سمت واقع کھڑ کی سے اس مسجد کے بنانے والے سلیمان عالیشان کے مزار کو دیکھا۔ وہ شہنشاہ جس کے قدموں میں دنیا کے تین براعظم تھے ۔ جس کی ہیبت سے دنیا لرزتی تھی۔ جس کی عظمت کا اعتراف اپنے اور غیروں سب نے کیا۔وقت اس کے لیے بھی نہیں رکا۔نصف صدی تک دنیا کے تین براعظموں پر حکومت کرنے والا شہنشاہ جس نے نصف صدی تک پورے دبدبے سے حکومت کی۔ جس کے دبدبے کے آگے کھڑ ے ہونے کے الزام میں اس نے اپنے ہی دو سگے بیٹے قتل کر دیے ، وقت نے اس کا ساتھ بھی نہیں دیا۔

میرا دل نہیں چاہتا تھا کہ مسجد سے باہر نکل کر جاؤں ۔ مگر سلیمان کا مزار اور اس سے متصل حورم سلطان کا مزار آواز دے رہا تھاکہ آؤ اور عبرت کی نگا ہوں سے ہمیں دیکھو۔ اور دنیا کو یہ بتاؤ کہ ایک آدمی سے لے کر شہنشاہ اعظم اور ملکہ معظمہ جیسے لوگ بھی خدا کی قدرت کے سامنے کتنے بے بس ہیں ۔ ہم بوجھل قدموں سے مسجد سے باہر نکلے اور سلیمان اور حورم کے مزار کی طرف بڑ ھنے لگے ۔

(جاری ہے, اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

مزید : سیرناتمام