وہ مسلمان ملک جہاں لوگوں کو قتل کرکے ان کے کباب بنائے جارہے ہیں

وہ مسلمان ملک جہاں لوگوں کو قتل کرکے ان کے کباب بنائے جارہے ہیں
وہ مسلمان ملک جہاں لوگوں کو قتل کرکے ان کے کباب بنائے جارہے ہیں

  

تریپولی(مانیٹرنگ ڈیسک) معمر قذافی کی حکومت گرائے جانے کے بعد سے لیبیا انتشار کا شکار ہے۔ وہاں کئی شدت پسند گروہ ہیں جو نائیجیریا اور دیگر افریقی ممالک سے یورپ جانے والے پناہ گزینوں کو اغواءکرکے جانوروں کی طرح منڈیوں میں فروخت کر رہے ہیں۔ اب ان پناہ گزینوں کے حوالے سے نائیجیرین حکومت کے سابق رکن نے ایسا دعویٰ کر دیا ہے کہ سن کر ہی آدمی کانپ جائے۔ آئی بی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق نائیجیریا کے سابق وزیرثقافت فیمی فانی کیودے نے دعویٰ کیا ہے کہ ”نائیجیریا کے باشندوں کو لیبیا میں اغواءکرکے انہیں قتل کیا جا رہا ہے اور ان کے گوشت کے کباب بنائے جا رہے ہیں۔یہ لوگ ایک نئی زندگی کا خواب آنکھوں میں سجائے یورپ جانے کی امید میں لیبیا پہنچتے ہیں اور وہ غلاموں کی تجارت کرنے والے گروہوں کے ہتھے چڑھ کر یا فروخت کر دیئے جاتے ہیں یا انہیں کاٹ کر ان کے گوشت کے کباب بنا دیئے جاتے ہیں۔“

’پاکستان میں اس جگہ طالبان بڑے مزے اور سکون سے رہ رہے ہیں‘ امریکی فوج نے انتہائی سنگین ترین الزام لگادیا، نیا خطرہ پیدا ہوگیا

رپورٹ کے مطابق رواں سال اپریل میں انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کی طرف سے تنبیہ جاری ہوئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ لیبیا میں کم از کم 20ہزار افراد غلام بنائے جا چکے ہیں جو اغواءکاروں کے قید خانوں میں موجود ہیں۔فیمی کیودے کا مزید کہنا تھا کہ ”لیبیا میں پہنچنے والے پناہ گزینوں میں سے تین چوتھائی نائیجیرین باشندے ہوتے ہیں۔ان میں سے 75فیصد کے لگ بھگ لوگ غلام بنا کر فروخت کر دیئے جاتے ہیں۔ ان سب کا انجام موت ہی ہوتا ہے۔ بعض سے اس وقت تک کام لیا جاتا ہے جب تک وہ مر نہ جائیں، بعض کے اعضاءکاٹ کر ان کے کباب بنائے جاتے ہیں اور بعض کو قتل کرکے انہیں آگ پر چڑھا دیا جاتا ہے۔“واضح رہے کہ سی این این نے حال ہی میں اپنا ایک رپورٹر لیبیا بھیجا جس نے بھیس بدل کر تحقیقات کیں اور تصدیق کی کہ لیبیا میں واقعی انسانی منڈیاں لگائی جا رہی ہیں اور ان منڈیوں میں مردوخواتین کو 400ڈالر (تقریباً 42ہزار روپے) میں فروخت کیا جا رہا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس