”سٹیٹس کو“ کیا ہے؟

”سٹیٹس کو“ کیا ہے؟
”سٹیٹس کو“ کیا ہے؟

  



ہمارے محترم وزیراعظم کا شاید یہ خیال ہے کہ مسلسل کرپشن کی بات کرنے اور الزام لگانے سے پاکستانی قوم ان کو ہیرو مانتے ہوئے ان کی حمایت کرتی رہے گی اور حکومت کی طرف سے دیئے جانے والے دلاسوں کو دال روٹی جان کر صبر کرتی رہے گی۔ یوں بھی ہماری اس مملکت ِ خداداد پاکستان کی دیرینہ روایت کے مطابق جو حضرات برسر اقتدار ہوں، محب وطن اور عوام کے ہمدرد صرف وہی ہوتے ہیں اور جو حزبِ اختلاف میں چلے جائیں ان کے اندر دُنیا بھر کی برائیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ حتیٰ کہ وہ ملک دشمن بھی ہیں،لیکن تحریک انصاف والے یہ بھول جاتے ہیں کہ جب کسی نے بھوکے پیٹ والے سے پوچھا کہ دو جمع دو کتنے ہوتے ہیں تو جواب ملا ”چار روٹیاں“۔ آج ہم نے ابتدا ہی اس حساس نوعیت کے مسئلے سے کی ہے،جو حکمرانوں حتیٰ کہ اپوزیشن کے نزدیک بھی ان کی سیاست اور نو ایجاد لفظ ”بیانیہ“ کے مطابق کوئی حیثیت نہیں رکھتا،لیکن اس نے عوام کی نیندیں حرام کر دی ہیں اور وہ ہر روز صبح اس دُعا کے ساتھ اُٹھتے ہیں یا اللہ حکمران آج بھی ان کے لئے مہنگائی کا کوئی نیا نسخہ لے کر نہ آئیں اور پھر ان کو صبر کی تلقین کریں۔

صبح اخبار پر پہلی نظر پڑی تو 440 وولٹ کا جھٹکا لگا کہ نیپرا کی سفارش پر بجلی کی قیمت میں 26پیسے فی یونٹ اضافہ کر دیا گیا ہے۔ بظاہر یہ معمولی نظر آتا ہے،لیکن اسے گذشتہ ماہ کے ایک روپے68پیسے اضافے سے ملا کر پڑھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ مجموعی اضافہ قریباً دو روپے فی یونٹ ہے اور اب 300یونٹ کے بعد کی قیمت 24 روپے فی یونٹ ہو جائے گی۔فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام سے گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل وصول کیا جانے والا اضافہ بھی پونے دو روپے فی یونٹ سے پونے تین روپے فی یونٹ تک ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان مہینوں میں پٹرولیم مصنوعات سستی ہوئیں،جس کا فائدہ عوام کو نہیں دیا گیا۔اس سے بڑی حیرت اس وقت ہوئی جب اوگرا کی سفارش پڑھی کہ مجموعی طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں 2 روپے 90پیسے فی لیٹر کمی کر دی جائے اور اس کمی کا بریک اپ یہ ہے

کہ پٹرول تو25پیسے فی لیٹر کیا جائے(ماشاء اللہ اسے کہتے ہیں حاتم طائی کی قبر پر لات مارنا) البتہ ہائی سپیڈ ڈیزل کے نرخ2روپے 25پیسے فی لیٹر کم کرنے کے لئے کہا گیا۔ پٹرول کے علاوہ مٹی کے تیل کے نرخ بھی 83پیسے فی لیٹر گھٹانے کی سفارش کی گئی ہے۔عوام جانتے ہیں کہ یہ ڈیزل لینڈ کروزر والے استعمال کرتے ہیں اور پٹرول کاروں کے علاوہ موٹر سائیکلوں اور رکشوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔اسی طرح مٹی کے تیل سے دیا بھی نچلے طبقے کے لوگ جلاتے ہیں اور اس پر بھی ہمارے کپتان فرماتے ہیں کہ ”سٹیٹس کو“ رکھنے کی حامی قوتیں ان کی مخالف ہیں،جیسے انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی اس نظریہ کی بیخ کنی کر دی ہو۔

ہم مان لیتے ہیں کہ وزیراعظم اور ان کی پوری جماعت ہی انقلابی اور ترقی پسند نظریات کی حامل ہے اور خود محترم کپتان ملک کو ریاست ِ مدینہ کا ماڈل بنانا چاہتے ہیں،ایسی ریاست جس میں خلیفہ دوم جناب حضرت عمرؓ جب روم جاتے ہیں تو یہ سفر اونٹ پر پورا کیا جاتا ہے اور جب وہ منزل پر پہنچتے ہیں تو اُس وقت غلام اونٹ پر اور خلیفہ محترمؓ مہار پکڑے پیدل ہوتے ہیں، یہاں باتیں ”سٹیس کو“ توڑنے کی ہوتی ہیں اور شرائط آئی ایم ایف کی تسلیم کر کے از خود مہنگائی کا سلسلہ دراز کیا جاتا ہے اور پھر کہا جاتا ہے کہ مہنگائی حکومت کے خلاف سازش ہے۔ یہ تو قول و عمل کی بات ہے۔ آپ جو کہتے ہیں اس کے مطابق نظام کیوں نہیں چلتا یا بنتا، ویسے فکر کی کیا بات ہے۔مشہور ہے کہ فرانس کی ملکہ نے کہا تھا کہ ان بھوکوں کو روٹی نہیں ملتی تو یہ کیک کیوں نہیں کھاتے اور یہاں تو آپ کے مشیر خزانہ کو ٹماٹر 17روپے فی کلو نظر آتے اور ایک وفاقی وزیر مٹر 5روپے فی کلو تقسیم کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔

یہ الگ بات ہے کہ ابھی تک ان کی طرف سے اپنے ساتھی وزیروں کو بھی تحفہ نہیں دیا گیا، کیونکہ اب تو ٹماٹر اور مٹر بھی تحفہ ہی ہیں۔ہم نے آج ہی سبزی والے سے ایک کلو پیاز، آدھا کلو ٹماٹر اور تین کلو فارمی پالک لی تو اُس نے ہم سے رعایت کرنے کا کہہ کر ساڑھے تین سو روپے لئے کہ پیاز ایک سو روپے، ٹماٹر280روپے اور پالک40روپے فی کلو تھی۔ایک مصدقہ خبر کے مطابق وفاقی حکومت نے سال میں تین مرتبہ ٹیرف تبدیل کیا اور فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کا سلسلہ جاری رکھا۔یوں بجلی کی قیمت میں قریباً 40فیصد اضافہ ہوا کہ ٹیکسوں میں بھی اسی شرح سے تبدیلی ہوتی اور رقم بڑھ جاتی ہے۔

اس تمام تر صورتِ حال کی روشنی میں ہمیں تو ایسے کوئی اقدام نظر نہیں آئے،جن کی وجہ سے عوامی مسائل میں کوئی کمی آئے۔محترم! آج تو سرکاری طورپر ایل پی جی کی قیمت میں بھی دو روپے فی کلو اضافہ کر دیا گیا ہے اور آپ کے وزیر جہاز رانی محترم علی زیدی ٹویٹ کر کے فرماتے ہیں کہ ایل این جی میں کمال ہو گیا،دو کمپنیوں نے پورٹ پر کام کے لئے اپنی رضا مندی کی چٹھی لکھ دی ہے۔ ہم تو اقتدار والے حضرات کی توجہ اس طرف مبذول کراتے ہیں کہ یہ آنی جانی شے ہے۔یہاں سکندر و دارا نہ رہے اور پاکستان میں تو ایک مہینہ گیارہ دن کے اقتدار کا بھی ریکارڈ ہے، جبکہ محاذ آرائی کے باعث22 ماہ میں بھی حکومتیں ٹوٹی اور انتخابات ہوئے ہیں اور یہاں تو2018ء کے انتخابی عمل کے بعد اقتدار کی تبدیلی ہوئی، جب سے محاذ آرائی ہی چلی آ رہی ہے اور تمام تر نازک حالات میں بھی اس میں کمی نہیں آئی، بلکہ شدت پیدا کی گئی ہے،حتیٰ کہ ترجمانوں کی فوج ظفر موج سے بھی یہی کہا گیا ہے وہ کسی کو پانی نہ پینے دیں،ہم تو عرض ہی کر سکتے ہیں اور پھر گذارش کرتے ہیں کہ اللہ کے واسطے معروفیت پر غور کریں، حالات کا گہری نظر سے جائزہ لیں، بھوک بہت کچھ کرا سکتی ہے اور پھر مزید غور کریں تو آپ نئی نئی تحریکیں نظر آ جائیں گی۔

مزید : رائے /کالم