آدمی ’دھیانے‘ لگا رہتا ہے

آدمی ’دھیانے‘ لگا رہتا ہے
 آدمی ’دھیانے‘ لگا رہتا ہے

  



ہر خوش نیت تمباکو نوش کو سالہا سال گزر جانے پر بھی زندگی کے اولین سگریٹ کی لذت یاد رہتی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ میرے لئے پہلے کی بجائے دوسرے سگریٹ کا تجربہ زیادہ منفرد ثابت ہوا۔اُس دن مجھ سمیت بی اے فائنل کے کچھ ’دانشور ٹائپ‘ لڑکے اسٹوڈنٹس یونین کے دفتر میں بھیگے ہوئے موسم کا مزہ لے رہے تھے۔اچانک ہمارے ایک ہم جماعت نے ’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ‘ جیسی سنجیدہ نظم کے خالق پروفیسر اصغر سودائی کی ایک کم معروف مگر یک کیفیتی غزل چھیڑ دی۔ کہتے ہیں ’نشہ ء مے کو تعلق نہیں پیمانے سے‘لیکن اب سے آٹھ برس پہلے تمباکو نوشی کی چالیس سالہ ’کوالیفائینگ سروس‘ سے ریٹائر ہو کر بھی میں نہیں سمجھ سکا کہ اُس گھڑی گرج چمک اور چھینٹوں کے زور پر سگریٹ کا نیلگوں ذائقہ کسی ویزے یا پاسپورٹ کے بغیر شعری واردات کی حدوں میں کیسے داخل ہو گیا تھا:

باغ میں،راغ میں ابر ہنستا رہا، مینہہ برستا رہا

دلکشا دھوپ کو دل ترستا رہا، مینہہ برستا رہا

بدلیاں راگ ملہار گاتی رہیں، گھر کے آتی رہیں

میں کرن راگنی کو ترستا رہا، مینہہ برستا رہا

سموگ کی رُت میں دل پھر چاہ رہا ہے کہ ہندی گیتوں کی سی کومل فضا میں ڈوبی ہوئی یہ ساری غزل آپ کو سنا دی جائے، مگر جس وقت کی بات میں کر رہا ہوں، تب کی شعری لذت ایک رات پہلے میری سگریٹ نوشی کی افتتاحی رسم میں ایک چھوٹے سے ’حادثہ‘ کا امکانی رد عمل بھی ہو سکتی ہے۔ وقوعہ میں اپنا منہ تو کالا ہوا ہی،ساتھ ہی لاہوری زبان میں میرے چھوٹے بھائی کی ’بزتی‘ بھی ہو گئی، جو ذرا ’کولیٹرل‘ نوعیت کی تھی۔ بھائی اُس وقت تھا تو فرسٹ ائیر کا طالب علم، لیکن شیخ سعدی کے نزدیک بزرگی کا پیمانہ ماہ و سال کی جگہ عقل ہے۔لہٰذا نہ صرف سگریٹ پینے کی دعوت بھائی نے دی،بلکہ کھوکھے والے نے’کیپسٹن‘ کے پانچ سگریٹ ’ہم پلہ‘ ڈبی دستیاب نہ ہونے کے باعث جب ’کے ٹو‘ کے پیکٹ میں ڈال کر دیئے تو اسے بھی خندہ پیشانی سے قبول کر لیا۔

میری واردات کے حادثاتی پہلو کو سمجھنے کی شرط یہ ہے کہ چوتھائی صدی پہلے آپ نے پان سگریٹ کی کسی نہ کسی عوامی دکان پر صدقہ ئ جاریہ کے طور پہ ہمہ وقت روشن رہنے والا تیل کا دیا اور گاہکوں کے انتظار میں سلگتی ہوئی رسی ضرور دیکھی ہو۔اِن کی بدولت سب کو یہ سہولت تھی کہ لائٹر یا ماچس کے پیسے بچا کر بھی ’اپنے حصے کی کوئی شع جلاتے جاتے‘۔ بھائی نے ’ماماں ٹوپ‘ بننے کے چکر میں پیکٹ میری طرف بڑھا تو دیا،لیکن مجھے کہاں پتا تھا کہ صحیح پروسیجر کے تحت پہلا کام موٹے کاغذ کی کترن کو شعلہ دکھانا ہے۔اب منہ میں سگریٹ بلکہ ’سغٹ ٹکا کر دیئے کی لو کو جو ’ٹچ‘ کیا تو چراغ تو ہو گیا گل۔پر کچھ نہ پوچھیے کہ اس دوران مجھ پہ کیا گزری۔ آگ میں کاربن سمیت وہ کالے، نیلے،سرخ اور بے رنگ اجزاء پورے پائے گئے جو سکول کی سائنس میں پڑھے تھے۔

کہنے کو کہہ سکتے ہیں کہ اگر باقی دنیا کے برعکس برصغیر میں پیکٹ کی جگہ کھلے سگریٹ بیچنے اور خریدنے کا رواج نہ ہوتا تو اس حاد ثہ سے بچا جا سکتا تھا۔ نوجوانی کے مسائل کی روشنی میں میری دلیل یہ ہے کہ ایک آدھ سگریٹ خرید نا پوری ڈبیہ لینے کے مقابلے میں سستا سودا تھا، پھر اسے اٹھائے اٹھائے پھرنا بھی مسئلہ نہ ہوتا۔ وگرنہ پیکٹ دس والا بھی ہو تو قمیض کی جیب میں بزرگوں کی جھات پڑ سکتی ہے اور پتلون میں سنبھالا تو ڈبی کی جمالیات ہی ختم سمجھو۔سچ پوچھیں تو کھوکھے سے اِکا دُکا سگریٹ خریدنے والے کو عادی سگریٹ نوش بنتے کم ہی دیکھا،تاوقتیکہ وہ کھلے سگریٹ چھوڑ کر پیکٹ اور بعدازاں ’ڈنڈے‘ خریدنے شروع کر دے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا،مگر اقبال کی شاعری کی طرح میری تمباکو نوشی کے بھی تین ادوار ہیں، جن میں سے بیچ کا دور علامہ کی پیروی میں یورپ میں گزرا۔

ابتدائی مشق ِ سخن تو اُسی گھر میں ہوئی تھی جہاں فخر سے کہا جا سکے کہ ’حقوں‘ کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں‘۔ ایک میرے والد ہیں جنہیں ہم نے کسی کی شادی یا ولیمہ پر زندگی میں فقط تین مرتبہ سگریٹ پیتے دیکھا اور ہر بار بھانجے بھانجیوں نے خوشی سے تالیاں بجائیں کہ دیکھو، ماموں جی ناک سے دھواں نکال لیتے ہیں۔ ابا کی ’مردانگی‘ کی توثیق اس لئے اہم ہے کہ ہمارے ’سیکولر‘ ماحول میں دود کشی کے بغیر کسی عاقل بالغ شہری کا تصور ہی محال تھا۔ خاندانی دیو مالا کا مزید سہارا لوں تو شہر میں بجلی کے بلب سے ’ٹاکی‘ جلا کر حقہ روشن کرنے کی ناکام کوشش کے بعد گاؤں سے آئی ہوئی ہمارے والد کی پھوپھی اماں نے جھلا کر ایک تاریخی جملہ کہا جسے دہرایا نہیں جا سکتا۔بس، یوں سمجھ لیں کہ ’نئے فیشنوں‘کی مذمت میں ایک پنجابی محاورہ بولا تھا جس میں ’دادے کی داڑھی‘کا ذکر آتا ہے۔

اس واقعہ سے یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ عاصمہ جہانگیر مرحومہ سے بہت پہلے حقہ نوشی کی حد تک ہمارے قصبہ و دیہات میں مرد و خواتین کی برابری کا اصول جڑ پکڑ چکا تھا۔ میرے آبائی علاقہ میں زمینی ملکیت کی اکائی بھی چھوٹی ہے، اس لئے ’تمیز بندہ و آقا‘ کے بغیر جب مردانہ مجلس میں حقہ رہٹ کی طرح گول دائرے میں گھومتا تو ایک بھائی چارہ (اور عورتوں کی محفل میں ’بہن چارہ‘) سا محسوس ہوتا۔ سماجی رتبہ کی طرح عمر کے فرق کی بھی کوئی خاص قید نہیں تھی۔ خالد نظیر صوفی کی کتاب ’اقبال درون خانہ‘ میں عدالتی تعطیلات شاعر مشرق اور شیخ نور محمد کے سیالکوٹ والے گھر میں باپ بیٹے کے متوازی چارپائیوں پہ لیٹ کر حقہ نوشی سے لطف اٹھانے کا واضح اشارہ ملتا ہے۔اس سے یہ مراد نہیں کہ ایک خدا اور ایک کتاب کی طرح ساری قوم کا حقہ بھی ایک تھا۔جی نہیں۔

ایک واضح فرق تو ’پینڈو‘ اور شہری حقے کا ہے۔ اول الذکر ایک نڑی، مٹی کے پیندے اور ’ٹوپی‘ پر مشتمل ایک بنیادی گُڑگڑی تھی جو دور سے ’اینٹی ائر کرافٹ گن‘ کے مشابہہ لگتی۔ ہاں، شہری حقہ کا ’تھلا‘ مضبوط دھات کا بنا ہوتا اور شاید اس کے نیچے کسی یورپی کمپنی کے نام کے الفاظ بھی ڈھلے ہوتے۔ ہم بچوں کی دلچسپی اُس ’قبضہ‘ ٹائپ چیز میں زیادہ تھی جسے ڈھیلا کر کے حقہ کی نَے کو مسجد کے مائیکروفون اسٹینڈ کی طرح اوپر نیچے ’ایڈجسٹ‘ کر لیتے۔ جعفر علی زیدی جیسے فرشی حقہ پینے والوں سے تو تعلق بعد میں بڑھا، لیکن بچپن میں ہم ایک تیسری قسم کے سیدھی چلم والے پوٹھواری حقے بھی دیکھ چکے تھے،جن میں چمپئن حقہ نوش پھوپھا جمال دین نے علاقائی تعصب سے کام لے کر یہ ٹیکنیکل نقص نکالا کہ چلم کا ’سوٹا‘ لگا کر تھوکنا واجب ہو جاتا ہے، سو اسے قالین یا دری پر بیٹھ کر پیا نہیں جا سکتا۔

بہر حال، ریکارڈ کی درستی کی خاطر یہ بتادوں کہ بندے نے بحیثیت تمباکو نوش اپنے کیرئر میں ابتدائی چھ برس سگریٹ، اگلے آٹھ سال پائپ اور سگریٹ، پھرچوتھائی صدی سے کچھ اوپر صرف پائپ پہ گزر بسر کی۔ البتہ لندن میں قائد اعظم کی یاد میں ’کریون اے‘ کے بیس سگریٹ بھی پئے اور خوشی غمی کے خاص خاص موقعوں پر سگار نوشی کے بعد بھی کہنا پڑا کہ ’میں آج اعتدال کی حد سے گزر گیا‘۔ جیسے بہن کی شادی کے انتظامات کرتے ہوئے ’کنگ ایڈورڈ‘ کی پانچ ڈبیوں کے پشتے لگا دیے تھے۔ قبل ازیں اُس رات تعداد ذرا کم رہی جب کراچی یونیورسٹی میں فلسفہ کے مرحوم استاد ڈاکٹر ظفر عارف سے اس سوال پہ سینگ پھنسا بیٹھے کہ آیا بیوروکریسی ایک ’انڈی پنڈنٹ فورس‘ ہے یا جاگیردار طبقہ کی ترجمان۔ چند سال پہلے ٹورنٹو سے شوکت نواز کے ہاتھ موصول ہونے والے ایک سو کیوبن سگار اس کے علاوہ ہیں۔

اب پھر جی میں آرہی ہے کہ سگریٹ پر پائپ کی فضیلت ثابت کرنے کے لئے کتاب زندگی کے وہ سارے ابواب پڑھ کر سنادوں، جن کے عنوانات پر برٹرینڈ رسل سے لے کر خرم قادر، خالد آفتاب، مقسط ندیم اور بی بی سی کے وقار احمد کے نام دمک رہے ہیں۔البتہ اس سے اگلے مرحلے پر کتاب کی نہیں،سی ڈی کی ضرورت پڑے گی تاکہ ’منڈیوں کے بھاؤ‘ سُنا سُنا کر اور پائپ فضا میں لہراتے ہوئے مجھے رغبت دینے والے مرحوم دوست حامد ہاشمی کی شیریں آواز پھر گونج سکے کہ ’آپ بارہ آنے کا سگریٹ پئیں، مَیں دونی کا تمباکو پیوں گا‘۔بہرحال کتاب ہو یا ڈسک، سرورق پر تصویر میرے بھائی کی ہونی چاہئیے جو ’ساہنوں نہر والے پل تے بلا کے‘ آج بھی پانچ سگریٹ روزانہ کے زاد راہ کے ساتھ ’چلی جا رھیا واں کنارے کنارے!‘

یہاں ایک متوقع سوال یہ ہے کہ چالیس سال سے طویل تر سروس کے بعد تم نے تمباکو نوشی سے ریٹائرمنٹ آخر کیسے لے لی۔ اگر آپ کرکٹ کا شوق رکھتے ہیں تو یہ حلفیہ بیان دینے کو تیار ہوں کہ مَیں نے آپ ہی ’گوگلی‘ پھینک کر اپنی وکٹ اڑائی ہے۔دراصل تھوڑی سی جسمانی ’بھن تروڑ‘ کے بعد میرے نہایت شفیق معالج نے یہ تو کہہ دیا تھا کہ ادویات لیتے رہیں مگر احتیاط ایک ہی ہے، بشرطیکہ آپ کو یہ نہ لگے کہ پائپ چھوڑ دینے سے ’کوالٹی آف لائف‘ خراب ہو گئی ہے۔ یہ ڈاکٹر واقعی میرے دِل کا حال جانتا ہے کہ اگر رعب ڈالا گیا تو اسے صدمہ ہوگا۔مَیں نے اپنے آپ کو نرمی سے یہ کہہ کر چکر دیا کہ ’سر، تمباکو چھوڑنے کی ضرورت نہیں۔آپ چوبیس گھنٹے میں وقار بھائی والے چھ پائپوں سے ایک پائپ یومیہ پہ تو پہلے ہی آ چکے ہیں۔ذرا اسے بھی کچھ روز معطل کر کے دیکھیں،۔

تجربہ نے ثابت کیا کہ میرے مزاج کو خوشامد ہی راس ہے، پر ذرا فنکارانہ انداز کی۔ جیسے دفتر میں ابا کے نائب منظور حسین شاہ اپنے سرائیکی لہجہ کو اور ملائم کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ملک صاحب،آپ کے موزے بڑے فرسٹ کلاس ہیں۔ سیدھا سا مفہوم یہ تھا کہ موزے ووزے کیا ہوئے، آپ خود اعلیٰ درجہ کے انسان ہیں۔سو اپنی ہی ذات کے ساتھ میری نرم روئی کام دکھا گئی اور ساڑھے آٹھ سال ہونے کو آئے کہ تمباکو کی معطلی کے فیصلہ پر پارلیمینٹ کی آئندہ قانون سازی تک عمل درآمد ہو رہا ہے۔پھر بھی تمباکو نوشی سے گریز کرتے ہوئے تاحال تمباکو نوشوں کی نفرت دل میں نہیں پال سکا۔ رحلت سے دس منٹ پہلے ز ندگی کا آخری سگریٹ پینے والے میرے دادا کا قول ہے کہ اُس میں مزا تو کوئی نہیں، بس آدمی ’دھیانے‘ لگا رہتا ہے‘۔ اُن سے پہلے داغ دہلوی فرما گئے تھے:

دفعتہ ترکِ تعلق میں بھی رسوائی ہے

الجھے دامن کو چھڑاتے نہیں جھٹکا دے کر

مزید : رائے /کالم