ایکسپورٹ پالیسی میں مصنوعات کی تشہیر کوشامل کیا جائے کارپٹ ایسوسی ایشن

ایکسپورٹ پالیسی میں مصنوعات کی تشہیر کوشامل کیا جائے کارپٹ ایسوسی ایشن

  



لاہور(لیڈی رپورٹر)پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد اسلم طاہر نے کہا ہے کہ برآمدات کے فروغ کیلئے تمام متعلقہ سرکاری اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کا ایک پیج پر ہونا نا گزیر ہے اور اس حوالے سے تشکیل پانے والی پالیسیوں پر عملدرآمد میں کوتاہی نہ برتی جائے،پاکستانی مصنوعات کی تشہیر کیلئے بیرون ممالک حکومتی سطح پر وسیع مہم شروع کی جائے،برآمدی شعبے کے مسائل کے حل کیلئے ایسوسی ایشنوں اور حکومت کے درمیان روابط کیلئے فوکل پرسنز کی تعیناتی کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں مینو فیکچررز کے وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ہاتھ سے بنے ہوئے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔محمد اسلم طاہر نے کہا کہ ایکسپورٹ پالیسی کے نفاذ سے قبل اس کی ہر سطح پر تشہیر ہونی چاہیے تاکہ اس کے عملدرآمد میں مسائل حائل نہ ہوں۔ایکسپورٹ پالیسی میں پاکستانی مصنوعات کی تشہیر کو لازمی جزو کے طور پر شامل کرنا چاہیے اور اس میں بیرون ممالک پاکستانی سفارتخانوں کو اہداف دئیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا بھی تشہیر کا موثر پلیٹ فارم ہے اس لئے حکومت برآمدی شعبوں سے مل کر اس کیلئے ایک ڈیسک قائم کرے۔ سفارتخانوں کے ذریعے پاکستانی مصنوعات کی تشہیر کی وسیع مہم شروع کی جائے جسے پاکستانی ثقافت کے ساتھ پیش کیا جائے جس سے غیر ملکی ہماری مصنوعات کی جانب راغب ہوں گے۔ اسلم طاہر نے کہا کہ حالیہ سالوں میں ہاتھ سے بنے ہوئے قالینوں کی صنعت شدیدمشکلات سے دوچار ہے جس کی وجہ سے ہنر مند طبقے کیلئے بھی مسائل میں اضافہ ہوا ہے اس لئے حکومت اس جانب اپنی توجہ مرکوز کرے۔

مزید : کامرس