مہنگی بجلی صنعتی ترقی کی راہ  میں رکاوٹ ہے: پیاف

مہنگی بجلی صنعتی ترقی کی راہ  میں رکاوٹ ہے: پیاف

  



لاہور(لیڈی رپورٹر)پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف)نے کہا ہے کہ کمرشل اور صنعتی صارفین کے لئے کابینہ کی اکنامک کوارڈینیشن کمیٹی آئی ایم ایف کی ایما پر فیول ایڈجسمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کرنے کی منظوری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگی بجلی عوام پر بجلی بن کر گرے گی۔نیپرا نے بجلی مہنگی کرنے کی منظوری گھریلو کمرشل صنعتی اور زرعی صارفین کے لئے بجلی کی فی یونٹ قیمت ۱ روپے ۹۴  پیسے کی ہے۔ اور یہ دو قسطوں میں جولائی سے دسمبر تک بجلی کے نرخ بڑھائے جائیں گے۔ صارفین پر ۹۸۱  ارب ۳۶ کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا۔مجوزہ اضافہ صنعتی شعبہ پر اضافی بوجھ ہے جس سے اشیاء کی پیدواری لاگت میں اضافہ سے اشیاء مہنگی اور ملک میں مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہوگا۔

صنعتی شعبہ میں دن رات بجلی استعمال ہوتی ہے اور کمرشل مقاصد کیلئے اس طرح کا اضافہ صنعتی شعبہ متاثر ہوگاانہوں نے کہا کہ مہنگی بجلی صنعتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔  بجلی مہنگی کرنے کے بعد بجلی بلوں میں عائد مختلف قسم کے ٹیکسوں کا خاتمہ کیا جائے جو بلوں کا 40فیصد بنتا ہے اور ان ناجائز ٹیکسوں سے عوام پر بجلی کے بل بوجھ بن چکے ہیں اب بجلی کی قیمتوں میں اضافہ سے ان ناجائز ٹیکسوں میں بھی اضافہ ہوگا جو عوام پر دوہرا عذاب ثابت ہوگی انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے شرائط کے عوض عوام کو قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے کیونکہ ایسے فیصلوں سے وقتی ریونیو تو حاصل ہوجاتا ہے لیکن مہنگی بجلی اور اشیاء کے باعث برآمدات میں کمی ہوگی جس سے تجارتی خسارہ  میں اضافہ اور اور حکومتی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی سے حکومتی مشکلات بڑھیں گی اس لیے بجلی قیمتوں میں مجوزہ اضافہ فی الفور واپس لیا جائے۔ان خیالات کا اظہارپیاف کے چیئرمین میاں نعمان کبیرنے وائس چیئرمین ناصر حمید خان کے ہمراہ پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کیا۔ نھوں نے کہا کہ مہنگی بجلی کو مزید مہنگا مت کیا جائے کہ کاروبار کرنے کی لاگت بڑھ جائے پہلے ہی اشیا و خدمات کی پیداواری لاگت خطے میں زیادہ ہے اور اسکا حتمی اثر عام صارفین پر پڑے گا۔ یہ فیصلہ لاگو کرنے سے پہلے کاروباری تنظیموں اور سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے۔روپے کی مسلسل بے قدری اور مہنگی پٹرولیم مصنوعات کی وجہ سے صارفین پہلے ہی مہنگائی کا شکار ہیں اور عوام کا جینا دوبھر ہوائے گا۔ روپے کی مزید بے قدری کی خبریں بھی تشویشناک ہیں،مزید بے قدری سے بہت سے معاشی مسائل پیدا ہونگے۔

مزید : کامرس