مقبوضہ کشمیر، کرفیو کو 118روز مکمل، بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاج 

      مقبوضہ کشمیر، کرفیو کو 118روز مکمل، بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاج 

  



سرینگر،جموں،نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوزایجنسیاں)مقبوضہ کشمیر میں ہفتہ کو مسلسل118ویں روز بھی بھارت کے سخت فوجی محاصرے اور پری پیڈ موبائل فون،انٹرنیٹ کی معطلی کے باعث وادی کشمیر اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں معمولات زندگی بری طر ح سے مفلوج ہیں۔کشمیر ی عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے 11 سیاسی وسماجی تنظیموں سے وابستہ30ارکان کے جموں سے سرینگر کی طرف یکجہتی کشمیر مارچ کو رام بن میں زبردستی روک دیا۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مارچ گزشتہ منگل کو جموں سے شروع ہوا تھا اوراسے (آج) اتوار کو سرینگر میں ختم ہونا تھا۔لیکن جب یہ مارچ رام بن پہنچا تو بھارتی پولیس نے شرکاء کو آگے جانے سے روک دیا۔ مارچ کا اہتمام کرنے والوں کو رام بن میں پریس کانفرنس کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ نام نہاد کشمیر اسمبلی کے سابق رکن اور بنگلہ دیش بھارت پاکستان فورم کے ورکنگ صدر ڈاکٹر سنیلم نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بھارتی پولیس نے رام بن میں صحافیوں اور مارچ کے شرکاء کو تشددکا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہاکہ ایک طرف یورپی ارکان پارلیمنٹ کو یہ دکھانے کے لیے سرینگر لایا گیا کہ وادی کشمیر میں صورتحال معمول کے مطابق ہے جبکہ دوسری طرف 11تنظیموں کے نمائندوں کو کشمیر جانے سے روک دیا گیاجس سے ظاہر ہوتا ہے کشمیر میں کچھ بھی معمول کے مطابق نہیں ہے۔ مارچ کے شرکاء کو روکنے کے بعد بھارتی پولیس نے انہیں زبردستی واپس جموں بھیج دیا۔مقبوضہ کشمیر میں کئی حریت رہنماؤں کو 1998ء میں سرینگر میں مظاہروں کا انعقاد کرانے کے سلسلے میں قائم مقدمے میں عدالت میں طلبی کے نوٹسز جاری کردئیے۔ حریت رہنما جاوید احمد میر نے حریت رہنماؤں کو نوٹسز جاری کیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ انکے علاو ہ جن دیگر رہنماؤں کو عدالت میں پیش ہونے کو کہا گیا ہے ان میں سید علی گیلانی، محمد یاسین ملک، پروفیسر عبدالغنی بٹ، شیخ علی محمد، ڈاکٹر غلام محمد حبی، شاہد الاسلام، شیخ خالد، شیخ اسلم، وجاہت بشیر قریشی، محمد صدیق شاہ، فاروق احمد سوداگراور غلام نبی کشمیری شا مل ہیں۔ جاوید احمد میر نے مزید کہا کہ جن رہنماؤں کو عدالت میں طلب کیا گیا ہے ان میں سے بیشتر جیلوں اور گھروں میں نظر بند ہیں۔ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں ضلع پلوامہ کے علاقے لتر میں مجاہدین کے ایک گروپ نے بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے نوجوان عرفان احمد راتھر کو ہوائی فائرنگ کے ذریعے سلامی پیش کی۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارتی فوجیوں نے عرفان احمد راتھر کو چند روز قبل ایک اور نوجوان کے ہمراہ محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران شہید کیا تھا۔ عینی شاہدین نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ مجاہدین کا ایک گروپ شہید کے آبائی گاؤں لتر میں نمودار ہو ا اور ہوا میں گولیاں چلا کر شہید نوجوان کو سلامتی دی۔ انہوں نے کہا کہ سلامی کے بعد مجاہدین دوبارہ نامعلوم مقام کی طرف لوٹ گئے۔ عینی شاہدین نے مزید کہا کہ واقعے کے بعد بھارتی فوجیوں نے علاقے کا محاصرے کر کے تلاشی کی کارروائی عمل میں لائی۔علاوہ ازیں بھارتی دارلحکومت نئی دہلی میں قائم کشمیری پنڈتوں کی تنظیم نے امریکہ میں تعینات بھارتی سفارت کارسندیب چکرورتی کے حالیہ بیان کہ نریندر مودی کی حکومت اسرائیلی طرز پر کشمیرمیں ہندوؤں کی بستیاں بسائے گی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کشمیری پنڈتوں کی حالت زار کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ کے زیر اہتمام مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مظاہرے میں حریت رہنماؤں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مقبوضہ علاقے میں مسلسل جاری بھارتی محاصرے اور جبر و استبداد کی کارروائی کیخلاف مختلف نعرے درج تھے۔ 

مقبوضہ کشمیر

مزید : صفحہ اول