ہمارے پا س اکثریت نہیں اسلئے پنجاب میں کوئی ایڈ ونچر نہیں کر سکتے: فردوس عاشق

    ہمارے پا س اکثریت نہیں اسلئے پنجاب میں کوئی ایڈ ونچر نہیں کر سکتے: فردوس ...

  



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے ہمارے پاس بہت کم اکثریت ہے اسلئے ہم پنجاب میں کوئی ایڈونچر نہیں کرسکتے، نئے آئی جی اور چیف سیکریٹری پنجاب کو اچھی کارکردگی کیلئے تین ماہ کا وقت دیا ہے۔لاہور میں صحافیوں سے غیر رسمی بات کرتے ہوئے معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا مانتے ہیں بیورو کریسی میں بے چینی اور عدم اعتماد ہے لیکن جنہوں نے کچھ نہیں کیا انہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں وہ کام کریں، نیب اور اینٹی کرپشن کو غلط عناصر کو پکڑنے سے نہیں روک سکتے ان کے ہاتھ نہیں باندھ سکتے۔ اگر وزیراعظم کی ٹیم نالائق ہوتی تو وہی وزیر قانون دوبارہ حلف نہ لیتے، ٹیم کھیلتی ہے اور کپتان صرف ہدایت دیتا ہے، ہمارے پاس بہت کم اکثریت ہے اس لیے ہم پنجاب میں کوئی ایڈونچر نہیں کرسکتے۔ وزیراعظم عمران خان نے بیورو کریسی اور پولیس کے اعلی حکام سے ملاقات کی اور میرٹ کے حوالے سے ہدایات جاری کیں اورکہا پنجاب میں گورنس کے چیلنجز ہیں،نیا مائنڈ سیٹ لانا ہے، پچھلے آئی جی کو تھانوں کی بہتری اور جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کا ٹاسک دیا مگر وہ پورا نہیں کر سکے اس لیے تبدیلی کے اقدامات کیے۔وزیراعظم نے پولیس کو بھی مائنڈ سیٹ اور تھانہ کلچر بدلنے کیلئے کہا اور ہدایت جاری کیں کہ ہمارے ارکان آپ کے پاس جائیں تو انہیں عزت دیں لیکن کام میرٹ پر کریں، طاقتور کیخلاف کمزور کو تحفظ دیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق نے کہا ہے کہ حکومت آرمی چیف کی مدت میں توسیع سے متعلق قانون قومی اسمبلی اور سینیٹ سے باآسانی منظور کرالے گی۔انہوں نے کہا کہ قانون سازی میں اپوزیشن بھی ساتھ دے گی کیوں کہ یہ سیاسی نہیں قومی معاملہ ہے، عدالت نے معاملہ پارلیمنٹ کو بھیج کر پارلیمنٹ کی بالادستی پر مہر لگائی ہے۔فردوس نے مزید کہاہے کہ مولانا!یہ پارلیمان اس وقت تک جعلی نہیں ہو سکتی جب تک آپ کے فرزند اور آپ کی جماعت کے دیگر رہنما اس معزز ایوان میں براجمان ہیں۔ ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ نئے انتخابات ضرور کرائے جائیں گے لیکن پانچ سال کی آئینی مدت کی تکمیل کے بعد۔ انہوں نے کہا کہ ہم مولانا کی گزشتہ پارلیمان کی تقریروں کی روشنی میں آگے بڑھ رہے ہیں جب وہ کہا کرتے تھے کہ پارلیمان کو اپنی آئینی مدت پوری کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کے لندن پہنچتے ہی (ن) لیگ کے ترجمانوں نے پاکستان میں جو ہنگامی حالت نافذ کی ہوئی تھی، وہ یکایک ختم ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ (ن) لیگ نے سپریم کورٹ کی طرح الیکشن کمیشن میں جو ایک صفحہ پیش کیا ہے،وہ بھی قطری لگتا ہے۔ 

فردوس عاشق

مزید : صفحہ اول