سرکاری افسر کسی کا بھی ناجائز کام نہ کریں، نئے پاکستان میں پرانے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنا ہے پنجاب پاکستان کی ترقی میں لیڈ کرے گا، 10دسمبر کو اورنج ٹرین چلے گی: عمران خان 

      سرکاری افسر کسی کا بھی ناجائز کام نہ کریں، نئے پاکستان میں پرانے مائنڈ ...

  



لاہور(جنرل رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)  وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ  ہم نے نئے پاکستان میں پرانے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنا ہے اور اب ملک میں پرانا نظام نہیں چل سکتا۔لاہور میں وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پنجاب کی بیوروکریسی اور پولیس کے سینئر افسران کا اجلاس ہوا جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، چیف سیکریٹری پنجاب اعظم سلیمان اور آئی جی پولیس پنجاب شعیب دستگیر سمیت فردوس عاشق اعوان، ذوالفقار بخاری اور بیرسٹر شہزاد اکبرنے بھی شرکت کی۔اجلاس میں وزیراعظم نے نئی تعیناتیوں پر افسران کو مبارکباد دی اور کہا کہ بیوروکریسی اور دیگر عہدوں پر تعیناتیاں میرٹ پر کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کے لیے ایک قابل بیوروکریسی کا بہت اہم کردار ہے، ملک میں معیشت مستحکم ہو رہی ہے جس کے لیے اپنی معاشی ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں۔وزیر اعظم نے پنجاب میں تھانہ کلچر کی تبدیلی کے لئے سفارشات کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی جان ومال کے تحفظ کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے، 1960 کی دہائی میں پاکستان کی گورننس،  بیوروکریسی اور پالیسیوں  کی مثالیں دی جاتی تھیں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے نئے پاکستان میں پرانے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنا ہے اور  ملک میں پرانا نظام اب نہیں چل سکتا۔دوران اجلاس وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں افسران کو ہر قسم کے سیاسی دباؤ سے آزاد کیا ہے، اس لیے سب افسران کو ہدایت کرتا ہوں کہ آپ نے سب کام میرٹ پر کرنے ہیں اور کسی سیاسی شخصیت یا کسی اور کا کوئی بھی ناجائز کام ہر گز نہ کریں، ہم  افسران کی مدت ملازمت کو تحفظ فراہم کریں گے۔وزیراعظم نے وزراء اور دیگر افسران کو ہدایت کی کہ عوام کی خدمت کرنا آپ کا اولین فرض ہے، غریب آدمی کی زندگی میں بہتری لانے کے لیے کوشش کریں، بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام پر خصوصی توجہ دیں کیونکہ آپ کا کام کمزور کو طاقتور کے خلاف تحفظ فراہم کرنا ہے۔اس موقع پر وزیراعظم نے سب کو سختی سے تاکید کی کہ طاقت صرف عوام کی خدمت اور ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے استعمال کی جائے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ  پنجاب میں امن وامان اور گورننس کے نظام میں بہتری لانے کی کوشش کی جائے، پہلے تھانوں میں طاقتور کو تحفظ فراہم کیا جاتا تھا مگر اب آپ کی ذمہ داری ہے کہ غریب کو طاقتور کے خلاف تحفظ فراہم کریں، دریں اثناوزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو اپنے اچھے کاموں کی تشہیر کا مشورہ دے دیا۔وزیراعظم عمران خان نے کسانوں کو زرعی قرضے دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا   آج  سے کسانوں کو زندگی میں تبدیلی آئے گی،  پنجاب لینڈ ریونیو اتھارٹی اور سٹیٹ بینک کا  کسانوں کو زمین کے کاغذات دیکھا کر قرضے دینے کا معاہدہ  ایک انقلاب ہے، ہماری حکومت نے پاکستان میں غربت ختم کرنے کا سب سے بڑا منصوبہ احساس پروگرام شروع کیا، غریب عورتوں کی مدد،نوجوانوں کو سود کے بغیر قرضے دیئے جا رہے ہیں، پاکستان میں 95فیصد کسانوں کے پاس 12ایکڑ سے بھی کم زمین ہے، پاکستانی معیشت اب آگے کی جانب جا رہی ہے، اب ہماری کوشش ہے کہ گروتھ ریٹ کو بڑھایا جائے، وزیراعلیٰ پنجاب اچھے طریقے سے کام کر رہے ہیں لیکن اس کی تشہیر نہیں کرتے ہیں، ان سے کہوں گا لوگوں کو آگاہی کیلئے کچھ تھوڑی تشہیر کرلیا کریں، مجھے پنجاب کامستقبل اچھا نظر آرہا ہے، پنجاب پاکستان کی ترقی میں لیڈ کرے گا۔  انہوں نے کہا کہ آج جب ہم چین کو دیکھتے ہیں تو ان کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ 70کروڑ لوگوں کو30سالوں میں غربت سے نکلا اور وہ لوگ ایسے ہی نہیں غربت سے نکلے ریاست نے فیصلہ کیا کہ ہم نے نچلے طبقے کو اوپر اٹھانا ہے اور انہوں نے کسانوں پر خاص مدد کی۔وزیراعظم نے کہا کہ جب چین کے دورے پر گیا تو وہاں جا کر معلومات حاصل کیں کہ کیسے ریاست نے لوگوں کو اوپر لایا اور کون کون سے اقدامات کئے، آج پنجاب لینڈ ریونیو اتھارٹی اور سٹیٹ بینک نے جو کسانوں کو زمین کے کاغذات دیکھا کر قرضے دینے کا معاہدہ کیا ہے یہ ایک انقلاب ہے کیونکہ پاکستان میں چھوٹے کسانوں کیلئے قرضہ لینا عذاب ہے اور اب تک نا ممکن رہا ہے اور سمال اینڈ میڈیم انڈسٹری جو پیچھے رہ گئی ہے اورسمال اینڈ میڈیم انڈسٹری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے ان کیلئے بھی بہت مشکل ہے قرضہ لینا، یہ آغاز ہوا ہے اور امید کرتا ہو ں کہ یہ زبردست کام ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں بہت خوش ہوتا ہوں جب اس طرح کی سوچ کو دیکھتا ہوں جس کے ذریعہ اپنی غریب عوام کی غربت سے نکالنا ہو، ہماری حکومت نے پاکستان میں غربت ختم کرنے کا سب سے بڑا منصوبہ احساس پروگرام شروع کیا اور مشکل وقت میں 200ارب روپے اس پروگرام میں لا رہے ہیں، احساس پروگرام میں سرکاری اور نجی اداروں کی مدد سے کام کررہے ہیں، غریب عورتوں کی مدد،نوجوانوں کو سود کے بغیر قرضے دیئے جا رہے ہیں اور احساس پروگرام کے ڈیٹا بیس کو بھی درست کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 95فیصد کسانوں کے پاس 12ایکڑ سے بھی کم زمین ہے اور انہیں سب سے زیادہ قرضوں کی ضرورت ہوتی ہے، ملک کو ڈیجیٹلائزیشن کی جانب لے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کے  6 سے 7 ماہ میں ایسے حالات تھے نہیں کہ کوئی قرضوں کے دینے کے منصوبوں کو لائیں اور ساری کوشش تھی کہ روپے کی قدر کو بڑھائیں،ہمارے پاس تاریخی خسارے کا سامنا تھا اور 10ارب ڈالر قرضے کی قسطیں واپس کرنی تھیں جو کبھی کسی حکومت کو کرنے نہیں پڑے تھے اور اس کی وجہ سے روپے پر پریشر مسلسل بڑھ رہا تھا نہ ہی ہمارے پاس فارن ایکسچینج تھے اور خوف تھا کہ پتہ نہیں روپیہ کدھر جا کر رکے گا اور آج خوشی ہے کہ پچھلے 3سے 4ماہ میں روپیہ مستحکم ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے بزنس میں اور سٹاک مارکیٹ میں کنفیڈنس آیا ہے،غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کی جانب آرہے ہیں جبکہ سٹیٹ بینک کے مطابق ایک ہزار ارب تک قرضے کسان لے چکے ہیں اور پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ قرضے کسانوں کو دیئے گئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی معیشت اب آگے کی جانب جا رہی ہے اور اب ہماری کوشش ہے کہ گروتھ ریٹ کو بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اچھے طریقے سے کام کر رہے ہیں لیکن اس کی تشہیر نہیں کرتے ہیں جبکہ ان سے کہوں گا لوگوں کو آگاہی کیلئے کچھ تھوڑی تشہیر کرلیا کریں، مجھے پنجاب کامستقبل اچھا نظر آرہا ہے اور پنجاب پاکستان کی ترقی میں لیڈ کرے ۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کو اپنے پہلے سال میں ہی 10ارب ڈالر قر ض کی قسطیں واپس کرنا پڑیں جو ابھی تک کسی حکومت کو نہیں کرنا پڑیں،معیشت کو آہستہ آہستہ مستحکم کیا ہے اوراب پوری کوشش ہے کہ ہم گروتھ ریٹ کی طرف جائیں جس کیلئے کئی منصوبے بنائے ہوئے ہیں اس سے قبل وزیراعظم عمران خان ہفتے کی صبح ایک روزہ دورے پر لاہور پہنچے۔ عمران خان لاہور پہنچنے کے بعد سیدھا ایوان وزیراعلیٰ گئے جہاں وزیراعلیٰ پنجاب نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔ وزیراعظم نے لاہور میں مصروف دن گزاراتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے ون آن ون ملاقات کی۔ جس میں وزیراعلیٰ نے پنجاب کی بیورو کریسی کے حالیہ تبادلوں اور پنجاب کے جاری منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ ون آن ون ملاقات میں پنجاب کی صوبائی کابینہ میں تبدیلیوں پر بھی غور کیا گیا۔ وزیراعظم نے لاہور میں سموگ کی روک تھام کے سلسلے میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جبکہ وزیراعظم نے پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لیا۔ عمران خان نے قیام کے دوران آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری پنجاب سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران آئی جی پنجاب شعیب دستگیر نے وزیراعظم عمران خان کو پولیس رویے میں بہتری کیلئے وژن سے آگاہ کیا۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم کو صوبے میں امن و امان کی بہتری کیلئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔

عمران /اجلاس

لاہور(جنرل رپورٹر،نمائندہ خصوصی،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)ووزیراعظم عمران خان نے اسموگ اور ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کے پیش نظر یورو 4 ایندھن درآمد کرنے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن ڈیزل کے پرمٹ فتح کرنے اسلام آباد آئے ان لوگوں کو خطرہ ہے کہ ان کی دکانداریاں بند ہو جائیں گی، یہ ایک مافیا ہے، ان کا مفاد اپنا پیسہ بچانا ہے، مافیا کو ڈر لگا ہوا ہے کہ 30 سال سے جو حلوہ کھا رہے ہیں وہ پکڑے جائیں گے یہ کبھی سپر یم کورٹ اور کبھی الیکشن کمیشن کی جانب بھی دیکھتے ہیں‘ چیف جسٹس کا فیصلہ پڑھ لیں اس میں حکومتی لیگل ٹیم پر کوئی تنقید نہیں کی گئی اور اب یہ معاملہ نمٹ چکا ہے، اس پر مزیدبات نہیں کرنا چاہتا‘پنجاب میں اصلاحات سب سے زیادہ ہوئی ہیں، کسی ایونٹ کے دوران سب کو چیلنج کر سکتے ہیں اور بتا سکتے ہیں کہ ہم نے کیا کیا وزیراعلی پنجاب شریف آدمی ہیں، ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں‘ اب سب کچھ سامنے آ جائے گا کیونکہ عدالت نے نوازشر یف کے حوالے سے ہر دو ہفتے کے اندر رپورٹ مانگی ہوئی کچھ چھپنے والا نہیں، سب کچھ کلیئر ہو جائے گا‘شہبا زشر یف نے چیف الیکشن کمشنر کیلئے جو نام دیئے وہ میں نے ابھی تک دیکھے نہیں‘10دسمبر سے لاہور ارونج میٹر وٹرین چل جائیں گی۔ لاہور میں مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان‘وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اور دیگر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ سب سمجھ رہے تھے حکومت چند دنوں کی مار ہے، حکومت بہت بڑے مافیا سے مقابلہ کررہی ہے اور گھرمقروض ہوجاتا ہے تو کچھ دیرمشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن آج کل ملک مشکل وقت سے نکل رہا ہے، ملک کی معیشت ٹھیک ہورہی ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری آرہی ہے، ترقی کی شرح بڑھ رہی ہے، ورلڈ بینک کے صدر نے پاکستان کی معیشت کی تعریف کی۔ ہمارا بہت بڑے مافیا سے مقابلہ ہے جو مسلسل پروپیگنڈہ میں لگا ہوا ہے،اس مافیانے مجھے پہلے دن اسمبلی میں تقریر نہیں کرنے دی۔ ان کاخیال تھا کہ ڈالرتین سوروپے تک پہنچ جائے گا اور ہم سے حکومت نہیں چل سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب ملک اٹھنے لگاہے اور ورلڈ بینک کے سربراہ نے آکر حکومت کی معاشی پالیسی کی تعریف کی ہے تو یہ سب اکٹھے ہوگئے ہیں، کوئی کہہ رہاہے کہ ختم نبوت کا مسئلہ ہے، کوئی یہودی لابی کہہ رہاہے۔ سب کامقصد ایک ہے، مافیاکوڈر لگا ہواہے کہ اگر یہ کامیاب ہوگئے تو ہماری دکانیں بھی بند اور ان کے پیسے جولوٹے ہوئے ہیں، وہ بھی پکڑے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سارامافیا ہے، ان کا مقصد پاکستان نہیں ہے بلکہ ان کامقصد پیسہ بچاناہے۔ انہوں نے کہا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ پاکستان میں جتنی اصلاحات ہوئی ہیں، اتنی پہلے نہیں ہوئیں۔ یہ وزیر اعلی پنجاب کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ وہ بڑے بڑے محلوں میں نہیں رہتا، میں نے اور عثمان بزدار نے مل کر اصلاحات کی ہیں بہترین بیورو کریٹ لیکر آئے ہیں، وہ آئی جی لیکر آئے ہیں پولیس ڈیپارٹمنٹ میں جس کی سب سے زیادہ عزت ہے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پنجاب کے بڑے بڑے ڈاکٹرز کے بورڈ نے ہمیں جورپورٹ دی تھی اس کے مطابق نوازشریف کی صحت اتنی بری ہے کہ وہ کسی وقت بھی موت کے منہ میں جاسکتاہے جس پر ہم نے انسانی ہمدردی کی بناپر نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دی اور اب پتہ چل جائے گا کہ کیا ہوا؟وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ سموگ سے بچے بہت متاثر ہورہے ہیں کہ لاہور میں کچھ فیکٹریاں آلودگی کی وجہ ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی کا لوگوں کی صحت پر برا اثر پڑ رہاہے۔انہوں نے کہا کہ سموگ کے مسئلے پرماضی میں توجہ نہیں دی گئی۔ لاہورمیں 10سال میں 70فیصددرخت کم ہوئے ہیں۔درخت کم ہونیکی وجہ سے بہت نقصان ہوا۔ بھارت میں دھان کی فصل جلانے سے پاکستان میں آلودگی پھیلی۔انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کادھواں بھی فضاکوآلودہ کرتاہے،سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کیلئے جامع پروگرام ترتیب دیا ہے۔ بیرون ممالک سے صاف تیل درآمدکرنے کافیصلہ کیاہے۔آلودگی روکنے کیلئے ہرممکن اقدامات کریں گے۔ شہروں میں بسیں ہائی برڈ یا الیکٹرک چلائی جائیں گی۔وزیر اعظم نے کہا کہ 3 سال میں کوالٹی بہترنہ کی توآئل ریفائنریزبندکردیں گے لاہورمیں 60 ہزارکنال جگہ پرجنگلات لگانے کافیصلہ کیاہے۔لاہور اور پشاور میں اسموگ سے بہت مسائل ہیں،اسموگ سے بچے اور بزرگ شدید متاثر ہو رہے ہیں،اسموگ سے پھیپھڑوں اور سانس کی بیماریاں پھیل رہی ہیں، لاہور میں گزشتہ 10 سال کے دوران 70 فیصد درختوں میں کمی آئی،اسموگ جیسے سنگین مسئلے کے حل کے لیے ماضی میں توجہ نہیں دی گئیبھارت میں فصل جلانا بھی اسموگ کی بڑی وجہ ہے،اسموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے جامع پروگرام ترتیب دیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم اپنا50 سے 60 فیصد تیل باہر سے امپورٹ کرتے ہیں،ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے یورو4 پٹرول درآمد کریں گے،یورو 4 تیل درآمد کرنے سے آلودگی میں 90 فیصد کمی ہو گی،2020 کے آخر تک پٹرول یورو5 پر منتقل کر دیں گے۔لاہور شہر میں بس سروس کو ہائی بریڈ کریں گے۔ آئل ریفائنریز کو اپ گریڈ کرنے کے لیے 3 سال کا وقت دے دیا ہے،اس دوران ریفائنریز اپنی ٹیکنالوجی کو بہتر کریں گی۔انہوں نے کہا کہ چاول کی فصل کی باقیات جلانے کے مسئلے کو بھی حل کریں گے،3 سال میں واضح فرق ظاہر ہو جائے گا،علاوہ ازیں لاہور میں 60 ہزار کنال جگہ پر جنگلات لگانے کا فیصلہ کیا ہے،درخت کم ہونے کی وجہ سے بہت نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ فضل الرحمن دھرنے کے نام پر اسلام آباد فتح کرنے آئے تھے، کسی کو پتہ نہیں تھا کہ دھرنے میں کیوں آئے ہیں، کوئی ختم نبوت، کوئی مہنگائی اور کوئی پانی آتا ہے جیسے لوگ دھرنے میں آئے تھے۔ مافیاز میں تیس سال سے لوگ حلوے کھا رہے ہیں۔ جب کیس عدالت میں گیا تو لوگ کہنے لگے اب یہ لوگ فارغ ہو گئے۔

عمران پریس کانفرنس

مزید : صفحہ اول