ہماری نظر میں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں: جسٹس عمر عطا بندیال

    ہماری نظر میں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں: جسٹس عمر عطا بندیال

  



لاہور(نامہ نگار خصوصی)سپریم کورٹ کے سینئر جج مسٹر جسٹس عمر عطا ء بندیال نے کہاہے کہ ہماری نظر میں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں حکمت سے نوازا ہے اور اپنے منصب کا امین مقرر کیا ہے، ہم میں سے کوئی بھی اللہ کی امانت میں خیانت کا نہیں سوچ سکتا،وہ گزشتہ روز پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں تیسری ویمن ججز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے، تقریب سے سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن اور لاہور ہائی کورٹ کے نامزد چیف جسٹس مامون رشید شیخ نے بھی خطاب کیا جبکہ آج یکم دسمبر کوکانفرنس کے تیسرے روز اختتامی سیشن سے چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ بطور مہمان خصوصی خطاب کریں گے۔مسٹر جسٹس عمر عطاء بندیال نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ججوں کے فیصلے ان کی قابلیت اور شہرت کا چرچہ کرتے ہیں۔ہماری خاتوں ججز معاشرے کیلئے رول ماڈل ہیں،خاتون ججوں نے ایک بہت پرانے جمود کو توڑا ہے،ان کااعتماد دیکھ کر رشک آتا ہے،ایک جج کو اسی طرح پراعتماد، شائستہ اور میرٹ کے مطابق فیصلے کرنے والا ہونا چاہئے۔ہمیں بطور جج لوگوں کا بھرپور اعتماد حاصل ہونا چاہیے ایک جج کیلئے لازم ہے کہ باوقار انداز میں عدالت کرے۔ فاضل جسٹس نے امید کا اظہار کیا کہ ہمارے ججز کسی بھی صنفی تفریق سے بالاتر ہوکر بہترین انصاف کی فراہمی کو جاری رکھیں گے اور اس کانفرنس کے بعد ہماری خاتون ججز پہلے سے مزید بہتر، موثر اور پراعتماد انداز میں فیصلے کریں گی،مسٹرجسٹس اعجاز الاحسن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کی عدلیہ کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے،ہمارے سائبر کرائمز کے خلاف بننے والے قوانین جدید تقاضوں کو پورا نہیں کرتے،خواتین اور بچے آن لائن ہراسگی کا بری طرح شکار ہورہے ہیں،آ ن لائن ہراسمنٹ کی شکار خواتین کسی کو بتانے کی بجائے خاموش رہنا اور خودکشی کرنا بہتر سمجھتی ہیں،انہیں قانون کا شعور دینے کی ضرورت ہے۔آج کے دور میں لوگوں کی بڑی تعداد سوشل ویب سائٹس کا استعمال کرتی ہے لیکن ہمارے لئے یہ امر افسوس ناک ہے کہ پاکستان میں سائبر کرائم تیزی سے بڑھ رہا ہے. پاکستان میں بڑی تاخیر سے سائبر کرائمز کے خلاف قانون سازی کی گئی، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آن لائن ہراسگی آج ہماری سوسائٹی پر بدنما دھبہ بن چکا ہے، خواتین اور بچے آن لائن ہراسگی کا بری طرح شکار ہورہے ہیں،سائبر کرائمز کے خلاف 2016 ء میں بننے والا قانون بھی جدید تقاضوں کو پورا نہیں کرتا،سائبر کرائمز ایکٹ میں بہت سارے جرائم قابل ضمانت ہیں، سائبر کرائم کا شکار افراد شکایات درج کروانے میں ہچکچاتے ہیں، پاکستان میں سائبر کرائمز کے خلاف موثر قانون سازی اور سائبر کرائمز کے مقدمات کو احتیاط کے ساتھ تفتیش کرنے کی ضرورت ہے، بہت سارے مقدمات میں شکایت کنندہ کو ہی ملزم بنا دیا جاتا ہے، اس لئے سائبر کرائمز کو جدید خطوط پر تفتیش کیا جانا چاہیے تاکہ ایسے جرائم کا شکار افراد کا تفتیشی اداروں اور عدالتوں پر اعتماد بحال ہو،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ صرف 28 فیصد خواتین سائبر کرائمز قوانین کے متعلق جانتی ہیں، آن لائن ہراسمنٹ کا شکار خواتین کسی کو بتانے کی بجائے خاموش رہنا اور خودکشی کرنا بہتر سمجھتی ہیں، خواتین کو سائبر کرائمز اور ان کے خلاف قوانین کے بارے میں بتانے کی ضرورت ہے، لوگوں کو سائبر کرائمز اور آن لائن ہراسمنٹ کے خلاف شعور دینے کی ضرورت ہے، فاضل جج نے شرکاء سے کہاکہ اس کانفرنس میں ہماری عدلیہ کا مستقبل موجود ہے، آج کی کانفرنس سے اندازہ ہوا کہ پاکستان کی عدلیہ کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے، ہمارے ججز قابل، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور قوانین پر عبور رکھتے ہیں، خاتون ججز کسی بھی حوالے سے کسی مردجج سے کم نہیں ہیں،خاتون ججوں کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی وقت کا اہم تقاضا ہے،انہوں نے کہا کہ ویمن ججز کی تینوں کانفرنسز کا سارا کریڈٹ جسٹس عائشہ اے ملک اوران کی ٹیم کو جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ 2016 ء میں جسٹس عائشہ اے ملک نے ان سے وومن ججز کانفرنس کے انعقاد کی اجازت طلب کی اور آج کی کامیاب کانفرنس دیکھ کرخوش ہوں کہ پہلی کانفرنس کا افتتاح میں نے بطور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کیا تھا۔ نامزد چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس مامون رشید شیخ نے اپنے خطاب میں کہا کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ خواتین ججز کی تعداد میں اضافہ ہو، نظام انصاف کا مرکزی سٹیک ہولڈر سائل ہوتا ہے.،ہمیں تمام معاملات کے ساتھ ساتھ ایک عام سائل کے مسائل کو بھی سمجھنا ہے۔ہمارا یہاں اکٹھے ہونے کا مقصد جلد اور معیاری انصاف کی فراہمی ہے، انہو ں نے خاتون ججوں سے مخاطب ہو کر کہا کہخواتین ججز بہترین کام کررہی ہیں، خاتون ججوں کوخواتین صنفی حساسیت بھی سمجھیں،کسی بھی مقدمہ کا فیصلہ صنفی یا مذہبی تفریق سے بالاتر ہو کریں، انہوں نے کہا کہ خواتین کے تحفظ کا قانون موجود ہے،اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ججز نے کس طرح اس قانون کو نافذ کرنا ہے،ایک بات عام کہی جاتی ہے کہ بنچ اور بار ایک ہی گاڑی کے پہیے ہیں،لیکن بنچ اور بار مشتمل وہ گاڑی کون سی ہے، اس کو بھی سمجھنا ہے،بنچ اور بار جس گاڑی کے پہیے ہیں وہ گاڑی سائلین ہیں، جو نظام انصاف کے بنیادی محور ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب جوڈیشل اکیڈمی ہمارے ججز کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ٹریننگ فراہم کررہی ہے،مختلف حساس نوعیت کے موضوعات پر تربیتی ورکشاپس اور سیمینارز کروائے جارہے ہیں،خواتین ججز ہماری عدلیہ میں بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں، خاتون ججوں کی حوصلہ افزائی اور ذہنی گروتھ کیلئے سالانہ کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہے،انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ خاتون ججوں کے تمام مسائل کے حل کے لے کوشاں ہے،کانفرنس کے دوسرے دن مختلف مختلف سرکاری اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے ماہرین نے مختلف موضوعات اور قوانین پر تفصیلی روشنی ڈالی جبکہ پاکستانی عدلیہ کے واحد بصارت سے محروم سول جج یوسف سلیم کی کامیابیوں اور بطور جج زندگی پر تفصیلی گفتگو بھی کی گئی، ایڈووکیٹ احمد پرویز ملک نے سول جج یوسف سلیم کا انٹرویو کیا، دوسرے دن کے سیشنز کے اختتام پر مہمانانِ خصوصی اور مقررین کو اعزازی شیلڈز سے نوازا گیا،آج بروز اتوار کانفرنس کے آخری روز چیف جسٹس پاکستان سردار آصف سعید خان کھوسہ کانفرنس کے اختتامی سیشن میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کریں گے۔جوڈیشل اکیڈمی میں ہونے والی اس کانفرنس میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس عابد عزیز شیخ، جسٹس جواد حسن، جسٹس شہرام سرور چودھری، جسٹس ساجد محمود سیٹھی، جسٹس مجاہد مستقیم احمد، سابق جج ناصرہ جاوید اقبال، ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی حبیب اللہ عامر اور ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری اشترعباس سمیت خاتون ججزاورجوڈیشل افسرشریک ہوئے۔

ویمن ججز کانفرنس

مزید : صفحہ اول