لگتا ہے حکومت آرمی چیف معاملہ پر قانون سازی نہیں چاہتی: احسن اقبال

    لگتا ہے حکومت آرمی چیف معاملہ پر قانون سازی نہیں چاہتی: احسن اقبال

  



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں)سابق وفاقی وزیر داخلہ اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ حکومت کے اندر سے نیت کچھ اور ہے، حکومت اپوزیشن کومشتعل کر کے چاہتی ہے آرمی چیف کے معاملے پر چھ ماہ میں قانون سازی نہ ہو۔صوبائی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سب کو پتہ ہے سپریم کورٹ نے چھ ماہ میں قانون سازی کرنے کا کہا ہے، قانون سازی کے لیے اپوزیشن کا تعاون درکار ہے۔ عمران خان نے پہلے ہی دن اپوزیشن کوغیرمحب وطن،چور،ڈاکوقراردے دیا۔لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ وزرا نے بھی اپوزیشن کی کردارکشی شروع کردی۔ وزرا اس طرح کے بیانات سے قوم میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لگتا ہے حکومت کی اندرسے نیت کچھ اورہے۔ ایسے بیانات سے ان کی نیت پربھی شبہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے یہ چاہتے ہیں قانون سازی نہ ہو۔احسن اقبال نے کہا ہے کہ آرمی چیف اور فوج پاکستان تحریک انصاف کے نہیں ہیں۔حکومت فوج کے پیچھے چھپنے سے گریز کرے،حکومت ملک کوتجربوں کی بنیادپرچلارہی ہے، 100سے زائدسینئرافسران کاتبادلہ کیا، ہرناکامی کاالزام افسروں پرلگایاجاتاہے،قصورافسران کانہیں وزیراعظم کاہے، تین دن سپریم کورٹ حکومت کی غلطیاں ٹھیک کرتی رہی۔احسن اقبال نے کہاحکومت ملک کوتجربوں کی بنیادپرچلارہی ہے۔ حکومت نے100سے زائدسینئرافسران کاتبادلہ کیا۔حکومت کوسمجھ نہیں آرہی ملک کیسے چلاناہے۔احسن اقبال نے کہا ڈرائیوراناڑی ہوگاتوپھریہی حال ہوگا، ہرناکامی کاالزام افسروں پرلگایاجاتاہے۔ قصورافسران کانہیں وزیراعظم کاہے۔3دن سپریم کورٹ حکومت کی غلطیاں ٹھیک کرتی رہی۔احسن اقبال نے کہا وزیراعظم نے اقتصادی اورقانونی ٹیم کوشاباش دی کیا انہوں نے مہنگائی میں اضافہ کرنے پر ٹیم کو شاباش دی ہے؟ 10 لاکھ سے زائد لوگ بیروزگار ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہاہماری برآمدات میں 5فیصد بھی اضافہ نہیں ہوا۔ترقی کی شرح 2 فیصدہوگئی اوروزیراعظم مبارکباددے رہے ہیں۔ حکومت نے معیشت کوجنوبی ایشیاکی سست ترین معیشت بنادیا۔سابق حکومت میں پاکستان کی کرنسی ایشیامیں مضبوط تھی لیکن آج پاکستان کاروپیہ کمزورترین ہے۔احسن اقبال نے کہا بجلی کی قیمت میں اضافے سے بجلی چوری میں اضافہ ہوگا۔ حکومت نے ایک سال میں چوتھی بار بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔بجلی کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیاجائے۔آج سرکاری دفاتر میں بے انتہا کرپشن ہورہی ہے اورموجودہ حکومت کرپٹ ترین حکومت ہے۔انہوں نے مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو نیند کیسے آجاتی ہے؟کتنے دورے کئے وزیراعظم یا وزیر خارجہ نے مسئلہ کشمیر پر آواز بلند کرنے کیلئے۔انہوں نے کہاشاہ محمود قریشی ملتان میں مریدوں کے سامنے کھڑے ہو کر بس بیان جاری کر دیتے ہیں۔

احسن اقبال

مزید : صفحہ اول