آرمی چیف ایکسٹینشن نوٹیفیکیشن، حکومت نے آئینی بحران پیدا کر دیا، رانا تنویر

  آرمی چیف ایکسٹینشن نوٹیفیکیشن، حکومت نے آئینی بحران پیدا کر دیا، رانا ...

  



شیخوپورہ(بیورو رپورٹ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما وچیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی رانا تنویر حسین ایم این اے نے کہا ہے کہ آرمی چیف کے نوٹیفکیشن پر حکومت سے غلطی پر غلطی ہوئی انکی ناتجربہ کاری نا اہلی کی وجہ سے ملک کے اندر آئینی بحران پیدا ہو گیا جسکی وجہ آرمی چیف کی تقرری شٹل کاک بن کر رہ گئی،وزیر اعظم کے صوابدیدی اختیارات کو تسلیم کرتے ہیں مگر وزیر اعظم کی اپنی نا اہلی اور نالائقی کی وجہ سے آرمی چیف کی تقرری کا ایشوایک بحران کی شکل اختیار کر گیا،پارلیمنٹ کی پارلیمانی کمیٹی کی طر ف سے ججز کی تقرری کے اقدام کا خیر مقدم کر تے ہیں پوری دنیا میں پارلیمانی نظام میں اسی طرز پر کلیدی عہدوں کی تقرریاں ہوتی ہیں،آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیمتعلق اسمبلی میں آنیوالی ترمیم پر نواز لیگ کی حمایت کا فیصلہ پارٹی کی مرکزی قیادت کرے گی تاہم اس سلسلہ میں حکومتی ٹیم نے نواز لیگ یا اپوزیشن سے رابطہ نہیں کیا اس پر بھی نواز لیگ مشترکہ فیصلہ لانے کی کوشش کریگی،ملک میں سیاسی ومعاشی بحران سے نکلنے کا واحد راستہ وزیرا عظم کو استعفی نہیں بلکہ ملک میں فوری طور پر صاف شفاف انتخابات کا انعقاد ہے موجودہ حکومت ہر محاذپر بری طرح ناکام ہو چکی ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا اس موقع پر سابق ایم این اے رانا افضال حسین،ارکان صوبائی اسمبلی پیر سید اشرف رسول،میاں عبدالرروف،چوہدری محمودالحق شاہین،سجاد حید رگجرسابق مشیر وزیر اعلی پنجاب رانا محمد ارشد،سابق تحصیل ناظم رانا انوارالحق،سابق چیئرمین یونین کونسل ملک ظہیر احمد فیض پوری،ملک نوید چوہان،ڈاکٹر محمد نعیم ملک اور میڈیا کواڈنیٹر ندیم گورائیہ بھی موجود تھے رانا تنویر حسین ایم این اے نے کہا کہ نیب نے اب تک 20ارب کی ریکوری کی ہے جبکہ خورشید شاہ نے بطور چیئرمین پی اے سی 145ارب اور چوہدری نثار نے 250ارب کی ریکوری کی تھی،پارٹی صدر میاں محمد نواز شریف نے بطور پی اے سی اسکی کارکر دگی کو بہتر بنانے اور ڈائریکشن کو درست کرنے کیلئے بڑے اہم اقدامات اٹھائے میری بھی کوشش ہو گی کہ اس قومی ادارہ کی کارکر دگی کو بہتر بنا کر ملکی خزانے کو محفوظ اورملک وقوم کے اجتماعی مفاد میں اسکے استعمال کو یقینی بنا جا سکے۔

رانا تنویر

مزید : صفحہ آخر