قومی مفاد کی عینک

قومی مفاد کی عینک
قومی مفاد کی عینک

  



اخباری رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے حکومتی قانونی ٹیم کی کارکردگی کو قابل ِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانونی ٹیم نے عدالت عظمیٰ کو مطمئن کرنے میں اہم کردار ادا کیا، اور عدالتی فیصلہ قانونی ٹیم کی فتح ہے۔مزید فرمایا گیا ہے کہ فیصلے سے ملکی اداروں میں تصادم چاہنے والوں کو شکست ہوئی،اپنا پیسہ بچانے والی اس مافیا کو آئندہ بھی مایوسی ہو گی۔ 15ماہ تک زور لگانے والی مافیا ناکام ہوگئی۔جس بھی شخص نے گذشتہ چند روز کے دوران اٹارنی جنرل انور منصور اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے موجود بیرسٹر فروغ نسیم کے دلائل سنے ہیں،اور اس سے پہلے چیف آف آرمی سٹاف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے حوالے سے جاری کیے جانے والے اعلانات کی تفصیل سے بھی کچھ  واقفیت حاصل کی ہے، وہ وزیراعظم کی اس ”شاباش“ پر مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتا۔سپریم کورٹ کے سامنے جو کچھ کہا گیا، اور اس سے پہلے ایوانِ صدر اور ایوانِ وزیراعظم میں جو نوٹیفکیشن، نوٹیفکیشن کھیلا جاتا رہا، اس پر ایک اچٹتی سی نظر ہی ڈال لی جائے تو وزیراعظم کے حوصلے کی داد دینا پڑتی ہے کہ جن لوگوں کو مرغا بنانا چاہیے تھا، و ہ ان کی پیٹھ تھپک رہے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ میرٹ اور کارکردگی کی تعریف ان کی نظر میں کیا ہے؟ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تو ایک موقع پر یہاں تک کہہ دیا کہ جن لوگوں نے نوٹیفکیشن نمبر3جاری کیا ہے،ان کی ڈگریاں چیک کی جانا چاہئیں کہ ایسا تو اسسٹنٹ کمشنر کی تعیناتی کے ساتھ بھی نہیں ہوتا،جو کچھ چیف آف آرمی سٹاف کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ وزیراعظم کی طرف سے ازسر نو تقرری کی سمری بھجوائی گئی تھی،جبکہ ایوانِ صدر سے نوٹیفکیشن توسیع کا جاری ہو گیا۔اٹارنی جنرل سپریم کورٹ کے سامنے جس طرح بوکھلاتے اور گھگھیاتے رہے،وہ تو تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ کبھی کہا کہ جنرل ریٹائر نہیں ہوتا، اور کبھی کہا کہ وزیراعظم چاہے تو ریٹائرڈ جرنیل  کو بھی آرمی چیف بنا سکتا ہے۔ان کے جو ارشادات اخبارات میں چھپتے رہے،اور ٹیلی ویژن پر جگمگاتے رہے،انہیں یکجا کر لیا جائے تو قانون کے طالب علموں کی تفنن ِ طبع کے لئے ایک اچھا خاصہ کتابچہ تیار  ہوسکتا ہے۔

سپریم کورٹ کا مختصر حکم نامہ جاری ہونے کے بعد بیرسٹر فروغ نسیم نے ایک پریس کانفرنس میں فرمایا کہ اب اگر اپوزیشن اس معاملے پر قانون سازی کے لیے تعاون نہیں کرے گی تو اس پر توہین عدالت بھی عائد ہو سکتی ہے۔عدالتی فیصلے کی اس نادر تشریح پر کئی قانونی ماہرین کے نزدیک ان کو خود توہین ِ عدالت کا نوٹس جاری کیا جا سکتا ہے۔یہ درست ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف کی مدتِ ملازمت اور توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ نے قانون سازی کی ہدایت کی ہے۔اس کا یہ مطب نہیں کہ وہ پارلیمینٹ کے کسی رکن کو کسی خاص نوعیت کا قانون بنانے پرمجبور کر سکتی ہے یا اس کی ہدایت دے سکتی ہے۔سپریم کورٹ کے حکم کی بنیاد اس حکومتی یقین دہانی پر ہے کہ یہ معاملہ چھ ماہ میں طے کر لیا جائے گا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ توسیع کا اعلان کرنے والی حکومت کے نمائندے نے عدالت کے سامنے واضح اقرار کیا کہ اس حوالے سے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔

وزیراعظم اپنی قانونی ٹیم کو  شاباش دے رہے ہیں تو ان کی مرضی……

خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد

جو چاہے آپ کا حسن ِ کرشمہ ساز کرے

ان کی اپنی ٹیم ہے، و ہ جس طرح چاہیں اس کی بلائیں لیں، یہی لیل و نہار رہے تو حکومت اور عوام لڑھکنیوں سے لطف اندوز ہوتے رہیں گے۔ کسی کو لکی ایرانی سرکس میں جا کر وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا ہے کہ:ملکی اداروں میں تصادم چاہنے والوں کو شکست ہوئی،اپنا پیسہ بچانے والی مافیا کو آئندہ بھی مایوسی ہو گی۔تیری آواز مکے اور مدینے،اداروں میں تصادم کی کوشش کرنے والوں پر تین حرف بھیجے جا سکتے ہیں،لیکن وہ ”مافیا“ کون ہے،جو اپنا پیسہ بچانے کے لئے یہ سب پاپڑ بیل رہی تھی؟ اگر اس سے مراد اپوزیشن ہے، تو وہ تو گزشتہ دِنوں چُپ سادھ کر بیٹھی رہی۔اس معاملے میں تو یوں لگ رہا تھا کہ اس کے منہ میں زبان ہی نہیں ہے۔نوٹیفکیشن وزیراعظم ہاؤس میں تیار ہوتے رہے، جوہر وزارتِ قانون کے کھلتے رہے، متضاد بیانات ایوانِ صدر سے منسوب ہوتے رہے،اٹارنی جنرل عدالت کے سامنے لرزتے کانپتے رہے۔ درخواست گذار کا کوئی تعلق کسی اپوزیشن جماعت سے نہ تھا۔سوالات پر سوالات سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحبان اٹھاتے رہے۔ اس سب میں اپوزیشن کہاں سے آ گئی؟ مافیا کون سا تھا اور کیا کر رہا تھا؟ اگر اس بارے میں تفصیلی بیان جاری کر دیا جائے تو قانون اور سیاست کے طالب علموں کا کچھ نہ کچھ بھلا ہو سکتا ہے۔

وزیراعظم کی نگاہ سے یہ بات اوجھل نہیں ہو گی کہ معاملہ پارلیمینٹ میں جانا ہے،وہاں قانون سازی کے لیے انہیں اپوزیشن سے معاونت  درکار ہو گی۔ عام بل منظور کرانے کے لیے بھی دونوں ایوانوں میں مطلوب اکثریت حکومت کے پاس نہیں ہے،اس لیے ایک انتہائی اہم ادارے کے معاملات کو گروہی سیاست کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کو وسیع تر اتفاق کے ذریعے قانون بنانا چاہیے۔ چیف آف آرمی سٹاف کا تقرر، مدتِ ملازمت یا توسیع کا معاملہ سیاسی یا جماعتی نہیں،قومی ہے، اور اسے قومی مفاد کی عینک لگا کر ہی دیکھنا ہو گا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کو زیر بحث لائے بغیر مستقبل کے لیے قانون سازی کرنا ہو گی۔انہیں تو توسیع مل چکی،لیکن وہ پہلے آرمی چیف ہیں، نہ (خدانخواستہ) آخری۔ ان سے پہلے کا ماضی بھی طویل ہے،اور بعد کا مستقبل بھی طویل ہو گا (انشاء اللہ)  دور تک دیکھنے کی کوشش کرگذریے، بینائی یہ کچھ زیادہ زور نہیں پڑے گا ؎

اے اہل ِ نظر،ذوق نظر خوب ہے لیکن

جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا

وقت کی پابندی: ایک محیر العقول مظاہرہ

پاکستان میں وقت کی پابندی کا تصور ہی ختم ہوتا جا رہا ہے۔عدالتوں اور افواج پاکستان کے  علاوہ اگر کہیں  وقت کا تصور باقی رہ گیا ہے، تو وہ تعلیمی ادارے ہیں۔وہاں بھی تقریبات میں اس طرف کم ہی توجہ ہوتی ہے، صرف پیریڈ وقت پر شروع ہو جاتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے کے جلسوں نے تو ریکارڈ توڑ رکھا ہے، چار، پانچ گھنٹے کی تاخیر معمول بن چکی ہے۔تحریک انصاف،  مسلم لیگ(ن) یا پیپلزپارٹی میں کسی کو اعلان کردہ وقت یاد تک نہیں ہوتا۔جماعت اسلامی اس حوالے سے مختلف تھی کہ اس کے بانی مولانا ابو الاعلیٰ مودودی مرحوم وقت کی انتہائی پابندی کرتے تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے بارے میں تو کہا جاتا ہے کہ ان کی آمدورفت کے ساتھ لوگ گھڑیاں ٹھیک کرتے تھے، گھڑی کا وقت غلط ہو سکتا تھا،ان کے دیئے گئے وقت میں کسی غلطی یا کوتاہی کا کوئی امکان نہیں تھا۔ سماجی تقریبات میں جتنا وقت ہمارے ہاں ضائع کیا جاتا ہے،اس سے ہر شخص آگاہ ہے۔ مجھے اپنی شادی یاد ہے کہ بارات کو کراچی سے حیدر آباد جانا تھا۔ جماعت اسلامی سندھ کے سیکرٹری جنرل  اور بعدازاں امیر حیدر آباد میاں محمد شوکت مرحوم کے ہاں جانا تھا،ایک بجے دوپہر کا وقت مقرر تھا۔

ہم پون بجے ان کی رہائش گاہ کے قریب پہنچ گئے اور گلی کے نکڑ پر دس منٹ کھڑے رہے تاکہ ٹھیک ایک بجے ”شادی گاہ“ میں داخل ہوں۔اس طرح کا ایک محیر العقول واقعہ ایک روز پیشتر فیصل آباد میں پیش آیا۔میرے کالج کے کلاس فیلو شیخ محمود الحسن کے بیٹے اور ممتاز صنعت کار شیخ اعجاز کی بیٹی کی شادی کی تقریب تھی۔کارڈ میں بارات کی آمد کا وقت ساڑھے آٹھ بجے اور کھانے کا نو بج کر دس منٹ لکھا تھا۔ ٹھیک9 بج کر دس منٹ پر کھانا پیش کر دیا گیا، کیا حیرت کی انتہا نہ  رہی۔ میرے رفقاءِ سفر محمد فاروق اور ڈاکٹر الیاس قمر نے بھی انگلیاں دانتوں میں دبا لیں۔یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ بھلائے نہیں بھول رہا، کاش سب اہل ِ وطن یہ شعار بنا لیں کہ اس کے لیے نہ آئی ایم ایف کی امداد کی ضرورت ہے، نہ کسی اندرونی قرضے یا سرمایے کی۔

(یہ کالم روزنامہ ”پاکستان“ اور روزنامہ ”دنیا“ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

مزید : رائے /کالم