اٹھارویں ترمیم کے خلاف اٹھنے والی آواز کے خلاف کھڑ ے رہیں گے، حیدر ہوتی

اٹھارویں ترمیم کے خلاف اٹھنے والی آواز کے خلاف کھڑ ے رہیں گے، حیدر ہوتی

  



پشاور (سٹی رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی کے قائمقام مرکزی صدر امیرحیدرخان ہوتی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخواکو شدید مالی بحران کا سامنا ہے جسکی وجہ سے تمام معاملات پر منفی اثرات نظر آرہے ہیں۔بجلی کی جو آمدن ہے اس میں اے جی این فارمولے کے تحت ہمارا جائز حصہ دیا جائے،آخری بار جو اضافی رقم ملی تھی وہ عوامی نیشنل پارٹی کے دور میں ہی ملی تھی۔ باچاخان مرکز پشاور میں ملگری وکیلان کے صوبائی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہا کہ اے این پی حکومت سے پہلے خیبرپختونخوا کو چھ ارب روپے سالانہ مل رہے تھے،ہم نے پانچ سالوں میں نیٹ ہائیڈل پرافٹ میں 110ارب روپے اس صوبے کیلئے حاصل کئے تھے۔امیرحیدرخان ہوتی نے کہا کہ مرکزی حکومت پیسے نہ ہونے اور اس کے لئے بجلی مہنگی کرنے کا بہانا کررہی ہے لیکن بجلی پھر بھی مہنگی کی جارہی ہے مگر صوبہ خیبرپختونخوا کا اس کا حصہ نہیں دیا جارہا۔انہوں نے اعلان کیا کہ ہونا یہ چاہئیے تھا کہ صوبائی حقوق کی سیاسی و قانونی حق صوبائی حکومت لڑتی،لیکن بدقسمتی سے نہیں ہورہا اسلئے اے این پی سیاسی جدوجہدکے ساتھ ساتھ قانونی جنگ بھی لڑے گی جس کے لئے جلد ہی اپنی لیگل ٹیم سے مشاورت کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے انعقاد میں تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے بعد این ایف سی ایوارڈ کا انعقاد نہیں کیا گیا کیونکہ اس کے بعد صوبوں کا حصہ مزید بڑھ گیا ہے اور کچھ مخصوص وزراء کو صوبائی خودمختاری سمیت ہماری جیت ہضم نہیں ہورہی اسلئے ایک خاص بیانیے کے تحت اٹھارویں ترمیم کے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ہم ان تمام افراد کو بتانا چاہتے ہیں کہ اس ترمیم نے پاکستان کو مضبوط کیا ہے اور اے این پی ہر اس آواز کے خلاف کھڑی ہوگی جو اٹھارویں ترمیم کے خلاف اٹھے گی اور اے این پی سیاسی و قانونی جدوجہد کے ذریعے اٹھارویں ترمیم کیخلاف میدان عمل میں ہوگی۔امیرحیدرخان ہوتی نے کہا کہ انضمام کا مقصد لوگوں کو بااختیار بنانا تھا لیکننئے اضلاع میں معدنیات کے حوالے سے جو قانون بنایا گیا ہے اس کے ذریعے لوگوں سے اختیار چھینا گیا ہے۔ ہم قانون اور سیاسی میدانوں میں اس قانون کے خلاف بھی بھرپور مزاحمت کریں گے۔ دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ لگانے والا ایک جانب کرتارپور راہداری کھول رہا ہے جس پہ ہمیں خوشی ہے لیکن دوسری جانب چمن اور تورخم پر این ایل سی پشتونوں کی بے عزتی کررہا ہے۔یہ وطن ہم سب کا ہے لیکن عملاً جو ہورہا ہے وہ سب کیلئے ایک پاکستان نہیں بلکہ ان کے لئے ایک اور ہمارے لئے دوسرا پاکستان ہے۔امیرحیدرخان ہوتی نے کہا کہ عمران خان مافیا کی بات کرتا ہے لیکن وہ شاید بھول گیا ہے کہ یہی مافیا اسکے اردگرد بیٹھا ہوا ہے،سازشیں باہر سے نہیں بلکہ حکومت کے اندر بیٹھے لوگ ہی کررہے ہیں،پنجاب میں ہر تین مہینے بعد آئی جی تبدیل کیا جارہا ہے، پولیس ریفارمز کہاں سے ہوں گے؟انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کی مثال دینے والے اسلام آباد،ساہیوال کے واقعات بھول چکے ہیں،وی آئی پی کا طعنہ دینے والے رضوان گوندل کے کیس کا تذکرہ کبھی نہیں کریں گے،سماعت کے دوران ایک جج کی تبدیل کے احکامات واٹس اپ کے ذریعے بھیجے جاتے ہیں۔ اے این پی کے قائمقام مرکزی صدر نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایک ایماندارجج ہیں، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں،حکومتی نااہلی کی وجہ سے ہی الیکشن کمیشن کی غیرفعالیت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے،حکومت خود پارلیمنٹ کو بے توقیر کررہی ہے،آرڈیننس پر انحصار کیا جارہا ہے۔ امیرحیدرخان ہوتی نے کہا کہ حکومت اعلان کرچکی ہے کہ وہ 2008سے 2018تک کے قرضوں بارے تحقیقات کرنا چاہتی ہے لیکن ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ یہ عرصہ کیوں؟ ہم قرضوں کیلئے سب سے پہلے اپنی حکومت کو پیش کرتے ہیں۔ اس کی بھی تحقیقات کریں کہ ہم نے قرضہ لیا کتنا اور واپس کتنا کیا ہے؟ اس کے ساتھ ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ 2008سے 2018تک ہی کیوں؟ 1999ء سے 2007ء تک کے قرضوں کی تحقیقات کیوں نہیں کی جارہی؟انہوں نے سوال اٹھایا کہ2018ء کے بعد کے قرضوں کا احتساب کون کرے گا؟ انکی حکومت میں آنے سے پہلے پاکستان کے کل قرضے30ہزار ارب تھے لیکن گذشتہ 13مہینوں میں یہ رقم 41ہزار ارب تک پہنچ گئی ہے۔سلیکٹڈ حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے ٹماٹر کی قیمت ڈالر سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ہم سلیکٹڈ اور سلیکٹرز کو بتانا چاہتے ہیں کہ اس ملک پر رحم کریں اور موجودہ حکمرانوں سے چھٹکارا دلایا جائے

مزید : پشاورصفحہ آخر