طلباء اپنی تمام ترتوانائیاں ملک وقوم کی خدمت میں صرف کریں، پروفیسر ڈاکٹر افتخار

  طلباء اپنی تمام ترتوانائیاں ملک وقوم کی خدمت میں صرف کریں، پروفیسر ڈاکٹر ...

  



پشاور(سٹی رپورٹر)انجینئرنگ یونیورسٹی کا سالانہ کانوکیشن گذشتہ روز منعقد ہواتقریب میں کل890کامیاب طلباء کو بی ایس سی، ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی (انجینئرنگ /نا انجینئرنگ)کی ڈگریاں دی گئیں۔۔ جس میں 860بی ایس سی،22ایم ایس سی جبکہ8 کو پی ایچ ڈی کی ڈگریاں دی گئیں۔ کامیاب طلباء کا تعلق سول، ایگریکلچر، کیمیکل، الیکٹریکل، انڈسٹریل، میکاٹرانکس، مائننگ،کمپیوٹر سسٹم، ٹیلی کمیونیکیشن، سافٹ ویئز، الیکٹرانکس انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس اور آرکیٹیکچر سے تھا۔ بی ایس سی انجینئرنگ میں نمایا ں پوزیشن ہولڈرز41طلباء کو گولڈ میڈلزجسے بھی نوازا گیا۔فاسٹ کیبل اور کوہاٹ سیمنٹ کی جانب سے یو ای ٹی مردان کے الیکٹریکل انجینئرنگ کے طالبعلم انعام اللہ جوہر کو ٹاپ جی پی اے حاصل کرنے پر ایک ایک لاکھ روپے کیش انعام اسی طرح شعبہ مکینکل انجینئرنگ کے طالبعلم ولید خان کو کوہاٹ سیمنٹ کی جانب سے بھی ایک لاکھ روپے کا کیش انعام دیا گیا۔ انجینئرنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر افتخار حسین نے صدارت کے فرائض انجام دئیے اور کامیاب طلباء و طالبات میں ڈگریاں، اسناد اور گولڈ میڈلز تقسیم کئیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں طلباء پر زور دیا کہ اپنی تمام تر توانائیاں ملک و قوم کی خدمت میں صرف کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے۔ ضرورت اس بات کی کہ ہم اپنے قومی وسا ئل کو ملکی ترقی کے لئے بروکار لائیں۔ انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ جو علم انہوں نے دوران تعلیم حاصل کیا اس کو عملی طور پر پاکستان کی ترقی کیلئے بروکار لائیں۔ اس طرح سے ا نجینئرنگ کے شعبے میں جدید تعلیم کو پروان چڑھانے میں مدد ملی گی اور طلباء کا حوصلہ بھی بلند ہوگا۔ انہوں مزید کہا کہ انجینئرنگ یونیورسٹی اپر دیر اور سوات کیمپسز کا قیام بھی زیر غور ہیں جس سے خیبر پختونخوا میں انجینئرنگ کی تعلیم کو فروغ حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا اس وقت یو ای ٹی پشاور میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے چار بڑے پراجیکٹس بشمول ارٹیفیشل انٹیلی جینس اور روبوٹیکس آٹومیشن جاری ہیں جس کے تحت چار جدید طرز کی لیبارٹریاں قیام ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں چین کے تعاون سے روبوٹیکس آٹومیشن لیب کا افتتاح بھی ہوا ہے۔ آخر میں انہوں نے کامیاب طلباء اور انکے والدین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ انجینئرنگ کے شعبے میں اب انکی قابلیت کا اصل امتحان شروع ہوگیا۔ اس دوڑ میں انہیں بہت سے مواقع ملیں گے لیکن اپنے ملک پاکستان کی بہتری اور اس کا نام دنیا کے اقوام میں سر بلند رکھنا آپ کا اولیں فرض ہے۔کانوکیشن میں انجینئرنگ یورنیورسٹی کے سینئر فیکلٹی ممبر ز، سینڈیکیٹ اور سینٹ کے ممبران، صوبے کے سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر زاور طلباء کے والدین نے شرکت کی۔ انہوں نے ڈین فیکلٹی آف مکینیکل پروفیسر ڈاکٹر ایم اے عرفان، رجسٹرارانجینئر ڈاکٹر خضر اعظم خان، کنٹرولر امتحانات محمد ہارون خان، تمام فیکلٹی، سٹاف اور انتظامیہ کا کامیاب کنوکیشن کے انعقاد پر انکی کوششوں کو سراہا اور مبارکباد دی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر