آرمی چیف توسیع، حکومتی تجاویز سامنے آئیں گی تو اپنا لائحہ عمل طے کرینگے: سراج الحق 

  آرمی چیف توسیع، حکومتی تجاویز سامنے آئیں گی تو اپنا لائحہ عمل طے کرینگے: ...

  



نوشہرہ (بیورورپورٹ) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ عمران خان کے عمل کے اثرات عوام کے سامنے خود بخود آنا شروع ہو گئے ہیں اور شروعات آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے ہوئی اب دیکھنا یہ ہے کہ آرمی چیف کوحکومت کس طریقے سے توسیع دے رہی ہے اور کتنے عرصے کیلئے دے رہی ہے یعنی  10,20یا 30سال  کی توسیع دی جائے گی تجاویز سامنے آجائیں تو جماعت اسلامی اپنا لائحہ عمل طے کرے گی یقیناکچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آرمی چیف کے ساتھ جو کچھ اس حکومت نے کیا وہ نادانی کے ساتھ نہیں بلکہ دیدہ دانستہ طور پر کیا ہے حکومت اس کو بے توقیر کرنا چاہتی تھی۔  اس ادارے کی تقدس کو ختم کرنا چاہتے تھے ان کا یہ خیال تھا کہ اس طرح کے اقدام سے حکومت مضبوط ہو گی جب ادارے ناکام ہو جائے تو حکومت کس طرح مضبوط ہوگی یہ ان کی خام خیالی ہے ملک کے اندر یک فساد برپا ہے لوگوں کا اعتماد حکومت، جمہوریت اور الیکشن کمیشن سمیت دیگر ریاستی اداروں سے اعتماد اٹھ چکا ہے ان خیا لات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ میں جمعیت علما اسلام (س) کے رہنما مولانا یوسف شاہ کی صاحبزادی کی رخصتی کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا حامد الحق حقانی، مولانا راشد الحق سمیع حقانی، میجر (ر)عامر، ایم پی اے ادریس خٹک،جماعت اسلامی ضلع نوشہرہ کے نائب امیر حاجی عنایت الرحمان، افتخار احمد خان، ڈاکٹر عطا اللہ اعوان بھی موجود تھے سراج الحق نے کہا کہ  وزیر اعظم پاکستان عمران خان خود کہہ رہے ہیں کہ ریاستی اداروں پر ان کا اعتماد ختم ہو چکا ہے جب کسی ملک کے وزیر اعظم کا یہ بیان ہوتا ہے تو اس ملک کا کیا انجام ہو سکتا ہے آخر موجودہ حکمران کس کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں ملک میں غریب کے بچوں کی تعلیم، علاج اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے آج بھی بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے دنیامیں سال میں ایک بجٹ پیش ہوتا ہے جبکہ پاکستان میں ہر روز بجٹ پیش ہو تا ہے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ساری ذمہ داری حکومت پر ڈال دی ہے حکومت کا کوئی موڈ نہیں کہ پاکستان میں افہام و تفہیم کی فضا قائم ہو میری تجویز ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ملکر ملک میں جمہوریت کی بقا اور آئینی اداروں کے تقدس کی خاطر بات چیت کریں ہماری سیاست کا محور ایک فرد نہ ہو بلکہ غریب عوام ہورا نظام ہوجو معاشی طور پر مستحکم ہو انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چہرے سے سرخی پوڈر اتررہا ہے اور قوم پر عمران خان اینڈ کمپنی کے اصل چہرے عیاں ہو گئے۔

مزید : صفحہ اول