بھارتی سپریم کورٹ، مقبوضہ کشمیر میں نظر بندوں بارے درخواستوں پر سماعت ملتوی

بھارتی سپریم کورٹ، مقبوضہ کشمیر میں نظر بندوں بارے درخواستوں پر سماعت ملتوی

  



سرینگر(آن لائن)بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں کشمیر میں متعدد نظر بندوں کے حوالے سے زیر سماعت درخواستوں پر سماعت 6 دسمبر تک ملتوی کردی ہے۔ درخواستیں سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی دختر التجا مفتی اور سرکردہ تاجر رہنما ڈاکٹر مبین شاہ کی اہلیہ آ صفہ مبین نے دائر کی ہیں۔سپریم کورٹ میں ان درخواستوں کی سماعت مقرر کی گئی تھی لیکن بعد میں وکلا کی جرح سنے بغیر ہی انکی سماعت 6 دسمبر بروز جمعہ تک ملتوی کردی گئی۔جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کے خاتمے کے پس منظر میں کشمیر کے متعدد سیاسی رہنماں کو انتظامیہ کی جانب سے مختلف جیلوں میں نظر بند کر دیا تھا۔ بیشتر نظر بندوں کو ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کس قانون کے تحت نظر بند کردیا گیا ہے۔محبوبہ مفتی کے بارے میں وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک نجی ٹی وی چینل کو بتایا تھا کہ انہیں بھی ایک اور سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ کی طرح پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند کیا گیا ہے۔محبوبہ مفتی کو گزشتہ ہفتے سرینگر کے مولانا آزاد روڑ پر واقع ایک سرکاری بنگلے میں منتقل کیا گیا ہے۔ اس سے قبل انہیں چشمہ شاہی کے ایک سرکاری ہٹ میں مقید رکھا گیا تھا۔ڈاکٹر مبین شاہ، کشمیر کے سرکردہ تاجروں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ ماضی میں کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر بھی رہے ہیں۔ساتھ ایشین وائر کے مطابق ڈاکٹر شاہ کا بیشتر کاروبار ملیشیا میں ہے لیکن 5 اگست کے روز وہ سرینگر میں مقیم تھے جہاں سے انہیں حراست میں لیا گیا اور بعد میں اتر پردیش کی ایک جیل میں منتقل کیاگیا۔انکی اہلیہ نے عدالت میں دائر کی گئی حبس بیجا کی درخواست میں کہا ہے کہ وہ ذیابطیس سمیت کئی امراض میں مبتلا ہیں اور انہیں فوری طبی نگہداشت کی ضرورت ہے۔

سماعت ملتوی

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر