ملک بھر میں عدلیہ کا آن لائن سسٹم متعارف کر ار ہے ہیں، چیف جسٹس

ملک بھر میں عدلیہ کا آن لائن سسٹم متعارف کر ار ہے ہیں، چیف جسٹس

  



ڈیرہ غازیخان(ڈسٹرکٹ بیورورپورٹ، سٹی رپورٹر، نمائندہ خصوصی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ ملک بھر میں عدلیہ کا آن لائن نظام متعارف کروارہے ہیں۔ نئے نظام کے تحت وکلاء اپنے مقدمات کی آن لائن سماعت میں دلائل دے سکیں گے بلکہ درخواستیں دائر اور دستاویزات جمع کراسکیں گے جبکہ منصوبے پر خیبر کے پی میں کام کا آغاز کردیاگیاہے بہت جلد دیگر صوبوں میں بھی مرحلہ وار آن لائن نظام قائم کردیاجائیگا ڈسٹرکٹ بار ڈیرہ غازی خان میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ وہ زمانہ طالب علمی سے ہی آزاد منش تھے اور کسی کادباؤ برداشت نہیں کرسکتے تھے اور نہ ہی کسی کی نوکری کرناچاہتے تھے یہی وجہ ہے کہہ انہوں نے اپنے والد کی سی ایس ایس کرنے کی خواہش سے بغاوت کی تھی اور سی ایس ایس کرنے کے بجائے وکالت کے پیشے کو ترجیح دی - جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے زمانہ طالب علمی کے دور کاایک واقعہ سناتے ہوئے کہاکہ ایک روز کلاس میں استاد نے انہیں ڈانڈا مارا تو وہ اپنی توہین سمجھ کر کلاس چھوڑ کر بھاگ نکلے اور بیگ اٹھائے سیدھا ضلع کچہری اپنے والد کو استاد کی شکایت لگانے پہنچ گئے انہوں نے کہا کہ عزت اور ذلت اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے ہمیں عزت اور خودداری پر کبھی مصلحت کاشکار نہیں ہوناچاہیے عہدے عارضی ہوتے ہیں لوگ مطلب کے لیے عزت کرتے ہیں اور عزت طلب کرنے سے نہیں ملتی عزت اسوقت ملتی ھے جب انسان کا کردار اچھا ہوگا اورجب آپکاکردار مضبوط ہوگا تو لوگ خوبخود آپکی عزت کرینگے اور کردار اسوقت مضبوط ہوگا جب آپکاایمان مضبوط ہوگا انہوں نے کہاکہ مجھے اس بات کا یقین ھے کہ آپکواسوقت تک کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتاجب تک اللہ پاک آپکوکوئی نقصان نہ پہنچائے- چیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ کامزید کہناتھاکہ ماضی میں وکلاء کی معاشرے میں بہت عزت تھی اور پرانے زمانے میں لوگ میرے والد مرحوم کو سائیکل پر دفترجاتے ہوئے دیکھ کر اپنی سائیکل سے اترکر ایک طرف کھڑے ہوکرراستہ دیتے تھے صرف یہ سوچ کر کہ وکیل صاحب جارہے ہیں انہوں نے کہاکہ آج وکیل اور صحافیوں نے اپنی گاڑیوں پر ایڈووکیٹ اور پریس جیسے بڑے بڑے الفاظ لکھوارکھے ہیں ایسا کرنے کامطلب ہمیں مت چھیڑواور راستہ کلیئرکردو انہوں نے کہاکہ یہ طریقہ درست نہیں ھے انسان کو عزت طلب کرنے سے نہیں ملتی اسکے کردار اور خوداری اورایمان کی مضبوطی سے ملتی ھے-- جسٹس آصف سعید کھوسہ کامزیدکہناتھاکہ ہائی کورٹس کے نئے بینچ بنانے سے اخراجات کابھاری بھرکم بوجھ اٹھناپڑتاہے یہی وجہ ہے کہ ملک میں عدلیہ کا آن لائن نظام متعارف کروارہے ہیں نئے نظام کے تحت وکلاء اپنے چیمبرز میں بیٹھ کر ناصرف اپنی دستاویزات اعلی عدلیہ میں جمع کراسکیں گے بلکہ اپنے مقدمات کی پیروی اور بحث میں بھی ویڈیولنکس اور بڑی بڑی سیکرنیز کے تحت حصہ لے سکیں گے انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخواہ میں نئے منصوبے پرکام کا آغاز کردیاگیا ھے اور بہت جلددیگرصوبوں میں بھی منصوبے پر مرحلہ وار کام کا آغازکردیاجائیگا قبل ازیں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج میاں محمد اقبال بھٹی ڈسٹرکٹ بار صدر یاسر علی خان کھوسہ جنرل سیکرٹری سید طیب کلیم بخاری نے بھی خطاب کیا تقریب میں ڈ ی پی او اسد سرفراز،اسسٹنٹ کمشنر اسد سرفرازکے علاوہ دیگر آفسران نے بھی شرکت کی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ضلع کہچری میں اپنے والد(سردار فیض محمد خان کھوسہ) مرحوم کی سیٹ پر بھی گئے اور ایوان عدل میں یادگاری پودا بھی لگایا قبل ازیں چیف جسٹس آف پاکستان کو ایوان عدل پہنچنے پر پولیس کے چاق وچوبند دستے نے سلامی پیش کی اور ڈسٹرکٹ وسیشن جج سمیت ماتحت عدلیہ کے ججزصاحبان نے انکا پرتپاک ا ستقبال کیاَ۔ تقریب کے اختتام پر صدر بار یاسر علی خان کھوسہ نے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کو یاد گاری شیلڈ اور تاحیات ڈسٹرکٹ بار ڈیرہ غازیخان کی ممبر شپ دینے کا الان کیا۔دریں اثناء چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ ایک روزہ دورے پر ڈیرہ غازی خان پہنچے انہوں نے اپنے آبائی سکول گورنمنٹ بوائز ہائی سکول نمبر 1 کا دورہ کیا انہوں نے اساتذہ اور کلاس فیلوز سے ملاقات کی سکول کے مختف کلاس رومز،ہال اور پرنسپل آفس کا دورہ کیا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے سکول کے لان میں کوئین فیکس کا پودا لگایا طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ محنت سے کامیابی ملتی ہے محنت کو کامیابی کا زینہ بنایاجائے اساتذہ کی عزت و تکریم کے ساتھ مسلسل محنت جاری رکھیں اس موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ ان کے تینوں بھائی سابق چیف سیکرٹری پنجاب ناصر محمود کھوسہ حصہ ریٹائرڈ انسپکٹر جنرل عارف کھوسہ نامور انجینئر طارق کھوسہ،پرنسپل ادارہ کرنل ریٹائرڈ اعجاز حسین، دانش سکولز کی پرنسپلز شبنم حسیب،زرقا سہیل رانا اور دیگر موجود تھے۔

چیف جسٹس

مزید : صفحہ اول