آسٹریلیا سیریز شاہینوں کا دوسرا امتحان شروع

آسٹریلیا سیریز شاہینوں کا دوسرا امتحان شروع

  



پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دوسرا ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ ایڈیلیڈ میں جاری ہے۔ پہلے ٹیسٹ میں شکست کے بعد قومی ٹیم کم بیک کرنے کیلئے پرعزم،میزبان کو سیریز میں 1-0کی برتری حاصل ہے،پنک بال سے کھیلے جارہے ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ کیلئے پاکستان میں تین تبدیلیاں کیں گئیں، آسٹریلیا نے اپنی وننگ ٹیم کو برقرار رکھا، دوسرے میچ کے لئے پاکستان ٹیم میں تین تبدیلیاں کی گئیں جس کے میں محمد عباس اور امام الحق کی ٹیم میں واپسی ہوئی جبکہ 16 سالہ نسیم شاہ کے جگہ 19 سالہ محمد موسی کو ٹیسٹ کیپ دی گئی ہے۔ پاکستان کے لیجنڈ کرکٹر وسیم اکرم نے محمد موسی کو ٹیسٹ کیپ پہنائی۔ نسیم شاہ کی جگہ محمد موسی کو وہ پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے 238 ویں کھلاڑی ہیں۔ ان سے قبل رواں سیریز میں 16 سالہ نسیم شاہ نے ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا۔ اس موقع پر محمد موسی نے کہا کہ وہ پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ ڈیبیو کرنے پر بہت خوش ہیں اور پرجوش ہیں کہ وہ کینگروز کے خلاف عمدہ باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کریں گے۔ جبکہ، محمد عباس کو عمران خان سینئر کی جگہ اور امام الحق کو حارث سہیل کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔جبکہ پاکستان ٹیم اپنی تاریخ کا چوتھا پنک بال ٹیسٹ کھیل رہی ہے۔گلابی گیند پر اظہر علی ٹرپل سنچری اور اسد شفیق سنچری بنا چکے ہیں، ان کا تجربہ اور بابر اعظم کی موجودہ فارم پاکستان ٹیم کی امیدوں کا مرکز ہو گی۔ 27نومبر 2015کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹیسٹ میچ گلابی گیند سے تاریخ کا پہلا ٹیسٹ میچ بن گیا۔ پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف اکتوبر 2017میں ٹیسٹ کھیل کر تاریخ میں دوسری ٹیم ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا اور میچ اپنے نام کیا۔ اسی سال دسمبر میں پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف برسبین میں دوسرا ڈے نائٹ ٹیسٹ کھیلا۔ جس میں ہوم سائیڈ نے بمشکل 39رنز سے فتح حاصل کی۔ اس کے بعد تقریباً تمام ٹیسٹ کرکٹ ممالک نے ڈے نائٹ ٹیسٹ کی ابتدا کر دی۔ البتہ بھارت نیقدرے تاخیر سے پہلا پنک بال ٹیسٹ بنگلہ دیش کے خلاف اسی سال نومبر میں کھیلا۔ اب تک گلابی گیند سے 12ڈے نائٹ ٹیسٹ کھیلے جا چکے ہیں جن میں سب سے زیادہ پانچ آسٹریلیا نے اپنے ملک میں کھیلے اور جیتے۔ دبئی دو میچوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔تقریباً 30 سال کے بعد پاکستان ایڈیلیڈ کے میدان کھیل رہا ہے۔جبکہ گلابی گیند سے ڈینائٹ ٹیسٹ میں پاکستان کے اظہر علی کامیاب ترین بیٹسمین ہیں۔ انہوں نے ویسٹ انڈیز کے مقابل ٹرپل سنچری سمیت تین ٹیسٹ میں چار سو چھپن رنز بنائے ہیں۔ٹیسٹ کرکٹ کی ایک سو اڑتالیس سالہ تاریخ میں اب تک بارہ گلابی گیند سے ڈے نائٹ ٹیسٹ کھیلے گئے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ کپتان اظہر علی نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ڈے نائٹ ٹیسٹ کی واحد ٹرپل سنچری بنائی۔ اظہر تین میچز میں ایک سنچری اور دو ففٹیز سمیت چار سو چھپن رنز بنا کر فلڈ لائٹس ٹیسٹ کے کامیاب ترین بیٹسمین ہیں۔ آسٹریلیاکے اسٹیو اسمتھ نے چار ٹیسٹ میں چار سو تیس رنز ایک سنچری اور تین ففٹیز کی مدد سے بنائے۔ اسد شفیق نے تین ٹیسٹ میں دوسنچریاں اور ایک نصف سنچری اسکور کی۔ وہ تین سو پینتیس رنز بنا کر ڈے نائٹ ٹیسٹ کے تیسرے کامیاب دو سنچریز بنانے والے واحد بیٹسمین ہیں۔آسٹریلیا کے مچل اسٹارک پانچ پنک بال ٹیسٹ میں چھبیس وکٹیں لیکر کامیاب ترین بولر ہیں۔ ان کے ساتھی پیس بولر ہیزل ووڈ نے چار ٹیسٹ میں اکیس کھلاڑی آٹ کیے۔ جس میں ستر رنز دیکر چھ وکٹوں کی کارکردگی بھی شامل ہے۔ پاکستانی لیگ اسپنر یاسر شاہ تین ٹیسٹ میں اٹھارہ وکٹیں لیکر تیسرے کامیاب بولر ہیں۔ آسٹریلیا کے نیتھن لائن نے پانچ ٹیسٹ میں سترہ کھلاڑی آٹ کیے۔ آسٹریلیا کے پیٹ کمنز نے دو ڈے نائٹ ٹیسٹ میں تیرہ وکٹیں لیں۔ انہوں نے سری لنکاکے خلاف اس سال برسبین میں اننگ میں تئیس رنز دیکر چھ اور میچ میں باسٹھ رنز کے عوض دس وکٹوں کی بہترین کارکردگی پیش کی۔آسٹریلوی فاسٹ بولر مچل اسٹارک پانچ ٹیسٹ میں چھبیس وکٹیں لیکر کامیاب بولر ہیں۔ پیٹ کمنز نے سری لنکا کے خلاف اننگ میں تئیس رنز دیکر چھ اور میچ میں باسٹھ رنز کے عوض دس وکٹیں لیں۔جبکہ اگر بات کی جا ئے تو ایڈیلیڈ میں پاکستان کا ٹیسٹ ریکارڈ کی تو گرین کیپس آسٹریلوی سر زمین پر 24 سال سے ٹیسٹ میچ نہیں جیت سکے، مسلسل ناکامیوں کی داستان 13 میچز پر محیط ہوگئی ہے، ہر طرف پھیلی مایوسی و مشکلات میں امید کی ایک کرن اور تاریخ کی روشن جھلک ومدد ایڈیلیڈ میں ساتھ ہے اس لئے قومی کرکٹرز سے بہتر نتیجہ کی امید کی جاسکتی ہے۔ برسبین میں جس طرح آسٹریلیا 31 سال سے کسی سے بھی کوئی میچ نہیں ہارا اور اس نے یہ روایت حال ہی میں برقرار رکھی ہے تو پاکستان کے پاس بھی ایک مضبوط روایت اس گراؤنڈ سے منسلک ہے۔ ٹیم یہاں آسٹریلیا سے قریب نصف صدی کے کوئی ٹیسٹ میچ نہیں ہاری۔24 دسمبر 1976 سے شروع ہونے والا ٹیسٹ ڈرا رہا، ظہیر عباس کے 85 اور 101رنزکی اننگز جبکہ آصف اقبال کے152 رنزقابل ذکر تھے۔9 دسمبر 1983کو شروع ہونے والا ٹیسٹ میچ بھی ڈرا تھا، آسٹریلیا کے 465 کے جواب میں پاکستان نے624 رنزبنائے، محسن خان، قاسم عمر اور جاوید میاں داد نے سنچریز بنائیں۔ 19 دسمبر 1990 کو شروع ہونے والا میچ پاکستان نے ڈرامائی انداز میں نہ صرف بچایا بلکہ جیتنے کی پوزیشن میں بھی آیا لیکن 304 رنزکے ہدف کے تعاقب میں ڈین جونز نے ایک ہی میچ میں دوسری سنچری بناکر پاکستان کی پیش قدمی روکی۔ پاکستانی ٹیم عمران خان کی قیادت میں پہلے کھیلتے ہوئے257 پر آؤٹ ہوگئی، جاوید میاں داد اور وسیم اکرم نے 52،52 رنزبنائے، میزبان ٹیم 341 رنزبناکر 84رنز کی برتری لے گئی، ڈین جونزنے 116کی اننگز کھیلی، وسیم اکرم نے 100رنزدیکر 5وکٹیں لیں، پاکستان نے22 پر 4 اور 90 پر 5 وکٹیں کھو کر شکست قریب رقم کروالی تھی کہ عمران خان نے 136کی اننگز کے ساتھ یادگار سنچری بنائی، وسیم اکرم نے تاریخی اننگ 123 کی کھیل کر پاکستان کو فرنٹ فٹ پر پہنچادیا، مرو ہیوز نے 111رنزکے عوض 5کھلاڑی آؤٹ کئے۔ ایڈیلیڈ میں پاکستان کا یہ اب تک کا آخری میچ تھا، اس طرح یہاں کھیلے گئے 4 میچز میں سے 3 ڈرا رہے ایک میں آسٹریلیا کامیاب ہوا، اس گراؤنڈ پر پاکستان کی جانب سے 7 اور آسٹریلیا کی جانب سے 9 سنچریز بنائی گئی ہیں۔جبکہ دوسری جانب 10 سال بعد ملک میں ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی، پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے دو میچز دسمبر میں راولپنڈی اور کراچی میں کھیلے جائیں گے۔ سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ 11 سے 15 دسمبر تک راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جبکہ دوسرا میچ 19 سے 23 دسمبر تک نیشنل سٹیڈیم کراچی میں کھیلا جائے گا۔ ابتدائی طور پر سری لنکا کو دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز اکتوبر میں کھیلنا تھی تاہم مہمان ٹیم نے سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کی غرض سے دسمبر میں شیڈول پاکستان کے خلاف محدود فارمیٹ کی سیریز کو ٹیسٹ سیریز سے تبدیل کر دیا تھا۔ پاکستان میں ایک روزہ اور ٹی ٹونٹی میچوں پر مشتمل سیریز کے کامیاب انعقاد کے بعد سری لنکا کرکٹ نے فیوچر ٹور پروگرام میں شامل دسمبر میں ٹیسٹ سیریز کے شیڈول کی تصدیق کی ہے۔ سیریز کے دوران سیکورٹی کے بہترین انتظامات اور شائقین سے کھچا کھچ بھرے سٹیڈیم کی صورت میں ملک کی مجموعی سیکورٹی صورتحال اور کرکٹ سے محبت کرنے والی عوام کا جنون دیکھا گیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ ذاکر خان کا کہنا ہے کہ یہ قومی کرکٹ کیلئے ایک شاندار خبر ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی کھیلوں کیلئے ایک محفوظ ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ طویل فارمیٹ کی سیریز کیلئے ٹیم پاکستان بھجوانے پر سری لنکا کرکٹ کے مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیریز ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی مکمل بحالی سے متعلق پی سی بی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے جس سے انہیں نوجوان نسل کو کھیل کی طرف راغب کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ سیریز کے شیڈول کو حتمی شکل دینے کے بعد اب معیاری انتظامات کی تیاری کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی اس سیریز کو یادگار بنانے کیلئے کرکٹرز، آفیشلز، میڈیا اور عوام کیلئے انتظامات میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔ سری لنکا کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو ایشلے ڈی سلوا کا کہنا ہے کہ وہ تمام ممالک کو ہوم سیریز انہی کے وطن میں کھیلنے کے حامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان میں بین الاقومی کرکٹ کی مکمل بحالی میں اپنا کردار ادا کرنے پر مسرور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ میں پاکستان ایک قابل فخر تاریخ رکھتا ہے، جس نے ابتدائی ایام میں سری لنکا کرکٹ کی بہت مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کرکٹ ٹیم نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اپنی پہلی سیریز نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلی جو برابر رہی جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم آسٹریلیا سے واپسی پر سری لنکا کے مدمقابل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ٹیموں کے درمیان ٹیسٹ سیریز میں سخت مقابلہ ہوگا جہاں شائقین کرکٹ کو سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔

مزید : ایڈیشن 1