پارک ویو سٹی کے مالک اور پی ٹی آئی رہنما علیم خان کو مقامی لوگوں کی اراضی زبردستی ایکوائر کرنے کا اختیار دینے سے متعلق اپنی نوعیت کے واحد مقدمہ، تحریری فیصلہ جاری، عدالت نے کیس نیب کو بھجوانے کا عندیہ دیدیا

پارک ویو سٹی کے مالک اور پی ٹی آئی رہنما علیم خان کو مقامی لوگوں کی اراضی ...
پارک ویو سٹی کے مالک اور پی ٹی آئی رہنما علیم خان کو مقامی لوگوں کی اراضی زبردستی ایکوائر کرنے کا اختیار دینے سے متعلق اپنی نوعیت کے واحد مقدمہ، تحریری فیصلہ جاری، عدالت نے کیس نیب کو بھجوانے کا عندیہ دیدیا

  



اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ نے کپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)کے بورڈ کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور موضع ملوٹ میں واقعʼʼ پارک ویو سٹیʼʼ اسلام آباد کے مالک علیم خان کو ملوٹ کے مقامی لوگوں کی اراضی زبردستی ایکوائر کرنے کا اختیار دینے سے متعلق اپنی نوعیت کے واحد مقدمہ کا تحریری عبوری حکمنامہ جاری کردیاہے،چیف جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل سنگل بنچ نے پچھلی جمعرات کے روز کیس کی سماعت کے دوران مذکورہ اراضی کے استعمال کو تاحکم ثانی روکتے ہوئے چیئرمین سی ڈی اے سے تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی ،فاضل عدالت نے ہفتہ کے روز 4 صفحات پر مشتمل تحریر ی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ یہ عوامی اہمیت کا ایک نہایت اہم معاملہ ہے،جس پر عدالت کو سخت تشویش ہے، درخواست گزار فرحان مصطفےٰ نے پارک ویو سٹی اسلام آباد کے مالک علیم اور ان کے ایجنٹوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی ہے ،فاضل جج نے کیس نیب کو بھجوانے کا عندیہ دیتے ہوئے قرار دیاہے کہ آئندہ سماعت پر چیئرمین سی ڈی اےاور مسول علیہ علیم خان کے وکلاء عدالت کو مطمئن کریں کہ یہ کیس ایسا نہیں جسے نیب آرڈیننس 1999کے تحت چیئرمین نیب کو کارروائی کے لئے بھجوایا جائے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق  عدالت نے قرار دیاہے کہ تفتیشیافسر نے عدالت میں تسلیم کیا ہے کہ یہ وقوعہ اسی اراضی میں رونما ہوا ہے ،یہ اراضی سی ڈی اے نے ایکوائر کررکھی ہے لیکن تاحال مالکان کو معاوضہ ادا نہ کرنے کی بنا پر قبضہ نہیں لیا ہے اورپارک ویو سٹی کے مالکان اور ان کے ایجنٹوں پر اس اراضی کا زبردستی قبضہ لینے کا الزام ہے ،عدالت نے قرا ردیاہے کہ یہ تو واضح ہے کہ نہ تو تاحال سی ڈی اے نے اس اراضی کا قبضہ لیا ہے اور نہ ہی اس کے مالکان نے کسی اور وجہ سے اسے خالی کیا ہے ، عدالت نے قرار دیاہے کہ سی ڈی اے کی جانب سے پچھلی سماعت پر عدالت میں پیش ہونے والے افسر نے بھی صاف صاف لفظوں میں تسلیم کیا تھا کہ ایک نجی ادارہ( پارک ویو سٹی)سی ڈی اے بورڈ کے ایک فیصلے کی بناء پر مقامی افراد کی اراضی ایکوائر کررہا ہے ،تاہم عدالت کے استفسار کے باوجود وہ اس حوالے سے سی ڈی اے آرڈیننس 1960کی ایسی کوئی پرویژن پیش نہ کرسکے جس کے مطابق سی ڈی اے کا بورڈ پرائیویٹ ہائوسنگ سوسائٹیوںکو کسی شہری کی اراضی ایکوائر کرنے کا اختیار دے سکتا ہو؟نہ ہی انہوں نے اس اختیار کے حق میں سی ڈی اے کے کوئی قواعد و ضوابط عدالت میں پیش کئے تھے ،عدالت نے لکھا ہے کہ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا ہے کہ پارک ویو سٹی اسلام آباد کے مالک علیم ایک انتہائی بااثر شخص ہیں جنہیں سی ڈی اے کے بورڈ نے غیر قانونی طور پر اراضی ایکوائر کرنے کا اختیار دے رکھا ہے۔

اخبار کے مطابق عدالت نے قرا ردیاہے کہ یہ ایک طے شدہ قانون ہے کہ جب آئین کے آرٹیکل 199کے تحت کسی کیس کی سماعت کی جاتی ہے تو عدالت اس معاملے کی اہمیت کے پیش نظر اس کا مفاد عامہ کے تحت بھی جائزہ لے سکتی ہے ،دوران سماعت چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ یہ معاملہ انکا چارج سنبھالنے سے پہلے کا ہے ،تاہم انہوں نے سی ڈی اے کے بورڈ کی جانب سے پیسہ کمانے والی ایک نجی ہائوسنگ سوسائٹی کو مقامی افراد کی اراضی ایکوائر کرنے کا اختیار دینے کے معاملہ کی قانونی پوزیشن کا جائزہ لینے اور جواب داخل کروانے کے لئے مہلت طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارک ویو سٹی کو ʼʼاین او سی کے اجراء ʼʼکے معاملے کا بھی از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے ،عدالت نے قرار دیاہے کہ اگلی تاریخ سے قبل سی ڈی اے بورڈ اس سارے معاملے کا جائزہ لیکر اس حوالے سے مناسب فیصلے کرنے میں آزاد ہے ،عدالت نے مسول علی علیم خان کے وکیل کو کیس سے متعلق کچھ دستاویزات جمع کرانے کی اجازت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت جمعہ 6دسمبر تک ملتوی کردی ہے ۔

مزید : قومی