بشیرا دیکھ کے۔۔۔

بشیرا دیکھ کے۔۔۔
بشیرا دیکھ کے۔۔۔

  



گزشتہ کئی دنوں سے پاکستان کی ہوا ذرا بدلی ہوئی ہے لیکن اس سے قبل نواز شریف کی بیرون ملک روانگی اور لندن پہنچنے تک چور چور کا لفظ پاکستانیوں نے کئی دفعہ سنایا۔ کچھ لوگوں نے بولا بھی ہو گا لیکن شاید یہ محض ایک سیاسی نعرہ بن کر رہ گیا ہے لیکن راقم کا چند دن پہلے محمد بشیر سے رہ چلتے واسطہ پڑا جو حقیقی زندگی میں چوروں کا شکار بن چکا تھا۔

74سال عمر اور پیدل چلنے سے ٹانگوں میں درد لیکن زبان پر بار بار اللہ کا شکر بجا لا رہا تھا۔ عمر کا تقاضا بھی اور انتہائی معروف سڑک کے کنارے پیدل چلنا، بات کچھ پلے نہیں پڑی۔ حالانکہ چند قدم کی دوری پر رنگ برنگے پھولوں، خوبصورت جھولوں اور سبز گھاس سے مزین پارک بھی موجود تھا۔ مزید کریدنے پر آہ بھری اور بتا یا کہ برکت مارکیٹ کے علاقے سے ان کی سائیکل چوری ہوگئی تھی۔ جس کے بعد سے ان کو مالی حالات نے اجازت نہیں دی کہ اپنی سواری(یعنی سائیکل )کا بندوبست کر سکیں۔ محمد بشیر کی عمر اب74سال ہو چکی ہے، کرائے کے مکان میں سر چھپا رکھا ہے اور اس سے بڑ ھ کر وہ آج بھی 12 گھنٹے سیکیورٹی گارڈ کی ڈیوٹی کرنے پر مجبور ہیں، سونے پر سہاگہ یہ کہ غریب کو پورا مہینہ بلاناغہ نوکری دینے پر محض 14ہزار روپے ملتے ہیں، محض 14ہزار۔

بشیر نام سنا تو ان سے کچھ انسیت بھی ہوئی کیونکہ اسی نام کے ایک شخص جو اب اس دنیا سے پردہ کر چکے ہیں ، کے ساتھ روحانی تعلق تھا۔ محمد بشیر ماضی میں کچھ زیادہ رقم کماتا رہا لیکن بڑھتی عمر کے ساتھ آمدن بڑھنے کے بجائے کم ہوتی چلی گئی، یہ سیکیورٹی کمپنیاں بھی پوری ایک گیم ہیں اور اس پر پھر کسی دن بات ہوگی۔کچھ دیر کی قربت کے بعد محمد بشیر تو چلا گیا لیکن ایک سوال بار بار ذہن میں کھٹکتا رہا کہ یہ چور لوگ بھی بڑے بے حس ہوتے ہیں، پھر سوچا کہ چور نہیں،نشئی ہوگا جو سائیکل اٹھاکے چلتا بنا۔ خیر جو بھی ہو محمد بشیرعمر کے اس حصے میں سائیکل کی شکل میں موجود اپنے سہارے سے محروم ہو گیا۔

لیکن علی امین گنڈا پور کے بیانات کے تناظر میں دیکھا جائے تو سائیکل تو کہیں نہیں گئی، محمد بشیر سے گئی۔ چور کے ہاتھ آئی اور اس نے بھی کسی ضرورت مند کو بیچ دی ہوگی۔ محمد بشیر کی نہیں تو کسی اور کی ضرورت پوری کر رہی ہوگی۔ اس کیلئے سامان لاد کر لا رہی ہو گی یا پھر اسے اپنے اوپر سوارے کرائے رمکے رمکے لاہور کی سڑکوں پر گاڑیوں کے بیچوں بیچ چلتی جا رہی ہو گی، نہ وارڈن سے چالان ہونے کا ڈر اور نہ کسی سرخ بتی کے بجھنے کا انتظار۔ لیکن مشرقی معاشرے کیلئے ان سب حکمرانوں کے بیانات اور اعلانات کے برعکس مغرب کو چور بھی اعلیٰ ظرف کے مالک ہیں۔

ایک مرتبہ ڈیوڈ کیمرون جو برطانیہ کو وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں، ان کی سائیکل چوری ہو گئی، واردات کے دنوں میں وہ اپوزیشن لیڈر تھے۔ یہ سائیکل ڈیوڈ کیمرون کو اپنے دادا نے تحفے میں دی تھی لیکن جب چوری ہو ئی تو وہ اس دنیا میں نہیں تھے۔ اپوزیشن لیڈر کی سائیکل چوری کی خبریں چھپیں اور یہ بھی واضح ہوا کہ مرحوم دادا کی نشانی ہے یعنی اس سے ان کے جذبات وابستہ ہیں، محض مالی نقصان یا محض ایک سائیکل کی چوری نہیں۔ آئندہ دنوں میں ان کی وہ سائیکل اسی مقام پر پائی گئی جہاں سے غائب ہوئی تھی۔

ڈیوڈ کیمرون اور محمد بشیر کی سائیکل کے قصّے کو دیکھیں، دونوں کی مالی حیثیت اور ضرورت کا جائزہ لیں تو پھر یہی کہا جا سکتا ہے کہ چوروں سے بھی واسطہ پڑے تو وہ بھی احساس رکھتے ہوں، چوری اگرچہ جرم اور قبیح عمل ہے لیکن اگر ان کا دھندہ بھی ہوتو کم از کم محمد بشیر جیسے لوگوں کا احساس کریں جو نہ دوبارہ سواری لے سکتے ہیںاور نہ کوئی قانونی کاروائی کر سکتے ہیں بلکہ حالات کے ستائے یہ لوگ مزید دھکے کھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ