افغانستان اور عراق میں تعیناتی کے بعد برطانوی فوجیوں کو ویاگرا کی ضرورت

افغانستان اور عراق میں تعیناتی کے بعد برطانوی فوجیوں کو ویاگرا کی ضرورت
افغانستان اور عراق میں تعیناتی کے بعد برطانوی فوجیوں کو ویاگرا کی ضرورت

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان اور عراق میں تعینات رہنے والے امریکی و برطانوی فوجیوں کو نفسیاتی علاج کی ضرورت تو پڑتی تھی۔ اب ہزاروں برطانوی فوجیوں کو جنسی علاج کی ضرورت بھی پڑ گئی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق افغانستان اور عراق میں ڈیوٹی سرانجام دینے والے 3ہزار سے زائد برطانوی فوجی ذہنی دباﺅ کی وجہ سے جنسی اعتبار سے انتہائی کمزور ہو گئے جس کی وجہ سے انہیں سائیکو سیکسوئل تھراپی دی گئی اور اب ان کی ازدواجی زندگی کو بچانے کے لیے انہیں جنسی قوت کی گولیاں ’ویاگرا‘فراہم کی جا رہی ہیں۔

ان فوجیوں پر ایک تحقیق بھی کی گئی ہے جس میں معلوم ہوا ہے کہ ان جنگ زدہ ممالک میں تعیناتی کے دوران ان فوجیوں کو بڑی تعداد میں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کی وجہ سے ایسے ذہنی صدمات پہنچے ہیں کہ وہ نفسیاتی طور پر نارمل نہیں رہے۔ انہیں کئی طرح کے ذہنی عارضے لاحق ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے ان کی جنسی طاقت بھی کم تر ہو گئی ہے ۔اس تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ افغانستان اور عراق سے واپس آنے والے ہر 90فوجیوں میں سے ایک جنسی کمزوری کا شکار ہو چکا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ ”سائیکوسیکسوئل تھراپی سے ان فوجیوں پر بہت موثر ثابت ہوئی ہے۔ اس میں انہیں یقین دلایا جاتا ہے کہ افغانستان اور عراق میں ڈیوٹی کے دوران انہوں نے جن لوگوں کو قتل کیا اس میں ان کی کوئی غلطی نہیں تھی۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس