آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق قانون سازی کے لیے نئے انتخابات ضروری،دسمبر حکومت کیلئے آخری مہینہ ہے:مولانا فضل الرحمان

آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق قانون سازی کے لیے نئے انتخابات ضروری،دسمبر ...
آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق قانون سازی کے لیے نئے انتخابات ضروری،دسمبر حکومت کیلئے آخری مہینہ ہے:مولانا فضل الرحمان

  



کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق قانون سازی کے لیے نئے انتخابات ہونے چاہئیں,آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر نا اہلی کی انتہا کر دی گئی ،دسمبر حکومت کیلئے آخری مہینہ ہے، اپوزیشن کی تمام جماعتیں ایک پیچ پر ہیں،موجودہ پارلیمنٹ قانون سازی نہیں کر سکتی۔

نجی ٹی وی کے مطابق مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پرحکومت کی نا اہلی کے سبب دشمن ملک کے میڈیا نے خبریں چلائیں، ہمیں مستحکم سیاسی نظام کی جانب جانا ہے، حکومت مافیا کا روپ اختیار کر گئی ہے اپوزیشن کی تمام جماعتیں ایک پیچ پر ہیں، موجودہ پارلیمنٹ قانون سازی نہیں کر سکتی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن کو مافیا کہنے والے خود مافیا ہیں، ان کی غلط پالیسیوں سے پاکستان اور فوجی ادارے کی جگ ہنسائی ہوئی ہے ،ملک کو سنجیدہ ماحول کی طرف لے جانا چاہیے ،پورے ملک کے عوام موجودہ حکمرانوں سے بے زار ہیں، یہ عوام کے منتخب کردہ نمائندے نہیں ہیں، یہ سلیکٹڈ لوگ ہیں جنہوں نے ڈیڈھ سال کے دوران ملک کوبحرانوں کی طرف دھکیل دیا، تمام سیاسی جماعتیں ہمارے ساتھ احتجاج میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ سب کچھ ٹھیک کرنے والے خود تمام معاملات کو خرابی کی طرف لے جارہے ہیں،آرمی ایکٹ کی حوالے سے ترامیم پالیمنٹ میں منظور ی کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا،موجودہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا کوئی اختیار نہیں ہے ،6ماہ کے اندرانتخابات کرائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ سے بہت بڑے فائدے حاصل کئے اور ا سی تسلسل کے ساتھ ملک بھر میں مظاہرے جاری ہیں،میرے خیال میں دسمبر حکومت کیلئے آخری مہینہ ہے،ملکی حالات سے سب واقف ہیں،ایک سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا ملک بحرانوں میں جا رہا ہے، سب سے سنگین مسئلہ معیشت کا ہے ،معیشت کے معاملے پر تمام ادارے ناکام ہوگئے ہیں، ملازمتوں سے نکالے گئے افراد کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی ہے، شپنگ کارپوریشن بیٹھ گئی ہے،ہم خارجہ پالیسی میں تنہا ہو چکے ہیں، ہمارے قابل اعتماد دوست ممالک ساتھ دینے کو تیار نہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج کشمیر کا معاملہ نمٹا دیا گیا ہے ،پارلیمنٹ پر عوام کا اعتماد نہیں تھا ،آزادی مارچ تاریخ کا سب سے بڑا مارچ تھا ،کسی بھی معاملے میں بہتری کی امید نظر نہیں آرہی۔اُنہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر نا اہلی کی انتہا کر دی گئی، حکومت کی نا اہلی کے سبب دشمن ملک کے میڈیا نے خبریں چلائیں، ہمیں مستحکم سیاسی نظام کی جانب جانا ہے حکومت مافیا کا روپ اختیار کر گئی ہے اپوزیشن کی تمام جماعتیں ایک پیچ پر ہیں موجودہ پارلیمنٹ قانون سازی نہیں کر سکتی آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق قانون سازی کے لیے نئے انتخابات ہونے چاہیے، چھ ماہ میں نئے انتخابات کروا کر نئی پارلیمنٹ کی تشکیل ہو سکتی ہے، پاکستان کے حکمرانوں کی زبانیں بازاری ہیں، حکومت سے کوئی بات نہیں ہو سکتی، یہ لوگ اس قابل ہی نہیں، غلط خارجہ پالیسی کی وجہ سے سی پیک سے متعلق منفی خبریں چل رہی ہیں، پانامہ بین الاقوامی سازش تھی ،چین ہمارا سب سے قابل اعتماد دوست ملک ہے، سی پیک کے معاملے پر کوئی غلط فہمی نہیں پھیلائی جانی چاہئے ۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم کا باپ بھی استعفیٰ دے گا ،جب ہم مقابلے میں ہونگے تو نظام کیسے چلے گا ؟یہ یورپ جاکرعیاشی کرے، یہ یورپ میں عیاشی کرنے والے لوگ ہیں، یہ حکمرانی نہیں کرسکتے ، ان کیساتھ ہم کوئی بات چیت نہیں کرینگے اور یہ بات چیت کے قابل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو پاکستان کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے، اگر پاکستان ملک ہے تو اپنے فیصلے کرنے ہونگے۔

مزید : قومی