” ان لوگوں نے مارا ہے میرے بیٹے کو“حویلیاں پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران شہید پائلٹ کی والدہ رو پڑیں

” ان لوگوں نے مارا ہے میرے بیٹے کو“حویلیاں پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات ...
” ان لوگوں نے مارا ہے میرے بیٹے کو“حویلیاں پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران شہید پائلٹ کی والدہ رو پڑیں

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)سندھ ہائیکورٹ میں حویلیاں پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران شہید پائلٹ کی والدہ رو پڑیں،انہوں نے کہاکہ ان لوگوں نے مارا ہے میرے بیٹے کو، وہ شدید دباﺅ میں تھا،وہ ایک دن میں 3 ،3 طیارے اڑا رہا تھا، میں 4 سال سے سو نہیں سکی،میرابیٹا چھین لیا۔عدالت نے حادثے کی ذمہ داری سے متعلق سی اے اے سے تفصیلی جواب مانگ لیا،عدالت نے کہاکہ تکنیکی سوالات کی روشنی میں بتائیں کون ذمہ دار ہے؟،پی آئی اے کی جانب سے متعلقہ ذمہ داران کیخلاف کارروائی کی بھی رپورٹ طلب کرلی گئی اس کے علاوہ پی آئی اے کے موجودہ اے ٹی آر طیاروں کی مینٹیننس سے متعلق تفصیلات بھی طلب کرلی گئیں،

سندھ ہائیکورٹ میںحویلیاں پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کے ٹیکنیکل افسران عدالت میں پیش ہوئے،دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ اتنا بڑا حادثہ ہوا ذمہ دار کون ہے؟، ڈائریکٹر ٹیکنیکل پی آئی اے نے کہاکہ ٹیکنیکل مسئلہ تھا ہم نے اس حادثے سے سبق سیکھا، عدالت نے کہاکہ لوگ رقم خرچ کرکے ٹکٹ خریدتے ہیں اگر مسافر محفوظ نہیں توکیا فائدہ؟،اس رپورٹ کے بعد پی آئی اے نے کسی ذمہ دار کا تعین کیا؟،ہماری بار بار ہدایت کی وجہ سے رپورٹ آگئی ورنہ کبھی سامنے آتی۔

عدالت نے کہاکہ آپ لوگوں نے خرابی کے باوجود جہاز اڑایا اس کا ذمہ دارکون ہے؟، پڑھ کر بتائیں کیالکھا ہے رپورٹ میں؟،اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل شہریار مہر نے کہاکہ آبزرویشن میں پی آئی اے کو ذمہ دار قراردیاگیا۔عدالت نے ڈپٹی جنرل کی سرزنش کرتے ہوئے کہاکہ آپ رپورٹ پڑھ کر کیوں نہیں آئے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ آپ چاہتے نہیں ہیں کہ رپورٹ یہاں ڈسکس ہو؟،ڈائریکٹر ٹیکنیکل پی آئی اے نے کہاکہ لیفٹ انجن میں مسئلہ آیا رائٹ انجن ٹھیک تھا ،جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ ٹربائن بلیڈکیوں تبدیل نہیں کیاگیا؟، ڈائریکٹرٹیکنیکل نے کہاکہ ڈیزائن کا مسئلہ تھا،10 ہزار گھنٹے کی پرواز کی حد ہے ،ورکشاپ میں جب طیارہ آیا تو اس کے مینٹیننس کی گئی ،عدالت نے کہاکہ سوی ایوی ایشن کیسے سرٹیفکیٹ دیتا ہے؟،ڈائریکٹر سی اے اے نے کہاکہ ریکارڈ جمع کرا دیا،تھوڑی مہلت دیں تو مزید جواب دے سکوں گا،عدالت نے کہ اس حادثے کے بعد کسی کے خلاف کارروائی ہوئی ؟،پی آئی اے حکام نے کہاکہ فوری طور پر تمام اے ٹی آر طیاروں کو گراﺅنڈ کردیاتھا، عدالت نے کہاکہ بقیہ اے ٹی آر کو محفوظ بنایاگیاہے؟، پی آئی اے حکام نے کہاکہ ممکنہ حادثات سے بچنے کیلئے نیا سافٹ ویئر بنایاگیا ہے، درخواستگزار نے کہاکہ بلیڈ ٹوٹا ہواتھا طیارے میں فالٹ تھا کیسے پرواز کی اجازت دی گئی ؟، میرے بیٹے کو زبردستی فلائٹ پر بھیجاگیا،شہید کیپٹن کی والدہ عدالت میں رو پڑیں،انہوں نے کہاکہ ان لوگوں نے مارا ہے میرے بیٹے کو وہ شدید دباﺅ میں تھا،وہ ایک دن میں 3 ،3 طیارے اڑا رہا تھا، میں 4 سال سے سو نہیں سکی،میرابیٹا چھین لیاانہوں نے،عدالت نے کہاکہ آپ کے بیٹے کا بھی دکھ ہے اور دیگر لوگوں کا بھی جوشہید ہو گئے،والدہ نے کہاکہ 48 خاندان تباہ ہو گئے ۔

عدالت نے حادثے کی ذمہ داری سے متعلق سی اے اے سے تفصیلی جواب مانگ لیا،عدالت نے کہاکہ تکنیکی سوالات کی روشنی میں بتائیں کون ذمہ دار ہے؟،پی آئی اے کی جانب سے متعلقہ ذمہ داران کیخلاف کارروائی کی بھی رپورٹ طلب کرلی گئی اس کے علاوہ پی آئی اے کے موجودہ اے ٹی آر طیاروں کی مینٹیننس سے متعلق تفصیلات بھی طلب کرلی گئیں،درخواستگزاراقبال کاظمی نے حادثے سے متعلق نئے دستاویزات پیش کردیئے،عدالت نے دستاویزات کی روشنی میں پی آئی اے اور دیگر کو جواب جمع کرانے کاحکم دیدیا۔

پی آئی اے حکام نے کہاکہ ایک انجن پر دنیا بھر میں جہاز اڑتے ہیں ،اس جہاز کا دوسراانجن کیوں فیل ہوایہ اہم بات ہے،والدہ شہید کیپٹن نے کہاکہ دوسرا انجن بھی خراب تھا،جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ آپ کو ٹیکنیکل معاملات کاعلم نہیں ہے،والدہ نے کہاکہ میرا بیٹا روز آکر پی آئی اے کے حالات بتاتا تھا،عدالت نے کیس کی سماعت 17 دسمبر تک ملتوی کردی ۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -