تین لیبر ارکان پارلیمنٹ کا بیڈفورڈشائر پولیس اینڈ کرائم کمیشنر کو کھلا خط

تین لیبر ارکان پارلیمنٹ کا بیڈفورڈشائر پولیس اینڈ کرائم کمیشنر کو کھلا خط
تین لیبر ارکان پارلیمنٹ کا بیڈفورڈشائر پولیس اینڈ کرائم کمیشنر کو کھلا خط

  

لیوٹن(اسرار احمد خان)ہوم آفس کے اعدادوشمار کے انکشاف کے بعد بیڈفورڈ شائر میں سیاہ فام لوگوں کو روکنے اور ان کی تلاشی کے زیادہ امکانات کے بعد لیوٹن ساوتھ کے رکن پارلیمنٹ ریچل ہاپکنز ، لوٹن نارتھ کی رکن پارلیمنٹ سارہ اوون اور بیڈفورڈ کے رکن پارلیمنٹ محمد یاسین نے بیڈفورڈشائر پولیس اینڈ کرائم کمیشنر (بیڈس پی سی سی) کیتھرین ہولوے کو ایک کھلا خط لکھا ہے۔

خط کے جواب میں بیڈس پی سی سی کمیشنر ہولوئے نے لیبر کے تینوں رکن پارلیمنٹ پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ان پر یہ الزام لگایا کہ وہ نئے پی سی سی کے لئے اگلے سال ہونے والے انتخابات سے قبل اس معاملے کو "سیاست" کر رہے ہیں۔اس حوالے سے تینوں پارلیمنٹرین نے اپنے کھلے خط میں کمیشنر ہولوے کو لکھا کہ "اگرچہ ہم آپ کے دور میں بیڈفورڈشائر پولیس کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کرتے ہیں ، لیکن ہوم آفس کے اعدادوشمار واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس کی اصلاح کی ضرورت ہے۔

خط میں انہوں نے مذید کہا کہ بیڈ فورڈ شائر میں بسنے والے سیاہ فارم، ایشیائی اور نسلی اقلیتی برادریوں کو روکنے اور تلاش کرنے کے خلاف غیرمناسب استعمال کے سلسلے میں ہمیں ہر ایک کو متعلقہ حلقوں سے کافی حد تک خط و کتابت وصول ہوئے ہیں۔اور مذید کہا کہ بطور منتخب عہدیدار ، ہمارا فرض ہے کہ ہم ان خدشات پرعمل کریں اور انہیں صاف شفاف اور جوابدہ بنا سکے۔

تاہم تینوں ممبران پارلیمنٹ نے پولیس کمیشنر بیڈفورڈشائر ہولوے کی آزاد اسٹاپ اور سرچ اسکروٹنی پینل کی دعوت قبول کرلی ہے لیکن وہ اپنے کھلے خط کے موقف پر قائم ہیں۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -