”مجھے اغواءکیا گیا اور 9ماہ تک روزانہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا لیکن میں نے یہ بات اپنے والدین کو نہیں بتائی کیونکہ۔۔۔“

”مجھے اغواءکیا گیا اور 9ماہ تک روزانہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا ...
”مجھے اغواءکیا گیا اور 9ماہ تک روزانہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا لیکن میں نے یہ بات اپنے والدین کو نہیں بتائی کیونکہ۔۔۔“
سورس:   Instagram/@elizabeth_smart_official

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) 9ماہ تک اغواءرہنے اور جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی 33سالہ امریکی لڑکی الزبتھ سمارٹ نے سالہا سال تک اپنے ساتھ ہونے والا ظلم اپنے والدین سے چھپائے رکھنے کا حیران کن انکشاف کر دیا ہے، جس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والی درندگی پر اس قدر شرمندگی محسوس کرتی تھی کہ اپنے ماں باپ کو بھی نہیں بتا پائی کہ اس کے ساتھ کیا کچھ ہوتا رہا۔ میل آن لائن کے مطابق الزبتھ کو امریکی ریاست اوٹاہ کے شہر سالٹ لیک سٹی میں جون 2002ءمیں اغواءکیا گیا اور مارچ 2003ءمیں وہ بازیاب ہوئی۔ اس دوران اغواءکار اسے روزانہ جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔

رپورٹ کے مطابق الزبتھ کو بریان ڈیوڈ مائیکل نامی مجرم نے اپنی اہلیہ وینڈ ابرزی کی اعانت سے اغواءکیا گیا اور گھر میں قید رکھ کر اسے زیادتی کا نشانہ بناتا رہا تھا۔ الزبتھ کا کہنا تھا کہ ”جب میں 9ماہ بعد گھر واپس پہنچی تو میرے والدین سب کچھ سننے کے لیے بے تاب تھے لیکن میں انہیں اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کے متعلق کچھ نہ بتا سکی۔ 10سال بعد جب میں نے عدالت میں گواہی تھی اور اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کے متعلق بتایا، میرے والدین کو تب اس بارے علم ہوا۔“ واضح رہے کہ عدالت نے ستمبر 2018ءمیں بریان ڈیوڈ کو عمر قید اور اس کی بیوی وینڈا کو 12سال قید کی سزا سنادی تھی۔

مزید :

بین الاقوامی -