خلائی مخلوق کی تلاش کے طریقے غلط ثابت، امریکی خلا باز نے معاملہ ہی الٹ دیا

 خلائی مخلوق کی تلاش کے طریقے غلط ثابت، امریکی خلا باز نے معاملہ ہی الٹ دیا
 خلائی مخلوق کی تلاش کے طریقے غلط ثابت، امریکی خلا باز نے معاملہ ہی الٹ دیا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) خلائی مخلوق کا وجود ایک سوالیہ نشان ہے اور ماہرین کی ٹیمیں خلائی مخلوق کی کھوج میں بھی لگی ہوئی ہیں تاہم اب اس حوالے سے ایک بری خبر سنا دی گئی ہے۔

 ڈیلی سٹار کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ خلائی مخلوق کی کھوج کے لیے ہم جن اشاروں یا علامات کی تلاش میں تھے، وہی غلط تھیں اور ان سے کبھی بھی خلائی مخلوق کے موجود ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں پتا نہیں چل سکتا۔

ایس ای ٹی آئی انسٹیٹیوٹ کے ساتھ وابستہ امریکی خلاءنورد سیتھ شوستک کا کہنا ہے کہ ہمیں ایسے سیاروں کی تلاش کا کام روک دینا چاہیے جن پر انسانی زندگی ممکن ہو سکتی ہے۔ اگر خلائی مخلوق اتنی ذہین ہے کہ وہ ہماری زمین کو تلاش کر سکے تو غالباً وہ طبیعات کی ان حدود سے بہت آگے نکل چکی ہو گی جن کے متعلق ہم جانتے ہیں۔ اگر وہ زمین پر آتے ہیں تو ان کے آنے کا منظر اس سے یکسر مختلف ہو گا جیسا ہم نے سوچ رکھا ہے۔ ہم خلائی ریڈیو سگنلز یا آسمان میں چمکتی لیزر کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اگر خلائی مخلوق زمین پر آتی ہے تو یقینا وہ ایسے سگنلز اور لیزر کی محتاج نہیں ہو گی بلکہ اس سے بہت آگے کی ٹیکنالوجی سے لیس ہو گی، چنانچہ ہمیں ان علامات اور اشاروں کے ذریعے خلائی مخلوق کی تلاش کا کام ترک کر دینا چاہیے کیونکہ اس طریقے سے ہم انہیں آج تک تلاش نہیں کر پائے اور نہ ہی کبھی کر پائیں گے۔

سیتھ شوستک کا کہنا تھا کہ ”ہم ’انسانی نقطہ نظر‘ سے خلائی مخلوق کی تلاش کر رہے ہیں۔ ہم نے اپنی طرف سے کچھ مفروضے بنا رکھے ہیں، جن میں اڑن طشتری کی ایک خاص شکل، اس نے نکلنے والی خاص تیز روشنی اور ریڈیو سگنلز ہیں، جو کہ ہم انسانوں کے ایجاد کردہ ہیں۔ ہو سکتا ہے خلائی مخلوق ان ٹیکنالوجیز سے کئی نوری سال آگے نکل چکی ہو اور ایسے طریقے سے زمین کے ساتھ رابطہ کرتی ہو کہ جو ہم انسانوں کے گمان میں بھی نہیں ہے۔“

مزید :

بین الاقوامی -