صحافت ’کاز بیسڈ‘ ہونی چاہیے، معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب حسان خاور

صحافت ’کاز بیسڈ‘ ہونی چاہیے، معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب حسان خاور
 صحافت ’کاز بیسڈ‘ ہونی چاہیے، معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب حسان خاور

  

لاہور ( ڈیلی پاکستان آن لائن)  ڈیپارٹمنٹ آف ڈیجیٹل میڈیا ، سکول آف کمیونیکیشن سٹدیز، پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام  ’’مولانا ظفر علی خان کی صحافتی اقدار‘‘ پر شعبہ ابلاغیات میں ایک پروقار سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب و ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور نے اپنے خطاب میں مولانا ظفر علی خان کی صحافتی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ نظریاتی جنگ میں مولانا ظفر علی خان اور اُن کے اخبار کا بہت نمایاں کردار رہا ہے۔ موجودہ دور کا تقاضہ ہے کہ صحافت کاز بیسڈ ہونی چاہئے۔اُنہوں نے نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے ڈیجیٹل میڈیا کی طرف منتقل ہونے کی ضرورت پر بھی زور دیااور کہا کہ موجودہ اور مولانا ظفر علی خان کے دور کی صحافت کا موازنہ کرتے ہوئے اس سے سیکھنا چاہئے۔ 

انہوں نے کہا کہ ظفر علی خان کے دور میں بھی میڈیا کو آج والے حالات درپیش رہے۔ میڈیا کو بلیک میل کرنے کا عنصر تب بھی موجود تھا، اب اس میں کچھ جدت آ گئی ہے۔ میڈیا کے اشتہارات بند کرنے کے حوالے سے ویڈیو آڈیو لیکس کا قصہ ن لیگ کی میڈیا پالیسی کو بے نقاب کرنے کیلئے کافی ہے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی اصل سیاست کا چہرہ سب کے سامنے ہے۔ بے نامی جائیدادیں، بوگس اکاؤنٹس اور میڈیا کو بلیک میلنگ، ججوں، اداروں کی تضحیک اُنکی سیاست کا اصل چہرہ ہے۔ سندھ میں روٹی کپڑا مکان کا بیانیہ بھوکے پیٹ کھلے آسمان تلے شرما رہا ہے کہ کہاں چھپوں؟پنجاب ترقی کر رہا ہے اور اس کی پرفارمنس شاہی خاندان کے علاوہ پوری قوم کو نظر آ رہی ہے۔ 

حسان خاور نے مزید کہا کہ این اے 133 میں ووٹرز کو نوٹوں سے پیٹا جا رہا ہے،  دونوں پارٹیاں ووٹرز کو خرید رہی ہیں۔ یہ ملک کی بدقسمتی اور الیکشن کا سیمپل ہے،  پوری قوم کو پتہ چل گیا ہے کہ الیکشن میں یہ کچھ ہوتا آیا ہے۔

وائس چانسلر یونیورسٹی آف پنجاب پروفیسر ڈاکٹرنیاز احمد اختر نے مولانا ظفر علی خان کی خدمات  کو خراج عقیدت  پیش کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر  کے مسلمان مولانا ظفر علی خان  اور اُن کی سوچ کے قائل تھے۔

 ڈاکٹر نیاز نے شرکاء خصوصاً طلبہ  کو بتایا کہ مولانا ظفر علی خان نے نہ صرف سختیاں اور پابندیاں جھیلیں بلکہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر قوم کی بے انتہا خدمت کی۔ سچ اور حقائق پر مبنی خبر اور تجزیے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئےاُنہوں نے طلباء اور طالبات کو اعلیٰ صحافتی اقدار پر عمل پیرا ہونےکی تلقین کی۔

اُنہوں نے طلبا اور طالبات کو دور حاضر  کے تقاضوں کے مطابق زیادہ سے زیادہ سیکھنے پر زور دیا۔  وائس چانسلر نے طالب علموں کو عظیم شخصیات اور اُن کے کام سے روشناس کرانے  کیساتھ ساتھ اُنہیں صحافت کے علمبرداروں سے بحث مباحثے کے ذریعے عملی صحافت سیکھنے کا موقع فراہم کرنے پر ڈاکٹر سویرا مجیب شامی کی کاوشوں کو سراہا۔

اس موقع پر سینئر  صحافی مجیب الرحمان شامی نے مولانا ظفر علی خان کی شخصیت اور ان کی صحافتی خدمات کا احاطہ کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ زمیندار اخبار پوری مسلمان دنیا کا ترجمان تھا، مولانا ظفر علی خان نہ صرف شاعر بلکہ انتہائی عظیم ایڈیٹر تھے جو نڈر اور اصولوں کے پابند شخص تھے ۔  آج ہمیں مولانا ظفر علی خان کے نظریےمیں ڈھلنے کی ضرورت ہے۔

پرو وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی  ڈاکٹر سلیم مظہر نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان کوتلخ سے تلخ حقیقت اور احساسات متوازن طریقے سےکہنے میں معرکہ حاصل تھا۔طلبہ  کو مولانا ظفر علی خان کو رول ماڈل بنانا چاہئے اور اپنے آپ کو  زیادہ سے زیادہ  مطالعے کی عادت ڈال کر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا چاہئے۔

معروف  صحافی سجاد میر اور سلمان غنی کیساتھ ساتھ خالدمحمود اور تاثیر مصطفیٰ سمیت دیگر مقررین نے مستقبل کے صحافیوں کو مولانا ظفر علی خان کے طے کردہ صحافتی اصولوں سے راہنمائی حاصل کرنے پر زور دیا۔

بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان چیئر اور ڈیپارٹمنٹ آف ڈیجیٹل میڈیا کی چیئر پرسن  ڈاکٹر سویرا مجیب شامی نے اپنے ویلکم ایڈریس میں  مولانا ظفر علی خان کی شخصیت اور اُن کی صحافتی خدمات پر روشنی ڈالی۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -