اگر اسمبلیاں توڑی جاتی ہیں تو الیکشن صرف ان اسمبلیوں میں ہوں گے، جنرل الیکشن نہیں ہوں گے ، رانا ثنا اللہ 

اگر اسمبلیاں توڑی جاتی ہیں تو الیکشن صرف ان اسمبلیوں میں ہوں گے، جنرل الیکشن ...
اگر اسمبلیاں توڑی جاتی ہیں تو الیکشن صرف ان اسمبلیوں میں ہوں گے، جنرل الیکشن نہیں ہوں گے ، رانا ثنا اللہ 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہاہے کہ جلسوں میں اسمبلیاں توڑنا غیر آئینی ہے،الیکشن یونہی نہیں ہو تا، بہت پیسہ استعمال ہوتاہے ،اسمبلیوں کو توڑنے سے بچانے کیلئے آئین کے تحت جو بھی کرنا ہوا کریں گے،اگر اسمبلیاں توڑی جاتی ہیں تو الیکشن صرف ان اسمبلیوں میں ہوں گے، جنرل الیکشن نہیں ہوں گے وہ اپنی مدت پر ہی ہوں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہاکہ گزشتہ روز بلیلی میں دہشتگردی کاواقعہ ہوا جوقابل مذمت ہے،بلیلی میں دہشت گردی کے واقعے کی ذمہ داری کالعدم ٹی ٹی پی نے قبول کرلی،دہشت گردی کے واقعات کا ہونا اور پھر ذمہ داری قبول کرنا باعث تشویش ہے،وفاقی وزیر داخلہ کاکہناہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کا دہشت گردی کرنا اور پھر قبول کرنا خطے کےلئے خطرناک ہے ،دہشت گردی کے واقعات افغانستان کیلئے بھی الارمنگ اورلمحہ فکریہ ہے ،کالعدم ٹی ٹی پی کوافغانستان سے ہر قسم کی سہولت حا صل ہے ۔

انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے واقعے خیبرپختونخوامیں بھی سامنے آرہے ہیں،حکومت دہشت گردی کے واقعات سے متعلق اقدامات سے غافل نہیں،دہشت گردی کے واقعات پر قابو پانا ہماری پہنچ سے باہر نہیں ،صوبائی حکومت کو اپنا موثر کردار اداکرنے کی ضرورت ہے ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو سکیورٹی سے متعلق اجلاس میں آنا چاہیے تھا ،بلوچستان اور خیبرپختونخوا حکومتوں کو دہشت گردی کے واقعات کو سنجید ہ لینا چاہیے۔صوبائی حکومتوں کی مدد کر کے ان معاملات کو بہتر بنایا جائے گا،دہشت گردوں کے خلاف جو بھی آپریشن کرنا ہوا اس میں تاخیر نہیں ہوگی، ہماری مسلح افواج ان دہشتگردوں سے نبرد آزما ہیں،آئین کے تابع ٹی ٹی پی کے جو لوگ واپس آنا چاہیں، تو ان سے بات کر سکتے ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہاکہ عمران خان جب حکومت میں تھے تو اپوزیشن کو ختم کرنا چاہتے تھے ،ساڑھے تین سال میں عمران خان نے کرپشن کا بیانیہ بنایا ،راناثنااللہ نے الزام عائد کیا کہ فرح پنجاب میں تعیناتیاں کرتی تھیں۔ان کاکہناتھا کہ عمران خان میرا نام پکارکر کہتے تھے میں اسلام آباد آرہا ہوں،میں کہتا تھا عمران خان کو بھاگنے کی جگہ نہیں ملے گی،عمران خان کی ہمت نہیں ہوئی کہ اسلام آباد پر چڑھائی کرے ،عمران خان کو چاہیے تھا کہ تسلیم کرتے کہ میں فساد کے ایجنڈے پر ہوں،عمران خان کو چاہیے تھا قوم سے معذرت کرتے اور واپس پارلیمنٹ میں آتے ،عمران خان کو سیاسی روایات کے تحت مسائل پر بات کرنی چاہیے تھی۔

وزیر داخلہ کاکہناتھا کہ 26نومبر کو عمران خان ناکام ہوئے ، لانگ مارچ میں عوام نے ساتھ نہیں دیا، عمران خان نے خیبرپختو نخوا اور پنجاب اسمبلیوں کوتوڑنے کی بات کرکے بحرانی کیفیت پیداکی ، اگر سسٹم عمران خان کواقتدار دے تو کرپٹ نہیں، اگر نہ دے تو برا ہے،انہوں نے کہاکہ سنا ہے پی ٹی آئی والے 20 دسمبر سے استعفے دیں گے،اگر استعفے دینے کا فیصلہ کر لیا ہے تو 20 دسمبر تک انتظار کیوں ؟ ، عمران خان کو اگر کرپٹ سسٹم میں نہیں رہنا توسینیٹ اور آزاد کشمیر سے باہر جائیں، فری اینڈ فیئر الیکشن کے بنیادی تصور کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،ہم کوشش کریں گے کہ اسمبلیاں توڑنے کے عمل میں معاون نہ ہوں، اسمبلیاں توڑنا کسی سیاسی جماعت اور نہ ملک کے حق میں ہے،اگر صوبائی اسمبلیاں توڑی جاتی ہیں، تو پھر ان 2اسمبلیوں کے الیکشن ہوں گے، کوئی نہ سمجھے کہ ہم الیکشن سے پیچھے ہٹیں گے، اسمبلیاں توڑنے سے پہلے سپیکر کے پاس آئیں اور کہیں استعفے قبول کیے جائیں۔

ان کاکہناتھا کہ اتحادی جماعتوں کی مشاورت چل رہی ہے ،خیبرپختونخوا اور پنجاب میں الیکشن ہوئے تو نگران حکومت تو صرف ان ہی صوبوں میں ہوگی ،اس صورت میں الیکشن کی کیا کریڈایبلٹی ہوگی ، ہار کر یہ دوبارہ شور مچادیں گے ،پورے ملک میں شفاف الیکشن اپنی مدت پر ہوں گے ،ان کا کہناتھا کہ سیاسی عدم استحکام کو بھی روکنے کی کوشش کی جائے گی، مسائل آئین اور قانون کے مطابق حل کیے جائیں گے، ہمارا دوٹوک موقف ہے کہ اسمبلیاں نہیں توڑی جاسکتیں، ایسی صورتحال میں سیکیورٹی کے معاملات وفاقی حکومت کی نظر میں ہیں۔

رانا ثنا اللہ نے کہاکہ جلسوں میں اسمبلیاں توڑنا غیر آئینی ہے،الیکشن یونہی نہیں ہو تا، بہت پیسہ استعمال ہوتاہے ،اسمبلیوں کو توڑنے سے بچانے کیلئے آئین کے تحت جو بھی کرنا ہوا کریں گے،اگر اسمبلیاں توڑی جاتی ہیں تو الیکشن صرف ان اسمبلیوں میں ہوں گے، جنرل الیکشن نہیں ہوں گے وہ اپنی مدت پر ہی ہوں گے،

فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے ارشد شریف کیس کی تحقیقات کی ہیں، ارشد شریف کیس سے متعلق حقائق کو سپریم کورٹ کے سامنے رکھا جائے گا، وزیراعظم انکوائر ی کمیشن کیلئے چیف جسٹس کو لکھ چکے ہیں۔

ان کاکہناتھا کہ ماضی میں سیاسی جماعتوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کیاتو ناقابل تلافی نقصان ہوا،ہم الیکشن کیلئے پوری طرح تیار ہیں ، انہوں نے کہاکہ افغان حکومت نے پوری دنیا سے وعدہ کیاتھا کہ سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہوگی،افغان حکومت نے دنیا کے ساتھ چلنا ہے انہیں اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے،ریلیف نہ دینے کی وجہ پی ٹی آئی حکومت کی پالیسیاں تھیں،عوام کو وہ ریلیف نہیں دے سکے جس کا وعدہ کیاتھا،گورنر راج اور عدم اعتماد آئینی طریقے ہیں،استعمال ہوسکتے ہیں۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -