اسامہ بن لادن کا وہ بیٹا منظر عام پر آگیا جس کو جانشین منتخب کیا گیا لیکن وہ سب چھوڑ کر چلا گیا تھا

اسامہ بن لادن کا وہ بیٹا منظر عام پر آگیا جس کو جانشین منتخب کیا گیا لیکن وہ ...
اسامہ بن لادن کا وہ بیٹا منظر عام پر آگیا جس کو جانشین منتخب کیا گیا لیکن وہ سب چھوڑ کر چلا گیا تھا

  

دوحہ  (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسامہ بن لادن کے ایک بیٹے نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے والد اسے اپنے نقش قدم پر چلنے کی تربیت دے رہے تھے، وہ افغانستان میں بچپن میں فائر گن بنا رہے تھے اور اپنے کتوں کو کیمیائی ہتھیاروں کے ٹیسٹ کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ قطر کے دورے کے دوران برطانوی اخبار 'دی سن'  کو انٹرویو دیتے ہوئے، بن لادن کے چوتھے بڑے بیٹے عمر نے دعویٰ کیا کہ وہ  'مجبور' تھا اور اس نے اپنے والد کے ساتھ 'برے وقت' کو بھلانے کی کوشش کی ہے۔

اکتالیس  سالہ عمر نے  جو اب فرانس کے شہر نارمنڈی میں بیوی زینہ کے ساتھ رہتا ہے، بن لادن کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ میں  وہ بیٹا تھا جسے انہوں نے  اپنا کام جاری رکھنے کے لیے چنا  تھا۔ تاہم اس نے نیویارک میں 11 ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں سے چند ماہ قبل اپریل 2001 میں افغانستان چھوڑنے کا انتخاب کیا۔ 'میں نے الوداع کہا اور میرے والد نے الوداع کہا۔وہ خوش نہیں تھے  کہ میں جا رہا ہوں۔' 

اپنے والد کے کیمیائی تجربوں کے حوالے سے عمر نے کہا کہ اس نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ 'انہوں نے اسے میرے  پالتو کتوں پر آزمایا اور میں اس پر  خوش نہیں تھا۔ میں صرف تمام برے وقتوں کو بھولنے کی کوشش کرتا ہوں جتنا کہ میں کر سکتا ہوں۔ یہ بہت مشکل ہے۔ آپ ہر وقت تکلیف میں رہتے ہیں۔ ' 

اب ایک پینٹر  کے طور پر کام کرنے والے عمر کا خیال ہے کہ ان کا فن تھراپی کی طرح ہے اور ان کا پسندیدہ موضوع 'افغانستان میں پانچ سال رہنے کے بعد پہاڑ' ہے۔ مبینہ طور پر اس کے  آرٹ ورک  کا ایک کینوس ساڑھے آٹھ ہزار پاؤنڈ تک میں فروخت ہوتا ہے۔

مارچ 1981 میں بن لادن کی پہلی بیوی نجوا کے ہاں سعودی عرب میں پیدا ہونے والے عمر نے کہا'میرے والد نے مجھے کبھی بھی القاعدہ میں شامل ہونے کے لیے نہیں کہا، لیکن انھوں نے مجھے بتایا کہ میں اپنے کام کو جاری رکھنے کے لیے چنا گیا بیٹا ہوں۔ جب میں نے کہا کہ میں اس زندگی کے لیے موزوں نہیں ہوں، تو وہ مایوس ہو گئے۔' 

جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں ان کے والد نے انہیں اپنا وارث کیوں منتخب کیا، تو وہ اخبار کو بتاتے ہیں: 'مجھے نہیں معلوم، شاید اس لیے کہ میں زیادہ ذہین تھا، اسی لیے میں آج زندہ ہوں۔' ان کی 67 سالہ بیوی زینہ نے اخبار کو بتایا کہ عمر ان کا 'روح کا ساتھی' ہے اور ان کا خیال ہے کہ وہ 'بہت برے صدمے، تناؤ اور گھبراہٹ کے حملوں' سے دوچار ہے۔ 'عمر ایک ہی وقت میں اسامہ سے محبت اور نفرت کرتا ہے۔ وہ اس سے اس لیے محبت کرتا ہے کیونکہ وہ اس کا باپ ہے لیکن اس سے نفرت اس لیے کرتا ہے جو اس نے کیا ہے۔' 

'دی سن' کی رپورٹ کے مطابق، عمر 2 مئی 2011 کو قطر میں تھا، جب اس نے یہ خبر سنی کہ امریکی نیوی سیلز نے ان کے والد کو قتل کر دیا ہے جو پاکستان کے ایک سیف ہاؤس میں چھپے ہوئے تھے۔ آفیشل امریکی موقف یہ ہے کہ بن لادن کی لاش کو ان کی موت کے 24 گھنٹے کے اندر سپر کیریئر یو ایس ایس کارل ونسن سے سمندر میں دفن کیا گیا تھا تاہم  عمر کو اس پر  شک ہے 'بہتر ہوتا کہ میرے والد کو دفن کر دیا جاتا اور یہ معلوم ہوتا کہ ان کی لاش کہاں ہے لیکن انہوں نے ہمیں موقع نہیں دیا۔'مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے اس کے ساتھ کیا کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اسے سمندر میں پھینک دیا لیکن میں اس پر یقین نہیں کرتا۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ اس کی لاش کو لوگوں کو دکھانے  کے لیے امریکہ لے گئے۔'

مزید :

بین الاقوامی -