آئی ایم ایف کیساتھ معاہدہ حکومتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے چار صدارتی آرڈیننس جاری، سرکاری اداروں میں صرف کنٹریکٹ پر بھرتیاں 

      آئی ایم ایف کیساتھ معاہدہ حکومتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) صدر مملکت عارف علوی نے ریاستی ملکیتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے 4آرڈیننس جاری کر دیے ہیں۔ایوان صدر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صدر مملکت نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) ترمیمی آرڈیننس 2023، پاکستان پوسٹل سروسز منیجمنٹ بورڈ ترمیمی آرڈیننس 2023، نیشنل شپنگ کارپوریشن ترمیمی آرڈیننس 2023 اور براڈ کاسٹنگ کارپوریشن ترمیمی آرڈیننس 2023 جاری کیا ہے۔اعلامیے کے مطابق متعلقہ اداروں کے سیکرٹریز نے صدرمملکت کو ان آرڈیننسز کو فوری جاری کرنے کے متعلق بریفنگ دی۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ریاستی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے آئی ایم ایف معاہدے کے تحت آرڈیننس جاری کیے گئے۔آرڈیننس فوری طور پر جاری کیے  کیونکہ  آئی ایم ایف سے حکومتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلیے قانون میں ترامیم کا معاہدہ ہوا تھا۔اعلامیے کے مطابق قانون میں ان ترامیم سے حکومتی اداروں کی کارکردگی بہتر اور شفاف ہوگی۔یہ ترامیم آئی ایم ایف سے معاہدے کا حصہ ہیں۔ان ترامیم کے بعدان اداروں میں بورڈ کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو الگ الگ ہوں گے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ان اداروں کے بورڈز میں آزاد ممبران کا تقرر کیا جائے گا جن ممبران کو تعیناتی کی مدت کی ضمانت دی جائے گی۔ان اداروں کی کارکردگی رپورٹ وزارت خزانہ میں قائم سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کو بھجوائی جائے گی۔اعلامیے کے مطابق بورڈز سالانہ بزنس پلان سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کو بھجوائیں گے۔ان اداروں کے بورڈز کو اپنی رپورٹ پبلک کرنے کا پابند کردیا گیا ہے۔سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ ان اداروں کی کارکردگی رپورٹ کابینہ کمیٹی کو بھجوائے گا۔

آرڈیننس جاری

  اسلام آباد(مانیٹر نگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) حکومت نے اسٹریٹیجک نوعیت کے حساس اداروں کا کنٹرول اپنے پاس رکھنے اور کمرشل سرکاری اداروں کی بتدریج نجکاری کا فیصلہ کیا ہے اس حوالے سے وضع کردہ پالیسی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا۔وزارت خزانہ نے حکومتی اداروں کی اونرشپ اینڈ مینجمنٹ پالیسی 2023ء کا نوٹی فکیشن جاری کردیا جسے میں کہا گیا ہے کہ نئی پالیسی کا اطلاق تمام حکومتی ملکیتی اداروں پر ہوگا، حکومت اسٹریٹیجک نوعیت کے حساس اداروں کا کنٹرول اپنے پاس رکھے گی  تاہم تمام کمرشل سرکاری اداروں کی بتدریج نجکاری کی جائے گی۔نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ بعض اداروں کی تنظیم نو کرکے ان کے مستقبل کا جلد فیصلہ کیا جائے گا، مالی یا آپریشنل طور پر ناکام اداروں کو بیمار کمپنی ڈکلیئر کیا جائے گا، ایسے اداروں کی بحالی، تعمیر نو اور تنظیم نو کا پلان تیار کیا جائے گا،مستقبل میں حکومتی اداروں میں نئی بھرتیاں کنٹریکٹ کی بنیاد پر کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔نوٹی فکیشن کے مطابق چیف فنانشل آفیسرز، سی ای اوز، سیکرٹریز سمیت سینئر مینجمنٹ کے لیے سخت معیار لاگو ہوگا، نوکری پر برقرار رکھنے یا فارغ کرنے کا فیصلہ کارکردگی کی بنیاد پر کیا جائے گا،غیر تسلی بخش کارکردگی پر فارغ کرنے سے پہلے ایک ماہ کا نوٹس دیا جائے گا۔وزارت خزانہ نے نوٹی فکیشن میں کہا ہے کہ پالیسی نفاذ کے چھ ماہ کے اندر حکومتی ملکیتی اداروں کی کیٹگریز تیار کی جائیں گی، تمام حکومتی ملکیتی ادارے انٹرنل آڈٹ کا موثر طریقہ کار وضع کریں گے، نئی پالیسی پر عمل درآمد کے لیے کابینہ کمیٹی برائے حکومتی ملکیتی ادارے قائم کی جائے گی، سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ قائم کرکے اداروں کی کارکردگی کی نگرانی کی جائے گی۔وزارت خزانہ کے مطابق مجوزہ یونٹ سرکاری اداروں کے بزنس پلان کا تجزیہ کرکے سفارشات دے گا، سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ میں قابل اور تجربہ کار سٹاف بھرتی کیا جائے گا، ان اداروں کے آزادانہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا، حکومتی ملکیتی اداروں سے متعلق پالیسی ہر پانچ سال بعد اپ ڈیٹ کرکے جاری کی جائے گی۔دریں اثناحکومت نے دوسرے مرحلے میں 24 اداروں کی نجکاری کا فیصلہ کر لیا۔بجلی کی ترسیلی اور پیداواری کمپنیوں، مینوفیکچرنگ کمپنیوں کی نجکاری ہو گی۔ جام شورو پاور کمپنی، نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کی نجکاری ہو گی۔لاکھڑا پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ، سٹیٹ پٹرولیم ریفائننگ کی نجکاری دوسرے فیز میں ہو گی۔فنانشل انسٹیٹیوشنز، رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنیوں کی نجکاری فہرست میں شامل  ہیں۔سوئی گیس کمپنیوں، زرعی ترقیاتی بنک سمیت 10 مزید اداروں کی نجکاری کی جائے گی۔ان اداروں کی نجکاری کیلئے آئی ایم ایف کے ساتھ بھی مشاورت کی گئی ہے۔

 کنٹریکٹ بھرتیاں 

مزید :

صفحہ اول -