نگران وزیر فنی تعلیم کو اے پی ایس یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نوشہرہ کی تین سالہ کارکردگی رپورٹ پیش

  نگران وزیر فنی تعلیم کو اے پی ایس یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نوشہرہ ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                                                    پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کے نگران وزیر برائے فنی تعلیم،صنعت وحرفت اور امور ضم اضلاع ڈاکٹر عامر عبد اللہ کو شہدائے اے پی ایس یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نوشہرہ کی تین سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی۔ جمعرات کے روز یونیورسٹی کے وائس چانسلر بریگیڈیر ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر ظفر ایم خان نے نگران وزیر سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور انہیں سال 2020 سے لیکر 2023 تک یونیورسٹی کی ترقی اور تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کے حوالے سے جامع رپورٹ پیش کی۔ ملاقات کے دوران وائس چانسلر نے نگران وزیر کو بتایا کہ ملک کی سب سے پہلی اور واحد ٹیکنالوجی یونیورسٹی کیلئے رشکئی سپیشل اکنامک زون اور موٹر وے کے قریب 610 کنال ذاتی اراضی حاصل کی گئی ہے جس کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اس کی اپنی ڈگری تسلیم کی ہے۔اس طرح تحقیقی سرگرمیوں کیلئے یونیورسٹی میں ریسرچ،اینوویشن اور کمرشلائزیشن دفتر ORIC کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے جبکہ ادارہ جاتی معیار کی بہتری کیلئے کوالٹی انہانسمنٹ سیل بھی قائم کیا گیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ اس درسگاہ کے زیر تعلیم اور فارغ التحصیل گریجویٹس کو انڈسٹری میں کام کرنے کی واقفیت حاصل کرنے کیلئے مختلف صنعتوں کیساتھ رابطے استوار کئے گئے ہیں جس کے نتیجے میں اس درسگاہ کے طلبہ نہ صرف ان صنعتوں میں انٹرنشپ کریں گے بلکہ اس اقدام سے اکیڈیمیا اور انڈسٹری کے مابین ایک مؤثر اور مفید باہمی تعاون فروغ حاصل ہو گا۔ انھوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں نیوٹیک کے تعاون سے پیشہ ورانہ تعلیم کے مختلف کورسز متعارف کرائے گئے ہیں جن کے 2 مراحل کامیابی کیساتھ مکمل کئے جا چکے ہیں۔ اسی طرح یونیورسٹی نے صوبے کے فنی تعلیمی کالجز کا یونیورسٹی سے الحاق پر بھی کام شروع کیا ہے جس سے فنی تعلیم کے فروغ میں مزید بہتری آئے گی۔وائس چانسلر نے بتایا کہ طلبہ کو تعلیم و تربیت میں درکار ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی کی جارہی ہے جبکہ  یونیورسٹی میں 200 ملین روپے کے آلات سے لیس جدید لیبارٹریز قائم  ہیں اور 250 ملین روپے کی لاگت سے مزید آلات کی فراہمی پر کام جاری ہے۔اس موقع پر نگران وزیر نے یونیورسٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ادارے کی پوری انتظامیہ اور وائس چانسلر کے منفرد اعلیٰ کردار کو خراج تحسین پیش کیا۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر اس اہم یونیورسٹی میں ترقی کے جاری سفر کو مزید بلندیوں تک لے جائیں گے تاکہ یہاں سے فارغ ہونے والے پیشہ ورانہ علوم اورٹیکنالوجی کے گریجویٹس ملک اور بیرون ملک بہترین روزگار حاصل کرسکیں۔ واضح رہے کہ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر ایم خان تعلیم و تحقیق اور انتظامی امور میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں جنکے تعلیمی میدان میں اعلیٰ خدمات ہیں۔ انھوں نے بطور وائس چانسلر ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں قلیل مدت میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں ہیں۔ ان کا خاندانی پس منظر بھی تعلیم کے شعبے میں اعلیٰ خدمات سے وابسطہ رہا ہے۔ان کے والد گرامی زیدہ ھائی سکول صوابی کے ہیڈ ماسٹر رہے ہیں جنھوں نے اپنے وقت میں علاقے کیلئے تعلیمی میدان میں خدمات کی فراہمی کا ایک وسیع اثاثہ چھوڑا ہے۔