نگران وزیر صحت سندھکا اسپتالوں کی کارکردگی پر عدم اطمینان 

    نگران وزیر صحت سندھکا اسپتالوں کی کارکردگی پر عدم اطمینان 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سکھر(ڈسٹرکٹ رپورٹر)نگران وزیر صحت سندھ ڈاکٹر سعد خالد نے سکھر و لاڑکانہ ڈویژنوں کے اسپتالوں کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا ہے کہتے ہیں کہ سکھر و لاڑکانہ ڈویژن کے اسپتالوں میں ڈاکٹرز اور عملے کی 40سے50فیصدکمی ہے رانی پور کی فاطمہ کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی جس کی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کلیئر ہے کہ اس کے ساتھ زیادتی بھی ہوئی اور اس پر تشدد بھی ہوا ہے تاہم ڈی این اے سیمپل میچ ہونے کی فائنل رپورٹ نہیں آئی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھر کے سول اسپتال کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ فاطمہ قتل کیس میں چاہتے ہیں کہ انصاف کے تمام تقاضے پورے ہوں اور اس کے لیے ورثاکو لیگل سپورٹ فراہم کریں گے اور بہتر سے بہتر وکلاکریں گے ان کا کہنا تھا کہ ہم اسپتالوں میں صحت وصفائی کے انتہائی ناقص انتظامات ہیں ہم جب اسپتالوں میں سہولیات دیں گے تو پھر انتظامیہ سے باز پرس کرسکتے ہیں تاہم اسپتالوں میں ادویات نہ ملنے کی ذمہ دار اسپتالوں کی انتظامیہ ہے ان کا کہنا تھا کہ اسپتالوں میں صحت وصفائی کے حوالے سیلوگ اپنی قومی ذمہ داری ادا کرنا بھول گئے ہیں ہمیں اپنی ذمہ داریوں کے لیے بھی جاگنا پڑے گا ہم اسپتالوں کے حوالے سے ایسا سسٹم بنا رہے ہیں کہ وزیر صحت کراچی سے بیٹھ کر سندھ کی اسپتالوں کی مانیٹرنگ کرسکیں گے کہ اسپتالوں میں کیا کیا ہورہاہے ان کا کہنا تھا کہ سکھر سول اسپتال کی سی ٹی اسکین مشینوں کے حوالے سے تمام کاروائی پوری کردی ہے ایک ہفتے کے اندر سی ٹی مشنیں پہنچ جائیں گی جبکہ. ڈائریکٹر فنانس کی تعیناتی کے حوالے سے بھی کراچی جاکر کاروائی مکمل کروں گا اور انشااللہ ہفتے کے اندر تعیناتی ہوگی۔