جناب زرداری کو سلام

   جناب زرداری کو سلام
   جناب زرداری کو سلام

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  الیکٹرانک میڈیا پر جناب زرداری کاحال میں نشر ہونے والا انٹرویو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا ہاتھ موجودہ ملکی سیاسی صورت کی نبض پر ہے۔اسی لئے اِس بار اب تک ”ایک زرداری سب پر بھاری“ کا نعرہ لگا ہے نہ ہی ”شیروں کا شکاری، زرداری“ کا۔ اس کے برعکس جناب حامد میر کو دیئے گئے انٹرویو میں وہ نواز شریف کی زبان بولتے پائے گئے ہیں کہ ملک کو استحکام کی ضرورت ہے اور انتخابات کے بعد بہت سے سمجھوتے کرنا پڑیں گے۔ 

دراصل فتنہ خان کی فتنہ طرازیاں ملکی سیاست کو دہلائے ہوئے ہیں۔کیا نواز شریف، کیا مولانا فضل الرحمن اور کیا آصف زرداری، ہر کوئی اس خوف کا شکار ہے کہ اگر 8 فروری کو ہونے والے انتخابات متنازع ہو گئے تو کیا ہو گا۔ یہی ایک خوف  ایم کیو ایم اور باپ پارٹی کو نون لیگ کے قریب لے گیا ہے اور نواز شریف کو مولانا فضل الرحمن کے پاس لے گیا ہے۔ یہی خوف پیپلز پارٹی کو پی ٹی آئی کے قریب نہیں آنے دے رہا ہے۔  

1977ء کے عام انتخابات میں بھی ایسا ہی ہوا تھا جب نو ستاروں کی مہم نے ذوالفقار علی بھٹو ایسے مضبوط سیاسی لیڈر کی نہ صرف حکومت کو ہلا کر رکھ دیاتھا بلکہ خود بھٹو کو بھی پھانسی گھاٹ تک لے گئی تھی۔ اس کے باوجود کہ تب کی اسٹیبلشمنٹ قومی اتحاد کی پشت پناہ تھی اور اب کی اسٹیبلشمنٹ فتنہ خان کی مقبولیت کی راہ میں دیوار بنی ہوئی ہے،مولانا فضل الرحمن کا early warning system بار بار بتارہا ہے کہ اب بھی عالمی اسٹیبلشمنٹ فتنہ خان کو اقتدار میں لانے کے لئے سرگرم عمل ہے۔ امریکہ سمیت یورپی یونین کے سفیروں کی جیل میں فتنہ خان سے ملاقاتوں کی کہانی اس پس منظر میں اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ اگر واقعی پاکستان میں اگلے عام انتخابات اسی طرح متنازع ہو گئے جس طرح 1977ء میں ہوئے تھے تو نتائج بھی ویسے خوفناک برآمد ہو سکتے ہیں۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل جب ذوالفقار علی بھٹو نے 1970ء کے انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کیا تو اس کا نتیجہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں نکلا تھا۔اِس کا مطلب یہ ہے کہ انتخابات کسی بھی قوم کے لئے جانگسل مرحلے سے کم نہیں ہوتے ہیں۔اس عمل میں قوم کا مزاج ٹیسٹ ہوتا ہے اور کوئی بھی ایسا نتیجہ جو قوم کے مزاج نازک پر گراں گزرے ملکی صورتحال کو خوفناک نہج پر لے جایا کرتا ہے، خاص طور پر قومی مزاج کو پراپیگنڈے کی آنچ سے گرم کیا گیا ہو۔

زرداری صاحب کے انٹرویو کو اس تناظر میں دیکھا جائے تو ان کی ہر بات کے معنی و مطلب بدل جاتے ہیں۔ ان کا صبروتحمل بہت کچھ کہہ گیا۔ انہوں نے بلاول بھٹو کی طرح نون لیگ پر تابڑ توڑ حملے کئے نہ ندیم افضل چن کی طرح پنجاب کی نگران حکومت کو لتاڑا،بلکہ جس انداز سے انہوں نے دونوں محاذوں پر نواز شریف اور سید محسن نقوی کا دفاع کیا وہ ان کے سیاسی شعور کا کھلا ثبوت تھا جو ان کی جانب سے ادا ہونے والے ایک ایک لفظ سے عیاں ہوا اور جناب حامد میر کو جرأت نہ ہوئی کہ ان سے براہ راست عمران خان کے حق میں کوئی جملہ لے سکیں،بلکہ سچ پوچھئے تو انٹرویو کے ایک مرحلے پر جب نگران وزیراعلیٰ پنجاب سید محسن نقوی کی حکومت زیر بحث تھی اور جناب زرداری کہہ رہے تھے کہ وہ محسن نقوی کو آج بھی اپنا بیٹا کہتے ہیں تو جناب حامد میر نے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے کہا کہ ندیم افضل چن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ تو کہتے ہیں کہ پنجاب میں انتظامیہ نون لیگ کے اشاروں پر کام کر رہی ہے تو زرداری صاحب نے برجستہ کہا کہ ندیم افضل چن کو تو کچھ بھی نہیں پتہ ہے۔ اس کے بعد حامد میر کے پاس بریک لینے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ زرداری صاحب نے یہ بات کہہ کر واضح کر دیا کہ وہ کسی کو بھی انتخابات کو متنازع نہیں بنانے دیں گے، خواہ وہ ندیم افضل چن ہی کیوں نہ ہو جو پی ٹی آئی کی حکومت میں پیپلز پارٹی چھوڑ کر عمران خان کے ساتھ جا کھڑے ہوئے تھے۔ 

ایک ندیم افضل چن ہی کیا، نون لیگ کے شاہد خاقان عباسی بھی تسلسل سے کہہ رہے ہیں کہ آئندہ عام انتخابات مسائل کا حل نہیں دیں گے جب تک کہ تمام سٹیک ہولڈرز ایک میز پر بیٹھ کر اس بات پر اتفاق رائے قائم نہیں کرتے کہ ملک کو آگے کس طرح لے جانا ہے۔ پی ٹی آئی حلقے سمجھتے ہیں کہ عباسی صاحب یہ بات کر کے عمران خان کو سیاسی عمل کا حصہ بنانے کی راہ ہموار کر رہے ہیں، اس لئے وہ بھی ان سے خوش ہیں اور خود عباسی صاحب کا حال یہ ہے کہ مخالفین کوشش کے باوجود ان سے نواز شریف کے خلاف ایک بھی بیان نہیں دلوا سکے ہیں۔ 

اب اگر ندیم افضل چن اور شاہد خاقان عباسی انتخابات سے قبل انتخابات کے انعقاد پر عدم اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں تو وہ قوتیں جوانتخابات کو متنازع بنانے پر تلی ہوئی ہیں، ان کا کام تو مزید آسان ہورہا ہے۔ ایسے میں اگر جناب زرداری بھی ان کے ہم زبان بن جائیں تو انتخابات کا عمل مکمل طور پر اپنی افادیت کھو سکتا ہے۔ اس لئے ان کا حالیہ انٹرویو خاصے کی شے ہے، جس میں انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کی بھی تعریف کی اور جب اس سلسلے میں بلاول بھٹو کی تنقید کا تذکرہ ہوا تو انہوں نے کہا کہ بلاول کو ابھی مزید تربیت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے باوجود کہ بلاول ان سے زیادہ پڑھے لکھے اور زیادہ اچھے مقرر ہیں، لیکن اگر وہ حکیم کے بیٹے کی طرح پٹی کرنے کی بجائے اگر مریض کی مرض دور کر آئے تو انہیں گوشت کی بجائے دال روٹی پر گزارا کرنا پڑے گا۔ 

اب تک کی صورت حال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے حامی حلقے ڈٹ کر عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بات یہاں تک ہوتی تو ٹھیک تھی، وہ تو فوج کے خلاف بھی بھرے پڑے ہیں۔ اس دماغی حالت کے ساتھ اگر انہیں انتخابی میدان میں اتارا گیا تو اسٹیبلشمنٹ کو لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں اور پس پردہ کارفرماقوتوں کے لئے بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا والی صورت حال ہو سکتی ہے۔ اس لئے عمران خان کے علاوہ تمام سٹیک ہولڈروں کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑ رہا ہے۔

  

مزید :

رائے -کالم -