ادارے حدود میں رہیں تو تصادم نہیں ہوگا،یوسف رضا گیلانی

    ادارے حدود میں رہیں تو تصادم نہیں ہوگا،یوسف رضا گیلانی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 ملتان(خصو صی   ر پورٹر)    سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ذولفقار علی بھٹو نے پہلی مرتبہ عوام کو طاقتور بنایا، پیپلز پارٹی کے قیام کے بعد پہلی بار زمیندار جاگیردار کسان اور ہاری کا ووٹ برابر ہوگیا، رات و رات بننے والی جماعتیں رات و (بقیہ نمبر43صفحہ6پر)

رات ختم ہو جاتی ہیں۔ پیپلز پارٹی ایک نظریاتی جماعت ہے جو آج بھی عوام میں مقبول ہے اگر آئین اور پارلیمنٹ مضبوط ہوگی تو پاکستان مضبوط ہو گا۔ معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام لایا جائے، دہشت گردی اور معاشی عدم استحکام کے خاتمے کے لیے صرف پاکستان پیپلز پارٹی ہی وہ جماعت ہے جو ان دونوں مسائل پر قابو پاسکتی ہے۔ ادارے اگر حدود میں رہ کر کام کریں گے تو تصادم نہیں ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی وزیر خارجہ کے طور پر ذولفقار علی بھٹو نے کوششیں کی، الیکشن کے لیے پہلے بھی تیار تھے اب بھی تیار ہیں، عوام کے ووٹ کی طاقت سے اقتدار میں آئیں گے چور راستے سے نہیں۔ ایک مسئلہ دہشتگردی دوسرا معاشی صورتحال ہے، سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اسلام محبت پیار امن کا درس دیتا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی اپنے دور اقتدار میں او آئی سی بنایا گیا، آئین مضبوط تو پاکستان مضبوط ہوگا۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے عوام کے حقوق کے لیے جان بھی دے دی،محترمہ کے نظریہ کس دوبارہ بحال کیا تو مسائل آئے،عدلیہ بحالی تحریک شروع کی۔ قانونی کی بالادستی، آئین اور اداروں کا احترام ہوگا تو کوئی مشکل نہیں، تمام ادارے آئینی دائرہ میں رہتے ہوئے کام کریں تو کوئی تصادم نہیں۔اپنے دور میں زیادہ تر وقت پارلیمان کو دیا، چارٹر آف ڈیموکریسی نے تمام اختیارات پارلیمنٹ کو دیے، سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ نظریہ رہ جاتا ہے، رات و رات بننے والی پارٹیاں رات و رات ختم ہو جاتی۔ذولفقار علی بھٹو کے منشور کی آج زیادہ ضرورت ہے، بابا بلھے شاہ کی کیلی گرافی اپنے بیڈ روم میں لگائی،" بلھیا آسان مرنا نئیں گور پیا کوئی ہور"، ذولفقار علی بھٹو کو بین الاقوامی شہرت حاصل تھی، بار و بینچ کی بھی بہت کاوشیں ہیں، 1973 کے متفقہ آئین 128 ووٹ سے بنا تھا، آدھے ایم این اے ایسٹ پاکستان اور آدھے ویسٹ پاکستان میں رہ گئے تھے، احساس محرومی چھوٹے علاقوں میں رہ گئی تھی، مشرقی پاکستان والے سوچتے تھے کہ ہمارے حقوق مغربی پاکستان نے لیے،جبکہ صوبے سوچتے تھے کہ پنجاب کا فیصلہ سب پر لاگو ہوتا ہے، جس پر ذولفقار علی بھٹو نے تمام صوبوں کو ایک جیسی حیثیت کے لیے سینیٹ بنایا، صوبوں کے حقوق کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے ایک جیسی نمائندگی دی گئی۔ 56 ویں یوم تاسیس کے موقع پر تمام کارکنوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، یوم تاسیس کسی پارٹی کے لیے بہت بڑا ایونٹ ہوتا ہے، پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس دیگر سیاسی جماعتوں سے مختلف ہے، یوم تاسیس ملک بھر میں ہوا ہے، ملتان کا یوم تاسیس سب کو یاد ہے کیونکہ ملتان کو بند کیا گیا تھا،تین سال قبل یوم تاسیس پر بجلی بھی بند کردی گئی تھی، ٹرک بند کیے، جنریٹر والوں کو روکا گیا،ایک ٹرک پر کھڑے ہوکر گھر پر خطاب کیا، ہائیکورٹ جانا پڑا، ایک دن کا یوم تاسیس ہفتے میں بدل گیا، ذولفقار علی بھٹو ایک تحریک کا نام جذبے کا نام ہے، تقریب میں صدر ڈسٹرکٹ بار سید وحید رضا بخاری اور جنرل سیکرٹری سید علی الطاف گیلانی، سابق جسٹس حبیب اللہ شاکر، اشتیاق کاظمی سمیت وکلا کی کثیر تعداد شریک ہوئی