پارٹی الیکشن ، کل سے تحریک انصاف کے باقاعدہ منتشر ہونے کا رسمی آغاز ہو گا:حفیظ اللہ نیازی نے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا

پارٹی الیکشن ، کل سے تحریک انصاف کے باقاعدہ منتشر ہونے کا رسمی آغاز ہو ...
پارٹی الیکشن ، کل سے تحریک انصاف کے باقاعدہ منتشر ہونے کا رسمی آغاز ہو گا:حفیظ اللہ نیازی نے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور ( خصوصی رپورٹ )عمران خان کی سیاست کا استعمال ان کی ذات کے علاوہ تحریک انصاف میں اور کوئی نہیں کر سکتا،  پارٹی کو ایسے استوار کیا ہے کہ انکی ذات کو منہا کریں تو پارٹی ناقابل استعمال رہے۔تحریک انصاف بحکم الیکشن کمیشن بروز ہفتہ ( کل) پارٹی الیکشن کا انعقاد کر رہی ہے ۔ یہ پارٹی کے باقاعدہ منتشر ہونے کا رسمی آغاز ہو گا۔ سینئر تجزیہ کار و کالم نگار حفیظ اللہ نیازی نے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا ۔

"جنگ " میں شائع ہونیوالے اپنے کالم بعنوان "عمران خان کا انصافی بحران" میں حفیظ اللہ نیازی لکھا ہے کہ عمران خان کواپنے کسی ایسے سیاسی مستقبل سے دلچسپی نہیں جہاں اُنکی ذات مبارکہ پوری شدومد سے موجود نہ ہو۔  سیاست ایک ایسی سائنس جہاں سیاسی کیڑا ’’آئیڈیلزم‘‘ کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ باقی سیاست تفریحِ طبع اور گلیمر کے حصول کے سوا کچھ نہیں۔ آئیڈیلزم ہمیشہ نظریہ یا کسی مقصد کا محتاج ہوتا ہے۔ نظریاتی سیاست بندے کی ذات کو منہا رکھتی ہے جبکہ عمران خان کی سیاست ذات کے گرد گھومتی ہے۔ بلاشبہ آج کی عمومی سیاست مکمل طور پر سیاستدانوں کی ذاتِ مبارکہ کی تزئین و زیبائش تک محدود ہے۔ 

اپنے کالم میں حفیظ اللہ نیازی نے مزید لکھا کہ 10 اکتوبر 2022 کو عمران خان نے میانوالی سے اکلوتی نشست جیتی تو انکی سیاست کو جیسے ’’تنکے کا سہارا‘‘ مل گیا۔ 1996 میں سیاست میں وارد ہوئے تو سیاسی پذیرائی نہ مل سکی۔ اگرچہ 1992 کا ورلڈ کپ اور 1994 شوکت خانم ہسپتال جیسے کارنامے موجود ، اپنا اثر نہ جما سکے۔1997 اور 2002 کے الیکشن میں تضحیک آمیز شکست ہوئی کہ سیاسی وجود بن کھلے مرجھانے کو تھا ۔ دونوں الیکشن میں ’’آدھا فیصد‘‘ کے لگ بھگ ووٹ پڑے ہونگے ۔ ایسے موقع پرایک نشست کی جیت عمران خان کی ڈوبتی سیاست کیلئے گویا کہ ’’شہتیر کا سہارا‘‘ بنی۔ عمران خان کے’’قومی ہیرو امیج‘‘ کی پذیرائی میانوالی میں کچھ زیادہ تھی۔ البتہ سرزمین میانوالی سے تعارف واجبی سے بھی کم تھا۔ 

کالم کے آخر میں حفیظ اللہ نیازی نے لکھا کہ  بد قسمتی سے آج عمران خان کے پاس مقبول سیاست آئی تو منظم یا نیم منظم سیاسی پارٹی سے وہ کوسوں دور ہیں۔ عمران کی ایک بد قسمتی اور بھی، انکی سیاست کا استعمال ان کی ذات کے علاوہ تحریک انصاف میں اور کوئی نہیں کر سکتا۔ عمران خان نے احتیاط سے پارٹی کو ایسے استوار کیا ہے کہ انکی ذات کو منہا کریں تو پارٹی ناقابل استعمال رہے۔تنگ آمد بجنگ آمد، تحریک انصاف بحکم الیکشن کمیشن بروز ہفتہ ( کل) پارٹی الیکشن کا انعقاد کر رہی ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ پارٹی کے باقاعدہ منتشر ہونے کا رسمی آغاز ہو گا۔ تفصیل، یار زندہ صحبت باقی، ان شاء اللہ باقی آئندہ۔